خواب محبت اور زندگی/ شہناز احد

خواب محبت اور زندگی ہماری دوست مہناز کی زندگی کی وہ کہانی ہے جو اچھے برے موسموں کے سب رنگ دکھا کے گزر چکی ہے۔ اس کہانی میں بچپن کی سیپی میں بند ان کا رنگوں اور تتلیوں سے بھرا وہ دوربھی سانس لے رہا ہے جب زندگی کی پیشانی پے کوئ سلوٹ نہیں ہوتی،جب ہنسی کے غبارے بے سبب ہی اُڑ تے ,پھٹتے ہیں۔ اسی بچپن کی سیپی میں جو ریت در آئ اور بچپن کا موتی وقت سے پہلے باہر آگیا وہ قصہ بھی انھوں نے نہ صرف بہت دلیری سے بیان کیاہے اس کا تجزیہ بھی خوب کیا ہے۔ اپنے دوستوں میں،میں مہناز کا شمار ان لوگوں میں کرتی ہوں جو ہر وقت نامعلوم خوف کی شاخ پے بیٹھے کپکپاتے رہتے ہیں اور یہ سوچ سوچ کے ادھ مو ۓہورہے ہوتے ہیں کہ یوں ہوگا تو کیا ہوگا ، ووں ہوگا تو کیا ہوگا۔ ان کے بارے میں یہ الفاظ میں اس تعلق کے سہارے پے لکھ رہی ہوں جو ہمارے درمیان ہے اسی تعلق کے سہارے میں انھیں وقتا فوقتا یہ دھمکیاں بھی دیتی رہتی ہوں کہ تمہارا قتل میرے ہاتھوں ہوگا۔ رب نے مجھے ایک خوبی یا خامی یہ دی ہے کہ میں بہت کم باتوں، لوگوں اور واقعات سے گھبراتی ہوں۔ اس خوبی یا خامی کی بنا زندگی میں کئ بار بہت زخم بھی کھاۓ، دکھ بھی اُٹھاۓ ہیں۔ دکھ کا وہ موسم گزر جانے کے بعد میں نے ان واقعات،حادثات اور افراد کو زندگی کے تجربات اور سبق کے خانے میں ڈال کے آنکھیں بند کرلیں۔ جس ایک بات سے میں بہت گھبراتی ہوں وہ دوستوں کے بارے میں بات کرنے سے اور بات کچھ یوں ہو کہ دوستوں کو ادھیڑا جاۓ۔ مہناز اور ان کی حالیہ شائع شدہ کتاب کے بارے میں بات کو آگے بڑھانے سے پہلے میں یہ بھی واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ہم دونوں کی دوستی کو اب پچاس سال ہوا چاہتے ہیں۔ اس پچاس سالہ دوستی میں مہناز غالبا نو، دس سال چین کے نلکوں کا پانی پیتی رہیں لیکن ہمارا رابطہ رہا۔ خواب ،محبت اور زندگی میں جس کا کتابی نام love,Life and the left ہے۔ ان کا بچپن،نوجوانی،جوانی اسُ کے بعد اور اُس کے بعد کی تمام زندگی بند ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ لکھنے کی مختلف اقسام میں سے اپنی گزری کو لکھنا،گزری راہوں پر پھر سے چلنا،اس راہ کے پتھروں کو دوبارہ ترتیب دینا،جھڑے پتوں کو یکجا کرنا،سوکھے پھولوں کو سونگھنا،بہت پیچھے رہ جانے والے راستوں کو پھر سے روشن کرنا،وہ گھر،کمرے،برآمدے،آنگن،گلیاں ، چوبارے جو زندگی کی راہ میں کہیں دور کھڑے رہ گۓ۔ ان کی کھڑکیاں، روشن دان کھولنا، پردے چقیں پلٹنا،صحن برآمدوں کی دھول کو سمیٹنا، راکھ میں دبی چنگاریوں کو پھر سے ہوا دینا نہ صرف ہوا دینا ان چنگاریوں کو باقاعدہ سلگانا اُس سلگن کے دھوئیں میں بنا آنسو بہاۓ گزرے دنوں کی ہانڈی پکانا خاصہ دل گردے کا کام ہے۔ مہناز کے جثے کو دیکھتے ہوۓنہیں لگتا کہ وہ اتنی ہمت والا کام کر سکتی ہیں۔ اس کتاب میں این ایس ایف سے لے کے مہناز کی زندگی کے وہ سارے نظریے اور انقلاب بند ہیں جن کے خواب دیکھتے، دیکھتے انُ سمیت ہم سب کے بالوں میں سفیدی در آئ، ہماری ہڈیوں نے آنکھیں دکھانی شروع کردیں،اور بینائ نے سہارے مانگ لئے، بہت کچھ آگے پیچھے ہوگیا،حتی کے ہم نے خود پے یہ کہہ کے ہنسنا شروع کردیاکہ “ کون سا انقلاب، کیسا انقلاب،ایک سرخ انقلاب سرمایہ دار ہوگیا اور دوسرا ٹکڑۓ، ٹکڑے”۔ اپنے بچپن کے آنگن میں بھاگتے دوڑتے ہو ۓانھوں نے جس سچائی اور ہمت سے اپنے والدین کی ہنستی گاتی زندگی میں رونما ہونےوالے والد کے حادثاتی عشق اور اس کے مضمرات کا تزکرہ کیاہے۔ سچائ کاوہ اظہار اصل میں ان سب کی سیدھی سیدھی چلتی زندگیوں میں ببول کاوہ کانٹا ہے جس کے اثرات ایک لمبے عرصے تک ان سب نے مل کے سہے۔ زندگیوں کی اس کہانی میں اُن کی والدہ کا کردار ایک بہت ہی مضبوط اور بے مثال کردار ہے۔ ان کی والدہ کا اپنے شوہر کے کھلے،چھپے عشق کے دنوں میں چار بچوں کے ساتھ کھڑے رہنا،نوکری کرنا،بچوں کی پرورش اور سوتن کاسامنا، ستر سال پہلے بہت ہی جواں مردی کاکام ہے۔ بحثیت ایک عورت کے ان کو جتنا بھی سراہا جاۓ کم ہے۔ ان کی ہمت اور جانفشانی اسی ایک روپ میں ختم نہیں ہوئ۔ ان کا کردار اپنے شوہر کے لوٹ کے بدھو گھر کوآۓ کے مصداق آگے بھی بہت طاقتور ہے۔ بچوں کی تعلیم، گھروں کی تبدیلی،اس تبدیلی کے مضمرات سے سمجھوتا اور گھر پیارے گھر کو سنبھالے رکھنا بہت ہی قابل ستائش ہے۔ مہناز اس سب کے درمیاں اپنے تعلیمی سلسلوں،ان سے جڑی اچھی بری یادوں کابھی تزکرہ کررہی ہیں۔ لائل پور سے لاہور، لاہور سے کراچی وہاں سے شکار پور پھر حیدرآباد اور دوبارہ دریاۓ سندھ کے سنگ، سنگ چلتی وہ ڈیلٹائ شہر کراچی پہنچنے تک کی ساری یادوں میں پڑھنے والوں کو شریک بنا رہی ہیں۔ ہر تعلیم حاصل کرنے والے کی زندگی میں اس کا تعلیمی دور رنگوں، تتلیوں، بلبلوں اور خوشبوؤں سے بھرا دور ہوتا ہے۔ ان کی تحریر بھی ان سب سے مزین ہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ستر کی دہائی کے ابتدائ برسوں میں کچھ کر گزرنے کی دھن میں ان کی کاوشوں کابھی تزکرہ ہے۔ وہ یہ بھی بتارہی ہیں کہ ان کے والد کو بس ان کا گھر آباد کرنے کی دھن تھی اور وہ ان کے کام کرنے وغیرہ کے خلاف تھے۔ اس موقع پربھی والدہ ان کی ڈھال بنتی ہیں اور انھیں پڑوس میں آباد شوکت صدیقی صاحب کے گھر ملاقات کے لئے لے جاتی ہیں۔ یہ ملاقات ان کی صحافیانہ زندگی کاآغاز بنتی ہے۔ وہ مساوات میں انٹرویو کے لئے جاتی ہیں۔ ان کی ملاقات میگزین ایڈیٹر احفاظ الرحمن سے ہوتی ہے۔ وہ انھیں نہ صرف صحافت کے کچھ رموز سمجھاتے ہیں جلد ہی زندگی کے اسرار اور رموز بھی سمجھانے لگتے ہیں۔وہ لکھتی ہیں کہ چین سے تازہ، تازہ واپس آے ہوا احفاظ سراپا انقلاب اور احتجاج تھے۔ انقلاب کے خواب دیکھنے والی مہناز کو وہ ایسے بھاۓ کہ پیچھے کے دروازے کچھ خود بند ہوگۓ کچھ انھوں نے بند کردئیے۔ عام زندگی کے تما م تر تضادات کے باوجود مہناز —احفاظ کی ہوگئیں۔ زندگی کی کہانی اتنی ہی نہیں ہے کہ وہ احفاظ کی ہوگئیں۔ اس موڑ سے ہی دراصل ان کی زندگی کی زگ زیگ شروع ہوئ۔ وہ زگ زیگ کیاتھی۔ میں نے اگر یہاں سب کچھ اشاروں کنایوں میں بتادیا تو پھر بچے گا کیا۔ ان کی زندگانی کے قصوں میں صحافیوں کے کارناموں کا تزکرہ بھی ہے۔ میں اس بات کا ذکر نہیں کر رہی۔ میں ظالم ضیاء اور کے سیاہ دور پے سیاہی پھیرتے ہوۓ بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ “ یہ دو عورتوں کی بہادری ثابت قدمی صبر اور ہمت کی کہانی ہےایک اپنے وقت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جی گئیں۔ دوسری نے شادی کے نتیجے میں نوے کے زاویے پے مڑنے والی زندگی کو حتی الامکان مسکراتے ہو ۓ گزارنے کی بھرپور کوشش کر تے ہوۓزندگی کے قدم لڑ کھڑ انے نہیں دئیے۔ “ یہ سب میری راۓ ہے۔ اس سے تمام پڑھنے والوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اپنے اپنے اتفاق کا اظہار کتاب پڑھ کے کرئیے۔ زندگی کے رنگوں سے بھرپور سرورق والی یہ کتاب تقریبا سوا دوسو صفحات پے مشتمل ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں