علم کا غرور، فکری تعصب اور اختلاف کا تہذیبی زوالعلم انسان کو حقیقت کی تلاش کا راستہ دکھاتا ہے، لیکن جب یہی علم انسان کے اندر اپنی برتری کا احساس پیدا کر دے تو وہ روشنی کے بجائے ایک ایسا پردہ بن جاتا ہے جس کے پیچھے اسے اپنی ذات کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ المیہ یہ نہیں کہ کوئی شخص قدیم علوم کا ماہر ہے یا جدید تحقیق سے واقفیت رکھتا ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے علم کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ اگر علم انسان میں انکسار، وسعتِ نظر اور حقیقت کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے کے بجائے دوسروں کو حقیر سمجھنے کا ذریعہ بن جائے تو پھر اس کی معلومات کی کثرت بھی اس کی فکری پختگی کی دلیل نہیں بن سکتی۔
ہمارے روایتی مذہبی حلقوں میں بعض اوقات ایسا رویہ دکھائی دیتا ہے کہ منطق، نحو، فقہ اور دوسرے مروجہ دینی علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ علم کی تمام راہیں اسی کے گرد آ کر ختم ہو جاتی ہیں۔ اپنے اسلاف کی علمی خدمات اور تاریخی کارناموں پر فخر کرتے کرتے وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی روایت سے باہر کسی شخص کی بات سننا بھی اپنی علمی حیثیت کے خلاف محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ کسی علمی روایت سے وابستگی اس بات کا تقاضا نہیں کرتی کہ انسان دوسری روایتوں سے استفادے کے دروازے بند کر دے۔ قدیم علوم ہماری علمی میراث ہیں، مگر ان کی قدر و منزلت کا مطلب یہ نہیں کہ انسانی علم کے دوسرے شعبے بے معنی ہو گئے ہیں۔ اپنے علمی ورثے کا احترام اور دوسروں کے علم کا اعتراف ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک متوازن ذہن کی دو بنیادی خصوصیات ہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنی ہی توجہ چاہتا ہے۔ جدید علوم سے وابستہ بعض افراد بھی اپنی علمی تربیت، سائنسی معلومات یا عصری تعلیم کی بنیاد پر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مذہبی فکر ایک فرسودہ تصور ہے جسے چند طنزیہ جملوں، سطحی اعتراضات یا غیر محتاط تبصروں سے رد کیا جا سکتا ہے۔ وہ مذہبی تصورات کا مطالعہ ان کے اصل ماخذ، تاریخی پس منظر، اصطلاحی مفہوم اور علمی روایت کو سمجھے بغیر کرتے ہیں، پھر اپنے محدود فہم کو حتمی فیصلہ بنا کر پیش کر دیتے ہیں۔ اس طرزِ فکر میں مسئلہ جدید علم نہیں، بلکہ اس علم سے پیدا ہونے والا وہ احساسِ برتری ہے جو انسان کو اپنی علمی حدود سے بے خبر کر دیتا ہے۔ جس طرح محض چند دینی کتابیں پڑھ لینے سے کوئی شخص تمام علوم کا ناقد نہیں بن جاتا، اسی طرح جدید تعلیم کی ڈگری حاصل کر لینے سے کسی کو مذہبی فلسفے، فقہی روایت یا دینی تاریخ پر فیصلہ صادر کرنے کا غیر مشروط اختیار نہیں مل جاتا۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ مذہبی فکر پر تنقید کرنا اور مذہبی فکر کو تحقیر کا نشانہ بنانا دو الگ باتیں ہیں۔ مذہبی نظریات، تاریخی تعبیرات اور فقہی آرا پر سوال اٹھانا علمی حق بھی ہے اور بعض حالات میں فکری ضرورت بھی۔ لیکن کسی نظریے پر تنقید اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب ناقد پہلے اسے اس کی اصل صورت میں سمجھے، اس کے دلائل سے واقف ہو اور اس کے نمائندہ اہلِ علم کی آرا کو درست تناظر میں دیکھے۔ اگر کوئی شخص کسی مذہبی اصطلاح کو اس کے فنی مفہوم سے الگ کر کے پیش کرے، کسی عالم کی بات کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ دے یا صدیوں پر محیط علمی بحث کو چند جملوں میں سمیٹ کر مضحکہ خیز بنا دے تو یہ تحقیق نہیں، تحقیق کی صورت میں پیش کیا گیا تعصب ہے۔ اسی طرح مذہبی شخصیات یا ان کے پیروکاروں کے بارے میں نفرت انگیز زبان استعمال کرنا کسی دلیل کو مضبوط نہیں کرتا، بلکہ اکثر اس کی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے۔
یہی اصول مذہبی فکر کے حامل افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کسی جدید نظریے کو سمجھے بغیر اسے مغرب کی سازش قرار دینا، سائنسی تحقیق کو محض الحاد سے جوڑ دینا یا جدید تعلیم حاصل کرنے والوں کو اخلاقی اور فکری طور پر کمتر سمجھنا بھی اسی ذہنی تنگی کی دوسری شکل ہے۔ جدید علوم میں انسانی معاشرت، نفسیات، معیشت، سیاست، ٹیکنالوجی اور قدرتی مظاہر کے بارے میں ایسا علم موجود ہے جس سے مذہبی معاشروں کو بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہر جدید نظریہ درست نہیں، لیکن ہر نئی بات محض نئی ہونے کی وجہ سے غلط بھی نہیں ہو جاتی۔ جس طرح کسی نظریے کی قدامت اس کی صداقت کی مکمل ضمانت نہیں، اسی طرح اس کی جدت اس کے باطل ہونے کا ثبوت نہیں۔ دونوں صورتوں میں فیصلہ دلیل، تحقیق اور حقیقت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ پہلے سے قائم تعصبات کی بنیاد پر۔
ہمارا اصل بحران اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب علم کی جگہ شناخت لے لیتی ہے۔ ایک شخص اپنی مذہبی وابستگی کو اپنی برتری کی دلیل بناتا ہے، دوسرا اپنی جدید تعلیم کو دوسروں پر فوقیت کا معیار سمجھتا ہے۔ ایک اپنے اسلاف کے نام پر سوال سے گریز کرتا ہے، دوسرا اپنے پسندیدہ جدید مفکرین کے نام پر اختلاف کو جہالت قرار دیتا ہے۔ ایک مخالف کی بات سننے سے پہلے اس کے عقیدے اور مسلک کو دیکھتا ہے، دوسرا کسی شخص کی مذہبی شناخت جان کر اس کی ہر بات کو غیر عقلی سمجھنے لگتا ہے۔ دونوں اپنے اپنے حلقے میں داد وصول کرتے ہیں، لیکن حقیقت کی تلاش میں ایک ہی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں: وہ دلیل کو اس کے وزن سے نہیں، اسے پیش کرنے والے کی شناخت سے پرکھتے ہیں۔ یوں علمی گفتگو کا میدان تحقیق کے بجائے گروہی وفاداریوں کی کشمکش بن جاتا ہے۔
اس رویے کا سب سے زیادہ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب اختلاف کو سمجھنے کے بجائے اسے نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے، جہاں پیچیدہ علمی موضوعات کو مختصر جملوں، طنزیہ ویڈیوز اور اشتعال انگیز سرخیوں میں بدل کر پیش کیا جاتا ہے۔ مذہبی حلقوں میں کسی مخالف نظریے کو گمراہی کے چند الفاظ میں سمیٹ دیا جاتا ہے، جبکہ بعض جدید تعلیم یافتہ حلقوں میں مذہبی روایت کو جہالت اور پسماندگی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دونوں طرف ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے مخاطب کو سمجھانا نہیں، نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔ انہیں حقیقت کی پیچیدگی سے زیادہ اپنی بات کی مقبولیت عزیز ہوتی ہے۔ لیکن کسی نظریے کا مذاق اڑا دینا اس کا علمی رد نہیں، اور کسی سوال کرنے والے کو برا بھلا کہنا اس کے سوال کا جواب نہیں۔ دلیل کی جگہ تحقیر لے لے تو اختلاف سے علم پیدا ہونے کے بجائے معاشرے میں بدگمانی بڑھتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ احترام کے نام پر تنقید کا دروازہ بند کر دیا جائے یا ہر مذہبی اور جدید نظریے کو یکساں طور پر درست تسلیم کر لیا جائے۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ غلطی کو غلطی کہا جائے، کمزور دلیل کو کمزور ثابت کیا جائے اور ناقابلِ قبول تصور پر واضح اعتراض کیا جائے۔ لیکن اس عمل میں انصاف، علمی احتیاط اور شائستگی کو قربان نہ کیا جائے۔ مذہبی فکر کے حامل شخص کو جدید علوم کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ان کی بنیادی اصطلاحات اور معتبر تحقیقات سے واقف ہونا چاہیے، جبکہ جدید علوم سے وابستہ ناقد کو مذہبی روایت پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے بنیادی متون، علمی مباحث اور تاریخی تناظر کو سمجھنا چاہیے۔ ہر شخص ہر علم کا ماہر نہیں ہو سکتا، مگر ہر سنجیدہ انسان اتنی دیانت ضرور اختیار کر سکتا ہے کہ جس موضوع کو پوری طرح نہیں جانتا، اس پر حتمی فیصلہ صادر کرنے میں احتیاط کرے۔
ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال دونوں فریقوں سے کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی حقیقت جاننا چاہتے ہیں یا صرف اپنی پہلے سے قائم رائے کی تصدیق چاہتے ہیں؟ کیا ہم مخالف کی دلیل اس لیے سنتے ہیں کہ اس میں موجود سچائی کو پہچان سکیں، یا صرف اس لیے کہ اس میں کوئی کمزوری تلاش کر کے اسے رد کر دیں؟ کیا ہم کبھی اپنی رائے میں اصلاح کو علمی ترقی سمجھتے ہیں، یا اسے اپنی شکست تصور کرتے ہیں؟ ان سوالات کا تعلق کسی ایک مذہبی مسلک، کسی مخصوص سیاسی جماعت یا جدید تعلیم کے کسی حلقے سے نہیں، بلکہ انسانی ذہن کی اس عمومی کمزوری سے ہے جو ہر دور اور ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی اسے مذہب کی زبان میں ظاہر کرتا ہے اور کوئی جدیدیت کی زبان میں۔ جب تک انسان اپنی ذات کو تنقید سے بالاتر سمجھتا رہے گا، اس کی علمی ترقی محدود اور اس کا مکالمہ بے نتیجہ رہے گا۔
بالآخر علم کی عظمت اس بات میں نہیں کہ انسان کتنی کتابیں پڑھ چکا ہے، کتنی ڈگریاں حاصل کر چکا ہے یا بحث میں کتنے لوگوں کو خاموش کرا سکتا ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ وہ اپنی معلومات کو حقیقت کی تلاش کے لیے استعمال کرتا ہے یا اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے۔ مذہبی علم ہو یا جدید تحقیق، دونوں کے ساتھ دیانت، انکسار اور ذمہ داری کا رویہ ضروری ہے۔ جس طرح مذہبی روایت سے وابستگی کسی کو ہر غلطی سے محفوظ نہیں بنا دیتی، اسی طرح جدید تعلیم کسی کو تعصب اور تنگ نظری سے بالاتر نہیں کر دیتی۔ ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں مذہبی فکر پر تنقید ممکن ہو، مگر تحقیر معمول نہ بنے؛ جہاں جدید علوم کا استقبال ہو، مگر ان کے نام پر فکری آمریت قائم نہ ہو؛ جہاں اختلاف کو دبایا نہ جائے، بلکہ دلیل کے ذریعے پرکھا جائے۔ کیونکہ علم کی پہچان صرف یہ نہیں کہ انسان دوسروں کی غلطیاں دیکھ لے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی غلطی پہچاننے اور درست بات کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جو شخص اپنے علم کو دوسروں کی تذلیل کا ذریعہ بناتا ہے، خواہ وہ منبر پر کھڑا ہو یا جدید دانش گاہ میں، اس نے علم کی قوت تو حاصل کر لی، مگر اس کی روح سے ابھی پوری طرح آشنا نہیں ہوا۔


