بدلتے عالمی نظام میں مذہبی جماعتوں کی بقا کا سوال/اسلم اعوان

اگر ملک کی مذہبی جماعتیں قومی سیاست کے مرکزی دھارے (Mainstream Politics) میں اپنے لیے مؤثر، مستحکم اور قابل قبول سیاسی گنجائش پیدا کرنا چاہتی ہیں تو انہیں خارجہ پالیسی، عالمی تزویراتی صف بندیوں (Geostrategic Alignments) اور افغانستان، ایران و سعودی عرب کے ساتھ ازسر نو تشکیل پاتے دفاعی، معاشی اور سفارتی تعلقات جیسے معاملات سے خود کو حتی الامکان الگ رکھنا ہوگا، انہیں اپنی سیاسی توانائی کا محور معاشرتی اصلاح، داخلی سیاسی ترجیحات، آئینی و جمہوری جدوجہد اور انتخابی سیاست کو بنانا پڑے گا، بصورتِ دیگر، ریاستی ترجیحات اور بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے کے ساتھ ان کی محاذ آرائی ان کے لیے قومی سیاست میں دستیاب گنجائش کو مزید محدود کر سکتی ہے۔ پتہ نہیں مولانا فضل الرحمن کو کس نے بتایا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، مانٹسکو نے کہا تھا کہ” دنیا میں جتنی بلائیں ہیں،ریاست ان میں سب سے زیادہ مہیب اور سرد مہر ہے، وہ سرد مہری سے جھوٹ بولتی ہے اور یہ جھوٹ مسلسل اس کے ذہن سے نکلتا رہتا ہے”

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سرد جنگ (Cold War) کے عہد میں مذہبی جماعتوں اور مسلح اسلامی تحریکوں کو عالمی طاقتوں کی نظریاتی کشمکش میں ایک موثر تزویراتی وسیلے (Strategic Instrument) کے طور پر بروئے کار لایا گیا۔ بالخصوص کمیونزم اور سوویت اثر و رسوخ کے انسداد کے لیے مذہبی شناخت، خلافت کے احیا اور ” اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام ” جیسے نعروں کی گونج میں عالمی اسلامی نظام کے قیام جیسے تصورات کو ایک وسیع نظریاتی بیانیے میں ڈھال کر خوش عقیدہ لوگوں کو فرضی حقائق کے جال میں پھنسایا گیا۔ اس عہد میں ان تحریکوں کو عالمی سیاست کی پیچیدہ حرکیات، طاقت کے توازن اور خارجہ پالیسی کے حقیقی محرکات سے زیادہ آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی بلکہ انہیں ایک ایسی نظریاتی جدلیات کا حصہ بنایا گیا جس میں وہ اپنے کردار کو محض مقامی سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی اور ” لاشرقیہ لاغربیہ ، اسلامیہ اسلامیہ” کے رومانس سے سرشار ہو کر عالمی معرکے کی صورت میں دیکھنے لگیں۔ یوں عالمی طاقتوں کے تزویراتی مفادات کو مذہبی و نظریاتی وابستگی کا لبادہ میسر آیا اور نوجوان نسل کو جہاد کے نام پر اس کشمکش کا حصہ بنانے کے لیے ایک غیر معمولی فکری و جذباتی فضا تشکیل دی گئی۔

تاہم سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی نظام کی ترجیحات، طاقت کے مراکز اور نظریاتی صف بندیاں یکسر تبدیل ہو چکی ہیں۔ پرانی دو قطبی دنیا کی جگہ پیچیدہ کثیرالجہتی عالمی نظم (Multipolar World Order) نے لے لی ہے، جہاں نظریاتی وابستگیوں سے زیادہ معاشی مفادات، دفاعی شراکت داریوں، علاقائی استحکام، ٹیکنالوجی اور تزویراتی خودمختاری کو اہمیت حاصل ہے۔ ماضی کی نظریاتی صف بندیوں میں کارآمد سمجھی جانے والی مذہبی تحریکیں اب عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں وہ مرکزی حیثیت نہیں رکھتیں جو انہیں سرد جنگ کے دوران حاصل تھی۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ جن قوتوں کو کبھی عالمی تزویراتی مقاصد کے حصول کے لیے تقویت دی گئی، بدلتے ہوئے عالمی حالات میں وہی قوتیں ریاستی نظم، داخلی سلامتی اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات کے لیے کس نوعیت کا چیلنج تصور کی جانے لگی ہیں۔

اس تبدیلی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ماضی کے نظریاتی اثاثوں سے فاصلہ پیدا کرنے کے لیے انتہاپسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی و بین الاقوامی بیانیے کو نئے تناظر میں مذہبی جماعتوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً مذہبی سیاست کی بعض قوتیں عوامی سطح پر اپنی ساکھ کے بحران، سیاسی تنہائی اور ادارہ جاتی عدم اعتماد سے دوچار ہوئیں۔ یہ صورتِ حال محض داخلی سیاسی ارتقا کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے نئے تصورات، علاقائی طاقتوں کی ترجیحات اور ریاستی مفادات کی ازسر نو تعریف سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔

اس پورے تناظر میں جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی جیسی مذہبی و نظریاتی سیاسی جماعتوں کے لیے بنیادی سیاسی سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کیا وہ اپنی تاریخی نظریاتی وابستگیوں اور عالمی سیاسی تصورات کو موجودہ ریاستی و سفارتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتی ہیں یا انہیں اپنی سیاسی بقا کے لیے ترجیحات کی ازسر نو درجہ بندی کرنا ہوگی؟

میری رائے میں ان جماعتوں کے لیے دانش مندی کا راستہ یہ ہے کہ وہ خارجہ پالیسی،کشمیر و افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی و معاشی اشتراک، عسکری اداروں کی تزویراتی ترجیحات، شہدائے افواج کے احترام اور قومی سلامتی جیسے حساس معاملات کو داخلی انتخابی سیاست کے تصادم کا میدان بنانے سے گریز کریں۔ ان موضوعات پر اختلافِ رائے یقیناً ہر شہری اور سیاسی جماعت کا آئینی و جمہوری حق ہے تاہم ان کی نزاکتوں کو سمجھتے ہوئے سیاسی موقف اختیار کرنا بھی بالغ نظری کا تقاضا ہے۔ مذہبی جماعتوں کو اپنی پوری توجہ سماجی تطہیر، تعلیم، معاشی انصاف، آئینی بالادستی، شہری حقوق، اخلاقی اصلاح، مقامی حکومتوں اور عوامی مسائل کے حل پر مرکوز کرنی چاہیے۔

یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمتِ عملی ریاست کے اجتماعی مباحث کا حصہ ہیں، انہیں کسی ایک ادارے یا سیاسی گروہ کی اجارہ داری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اختلاف کو تصادم اور تنقید کو ریاستی محاذ آرائی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی بساط پر اب مذہبی سیاست کو اپنی افادیت ماضی کے نظریاتی معرکوں سے نہیں بلکہ عوامی خدمت، جمہوری عمل، سماجی انصاف اور داخلی سیاسی بصیرت سے ثابت کرنا ہوگی۔ ریاست بھی اگر ان جماعتوں کو قومی سیاست سے باہر رکھنے کے بجائے آئینی و جمہوری دائرے میں مؤثر سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے تو یہ قومی استحکام کے لیے زیادہ پائیدار راستہ ہوگا۔

کیونکہ نئی عالمی سیاست میں بقا کا اصول محض نظریاتی وابستگی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حقائق کا ادراک، قومی مفادات کی تفہیم اور سیاسی ترجیحات کی دانش مندانہ تشکیل ہے۔ مذہبی جماعتوں کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ماضی کی عالمی کشمکش کے سیاسی استعارے بن کر رہنا چاہتی ہیں یا مستقبل کے دبستانوں میں ذمہ دار، جمہوری اور مؤثر قوت کے طور پر اپنا مقام بنانا چاہتی ہیں۔
یاد رکھیں کہ ریاست کا کوئی جذباتی نصب العین نہیں ہوتا بلکہ اس کا محور اپنی بقاء کے لئے غیر محدود طاقت کا حصول ہے، چنانچہ دینداروں کے لئے ریاستی مقتدرہ سے الجھنے کی جسارت بیکار بغاوت اور بے وقت کی للکار کے سوا کچھ نہیں ہو گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں