ڈیجیٹل یلغار اور سیاسی جماعتوں کی فیصلہ سازی کا بحران/ اسلم اعوان

عصرِ حاضر کی سیاست میں سوشل میڈیا محض ابلاغ و تشہیر کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ سیاسی طاقت، اجتماعی شعور کی تشکیل، سیاسی بیانیے کی سمت بندی اور فیصلہ سازی کے عمل پر اثرانداز ہونے والا ایک طاقتور متوازی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ ہماری سیاسی و مذہبی جماعتوں کو درپیش بحران کا اہم پہلو یہی ہے کہ ان جماعتوں کے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورکس اب ان کی سیاسی قوت بڑھانے کے بجائے بعض صورتوں میں ان کی داخلی فیصلہ سازی کو مفلوج کرنے کا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔

یہ صورت حال دراصل سیاسی خودمختاری کے بحران (Crisis of Political Autonomy) کی عکاسی کرتی ہے، جس میں سیاسی جماعتوں کی قیادت رسمی طور پر اپنے اختیارات کے ساتھ عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود عملی طور پر اپنے ہی ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے دباؤ، ردعمل اور مزاحمت سے آزاد ہو کر فیصلے کرنے کی صلاحیت کھوتی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی ہو یا جے یو آئی یا کوئی دوسری سیاسی و مذہبی جماعت، تقریباً سبھی ایک ایسے ابلاغی ماحول میں سرگرداں ہیں جہاں قیادت سر جوڑ کر بیٹھ کے سیاسی حکمت عملی، مذاکرات، مزاحمت، اتحاد یا متنوع تنظیمی فیصلوں کی طرف پیش قدمی کرتی ہے تو فوراً سوشل میڈیا پر موجود خودساختہ ترجمانوں، مبینہ حامیوں اور مختلف مفادات کے حامل اکاؤنٹس کی جانب سے اعتراضات، الزامات، جوابی بیانیوں اور متضاد آراء کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی فیصلے کا اصل موضوع پس منظر میں چلا جاتا ہے اور جماعتیں اپنی توانائی فیصلوں پر عمل درآمد کے بجائے اپنے فیصلوں کے دفاع کرنے، وضاحتیں دینے اور اپنے ہی کارکنوں کو مطمئن کرنے میں صرف کرنے لگتی ہے۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے، سیاسی جماعتوں میں اختلافِ رائے بجائے خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ جمہوری سیاست کا لازمی جزو ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلافِ رائے کو منظم اطلاعاتی انتشار (Organized Information Disorder)، مصنوعی ردعمل (Artificial Amplification) اور مسلسل نفسیاتی دباؤ کے ذریعے اس حد تک بڑھا دیا جائے کہ اجتماعی فیصلہ سازی کا نظام ہی عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔

امر واقعہ تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے ابتداء میں سوشل میڈیا کو عوامی رابطے، سیاسی متحرک کاری، تنظیمی رابطہ کاری اور حکومتی و ریاستی بیانیوں کے مقابلے کے مؤثر وسیلے کے طور پر اپنایا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ پلیٹ فارم ایسی غیر رسمی قوت کے مرکز میں تبدیل ہو گئے، جہاں قیادت کے فیصلوں کی سیاسی قبولیت کا تعین بسا اوقات جماعت کے آئینی، تنظیمی اور مشاورتی فورمز کے بجائے ڈیجیٹل ردعمل سے ہونے لگا۔

اس کیفیت کو سیاسی و تنظیمی علوم کی اصطلاح میں Digital Veto Power (ڈیجیٹل حق تنسیخ) کہا جا سکتا ہے، یعنی ایسی غیر رسمی اتھارٹی جس کے ذریعے سوشل میڈیا پر منظم ردعمل پیدا کرکے کسی قیادت کے فیصلے کو عملاً ناقابل عمل بنایا جا سکے، خواہ اس فیصلے کو جماعت کے بااختیار فورمز کی متفقہ تائید ہی حاصل کیوں نہ ہو۔

اس تال میل کا نتیجہ یہ نکلا کہ قیادت کی فیصلہ سازی، تنظیمی مشاورت اور سیاسی حکمت عملی الگ الگ ادارہ جاتی عمل رہنے کے بجائے ایک مسلسل ڈیجیٹل دباؤ کے تابع ہوتی جا رہی ہیں۔

اس بحران کا ایک زیادہ پیچیدہ پہلو یہ امکان بھی ہے کہ مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس میں ایسے عناصر سرگرم ہیں جو جماعت کی حقیقی سیاسی وابستگی کے بجائے اسٹبلشمنٹ کے مفادات کے تحت کام کر رہے ہوں۔ جس میں Covert Influence Operations (خفیہ اثراندازی کی کارروائیاں)، Astroturfing (مصنوعی عوامی حمایت کا تاثر پیدا کرنا)، Sockpuppet Accounts (فرضی شناختوں کے ذریعے رائے سازی) اور Coordinated Inauthentic Behaviour (منظم غیر مستند آن لائن رویہ) جیسی تکنیکی اصطلاحات اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔

ان حربوں کے ذریعے کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کے اندر سے ہی مختلف اور متضاد آوازیں ابھار کر جماعتی فیصلے کے خلاف مصنوعی مزاحمت کا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے اور قیادت و کارکنوں کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا کیا جا سکتا ہے۔جیسے چند دن قبل جماعت اسلامی جیسی منظم جماعت کے امیر لیاقت بلوچ کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کی حمایت میں چند الفاظ کہنے کے بعد جماعت کے اپنے سوشل میڈیا نے جماعت اسلامی کے اجتماعی وجود کو تڑپا کے رکھ دیا۔

پاکستان کے سیاسی تناظر میں اس صورت حال کا سب سے اہم پہلو ریاستی طاقت اور سیاسی جماعتوں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کے درمیان ممکنہ عدم توازن ہے۔

اگر کسی طاقتور ریاستی ادارے کے پاس وسائل، افرادی قوت، تکنیکی مہارت، پیشہ ورانہ ابلاغی ڈھانچے اور ہمہ وقت سرگرم ڈیجیٹل نیٹ ورکس موجود ہوں تو وہ اطلاعاتی ماحول میں نسبتاً زیادہ اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس عموماً غیر مرکزی، غیر مربوط، جذباتی ردعمل کے حامل رضا کاروں اور مختلف شخصی و گروہی وفاداریوں میں منقسم ہوتے ہیں۔

یہاں طاقت کا اصل فرق صرف اکاؤنٹس کی تعداد یا پوسٹس کی کثرت میں نہیں بلکہ Information Asymmetry (اطلاعاتی عدم توازن)، Organizational Capacity (تنظیمی استعداد) اور Strategic Coordination (تزویراتی ہم آہنگی) میں مضمر ہے۔

چنانچہ اس وقت ہماری سیاسی جماعتیں داخلی اختلافات، شخصی وفاداریوں اور ڈیجیٹل شور میں الجھی ہوئی ہیں اور کے مقابل طاقتور فریق یعنی اسٹبلشمنٹ اس انتشار سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی قوت کے عدم توازن اور سیاسی جماعتوں کے لیے دستیاب سیاسی گنجائش (Political Space) میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔

اس اعتبار سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا کا غیر منظم سیاسی انتشار اس مقتدرہ کے لیے سازگار ماحول پیدا کر چکا ہے جو سیاسی جماعتوں کو باہم منقسم، فیصلہ سازی میں کمزور اور عملی مزاحمت سے محروم دیکھنا چاہتی ہے۔

اس پورے بحران کی نمایاں مثال پی ٹی آئی جیسی وسیع عوامی حمایت کی حامل جماعت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس جماعت نے سوشل میڈیا کو سیاسی متحرک کاری اور عوامی رابطے کے غیر معمولی مؤثر وسیلے کے طور پر استعمال کیا لیکن یہی ڈیجیٹل قوت ایک مرحلے پر اس کی قیادت کے لیے داخلی دباؤ کا ذریعہ بھی بن گئی ہے۔

یہ ایک دلچسپ سیاسی تضاد ہے کہ جس جماعت نے سوشل میڈیا کے ذریعے روایتی سیاسی و ابلاغی رکاوٹوں کو عبور کیا، وہی جماعت اب اپنے ڈیجیٹل ماحول میں پیدا ہونے والے متضاد دباؤ کے باعث فیصلہ سازی کی مشکلات سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔

اس کیفیت کو Networked Populism (نیٹ ورکڈ عوامیت) کے ایک داخلی تضاد کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرز سیاست میں سیاسی رہنما، عوام کے ساتھ براہِ راست ڈیجیٹل رابطے میں رہنے کے باعث ایسا غیر رسمی دباؤ وصول کرتے ہیں جس میں قیادت کے ہر فیصلے کو فوری، جذباتی اور اکثر غیر منظم عوامی ردعمل کے پیمانے پر پرکھا جانے لگتا ہے۔ یوں قیادت طویل المدت سیاسی حکمت عملی کے بجائے فوری ڈیجیٹل مقبولیت، کارکنوں کے ردعمل اور آن لائن قبولیت کے خوف میں ہمہ وقت مبتلا رہتی ہے۔

چنانچہ اس عہد میں سوشل میڈیا کا اصل خطرہ صرف غلط معلومات کا پھیلاؤ نہیں بلکہ اجتماعی توجہ، ترجیحات اور سیاسی حقیقت کے تصور کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت ہے۔

اسی لئے آج کی سیاسی جماعتوں کا بنیادی مخمصہ یہی ہے کہ انہوں نے ڈیجیٹل طاقت تو حاصل کر لی مگر اس طاقت کو منظم، جانچنے اور ادارہ جاتی نظم کے تابع رکھنے کا کوئی مؤثر نظام تشکیل نہیں دے سکیں۔

ان کے پاس ایسا شفاف نظام موجود نہیں جو حقیقی کارکنوں، آزادانہ اختلافِ رائے رکھنے والوں، غیر متعلقہ اکاؤنٹس، مصنوعی شناختوں اور ممکنہ مربوط اثراندازی کے درمیان قابل اعتماد خط امتیاز کھینچ سکے۔

یہاں ایک اہم تنظیمی تصور Institutional Gatekeeping (ادارہ جاتی چھان بین اور نگرانی) ہے۔ اس کا مقصد اختلافِ رائے کو ختم کرنا نہیں بلکہ معلومات کے ذرائع، دعوؤں کی صحت، اجتماعی مشاورت اور سیاسی فیصلوں کے عمل کو منظم رکھنا ہے۔ جس میں قیادت کے فیصلوں کا اختیار واضح طور پر منتخب اور آئینی تنظیمی فورمز کے پاس ہو۔ سوشل میڈیا کی آراء کو مشاورتی اہمیت حاصل ضرور ہو مگر انہیں غیر رسمی ویٹو کا اختیار نہیں ملنا چاہئے۔منظم مصنوعی سرگرمیوں اور غیر مستند اکاؤنٹس کی شناخت شفاف ڈیجیٹل فرانزک کے ذریعے کی جائے تاکہ حقیقی اختلافِ رائے اور بدنیتی پر مبنی منظم مداخلت میں فرق کو سمجھا جا سکے۔۔

علی ہذالقیاس ! جدید سیاست میں طاقت صرف پارلیمان، انتظامیہ، عدلیہ اور ریاستی اداروں میں نہیں بلکہ اطلاعاتی نیٹ ورکس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اجتماعی ذہن سازی کے نظاموں میں بھی مرتکز ہو رہی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے ہی سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے غیر منظم دباؤ، مصنوعی تنازعات اور ممکنہ خفیہ اثراندازی کے سامنے اپنی فیصلہ سازی کی خودمختاری برقرار نہیں رکھ سکتیں تو ان کی ڈیجیٹل مقبولیت سیاسی قوت میں تبدیل ہونے کے بجائے ان کے لیے داخلی کمزوری بن سکتی ہے۔

اس پورے بحران کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا پر محض زیادہ اکاؤنٹس، زیادہ فالوورز اور زیادہ ٹرینڈز کی ضرورت نہیں بلکہ ایک ایسا مربوط ادارہ جاتی نظام درکار ہے جو ڈیجیٹل قوت کو سیاسی حکمت عملی، اجتماعی عقل اور تنظیمی نظم کے تابع رکھ سکے۔

کیونکہ جس سیاسی جماعت کی قیادت اپنے ہی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ردعمل سے خوف زدہ ہو کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو دے، اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ مخالف سیاسی قوت نہیں بلکہ اس کی اپنی غیر منظم ڈیجیٹل طاقت بن جاتی ہے۔

اور یہی عصرِ حاضر کی سیاست کا تازہ المیہ ہے سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین سے سیاسی شکست کھانے سے پہلے اپنے ہی اطلاعاتی نظام کے اندر فیصلہ سازی کی خودمختاری کھو کر منہدم ہو سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں