مولانا فضل الرحمٰن اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشمکش اب محض سیاسی اختلاف نہیں رہی، بلکہ اخلاقی، سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی ایک اہم معرکے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ بظاہر مولانا نے اپنی سیاسی بصیرت، تحمل، استقامت اور حکمتِ عملی کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کو مکمل طور پر تنہا کر دیا، جہاں اس کے لیے سیاسی دباؤ، طاقت کے استعمال اور روایتی سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔
اس کشمکش کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے سیاسی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کے تصور کو سیاسی اور اخلاقی سطح پر ایک بڑا چیلنج دیا ہے۔ اگرچہ سیاسی قوتوں کے درمیان طاقت کا توازن اپنی جگہ موجود ہے، لیکن مولانا کی مزاحمت نے یہ سوال ضرور اٹھا دیا ہے کہ کیا ریاستی طاقت سیاسی اختلافات کو دبانے کا مستقل ذریعہ بن سکتی ہے؟ اس اعتبار سے ان کی جدوجہد کو قومی اور عالمی سطح پر اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں واضح اخلاقی اور سیاسی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہماری جدید تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اسٹبلشمنٹ باکل تنہا ہو چکی ہے ، حتی کہ اس کی شریک اقتدار جماعتیں بھی تاحال مولانا کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال، مبینہ جھوٹے مقدمات اور کردارکشی کی مہم میں کھل کر شریک ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ ایسے میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے جنگ صفین کی “مفاہمت” سے مماثل آخری حربہ تلاش کر رہی ہے۔
اول تو آپ کو اسٹبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کا یہ بھاری پتھر اےمتھنا نہیں چاہیے تھا اور اب اگر اٹھا لیا ہے تو پھر اس طلسم ہوشربا میں پیچھے پلٹ کر دیکھنے والے پتھر کے مجسمے بن جاتے ہیں، تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ سیاسی جدوجہد میں بعض مواقع غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسے مواقع بار بار میسر نہیں آتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس مرحلے پر مفاہمت، اصولی مؤقف کی کامیابی ثابت ہوگی یا ایک طویل سیاسی جدوجہد کے ثمرات عارضی مصلحت(بزدلی) کی نذر ہو جائیں گے؟
نواز شریف کی مثال بھی ہمارے سامنے عبرت کا سامان بن کر کھڑی ہے۔ ان کی طویل مزاحمتی سیاست کا آخری اور اہم مرحلہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت اور سیاسی سمجھوتے کے نتیجہ میں ایک دردناک انجام کی نذر ہو گیا انکی معصومانہ مفاہمت نے پوری قوم کو روح کو اداس کر دیا۔
ناقدین کے نزدیک اسی مفاہمت(سمجھوتہ) نے نواز شریف کی سیاسی ساکھ، عوامی مقبولیت اور سیاسی بیانیے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جبکہ ان کے حامیوں اور سیاسی کارکنوں سمیت پوری قوم مایوسی کی تاریکیوں میں ڈوب گئی۔ نواز شریف کی شکل میں وہ سیاسی قوت جو کبھی عوامی امیدوں اور مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی تھی، رفتہ رفتہ نامرادیوں کے قبرستان میں دفن ہو گئی
اس تجربے کا ایک قومی پہلو بھی ہے۔ جب عوام کسی سیاسی رہنما سے اصولی جدوجہد اور تبدیلی کی امید وابستہ کر لیتے ہیں اور پھر انہیں وہی رہنما طاقت کے مراکز کے ساتھ سمجھوتہ کرتا دکھائی دیتا ہے تو اس کا اثر صرف اس جماعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ جمہوری عمل پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ یوں قومی سیاست میں امید کی جگہ مایوسی کی یبوست اور سیاسی بے یقینی کی تاریکی پھیلنے لگتی ہے۔
یہی خدشہ مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے بھی زیر بحث ہے کہ کہیں ایک ممکنہ سمجھوتا سیاسی کارکنوں کی امیدوں، ان کی طویل جد وجہد اور اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں حاصل ہونے والی اخلاقی و سیاسی برتری کو متاثر نہ کر دے۔کیونکہ سیاستدان جیلوں، پھانسیوں اور ریاستی جبر سے نہیں مرتے بلکہ وہ غاصبوں کے ساتھ سمجھوتوں کے میٹھے زہر سے سیاسی موت مر جاتے ہیں
مولانا صاحب! جن کو فطرت بلند مقامات عطا کرتی ہے وہ آزمائے ضرور جاتے ہیں، آپ نے زندگی میں اقتدار بھی دیکھا، شہرت بھی پائی، عزت و وقار بھی حاصل کیا اور سیاسی عروج کے کئی ادوار بھی دیکھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حسب و نسب، لمبی عمر، بلند کردار اور کامیابیوں سے نوازا ہے۔اب آپ کو قرآن کی اصطلاح میں حتمی کامیابی(عزت کی موت) درکار ہے۔ تاریخ کے اس مرحلے پر آپ کے فیصلے کی اہمیت محض ایک سیاسی جماعت یا شخصیت تک محدود نہیں، بلکہ اس سے اصولی سیاست، سیاسی مزاحمت اور جمہوری جد وجہد کے مستقبل کے بارے میں بھی ایک پیغام وابستہ ہے۔
آج آپ کے سامنے سب سے بڑا سوال غاصبوں سے مفاہمت،اقتدار میں شمولیت یا اقتدار سے دوری کا نہیں بلکہ اس سیاسی اور اخلاقی برتری کو برقرار رکھنے کا ہے جو ایک طویل جدوجہد، استقامت اور اصولی مؤقف کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات یا مفاہمت بذاتِ خود کوئی سیاسی عیب نہیں لیکن اگر اس مفاہمت کی قیمت اصولی مؤقف، عوامی اعتماد اور جمہوری مطالبات سے دست برداری ہو تو پھر اس کے نتائج تاریخ میں مختلف انداز سے رقم ہوتے ہیں۔
امام حسین علیہ سلام نے اپنے اصولوں کی خاطر موت کو قبول کیا مگر اپنے ضمیر سے سمجھوتا نہیں کیا۔ فلسفۂ تاریخ بھی یہی سوال اٹھاتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اقتدار کے حصول میں ہے یا اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے میں؟
مولانا صاحب! یہ وقت کسی ذاتی سیاسی فائدے، عہدے یا اقتدار کے حصول سے بڑھ کر اپنے سیاسی کردار کو تاریخی معنویت دینے کا ہے۔ آپ کی جد وجہد نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طاقت کے تعلق پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اب آپ کا ہر فیصلہ اس بحث کے مستقبل پر اثر انداز ہوگا۔ مفاہمت اگر اصولوں کی بنیاد پر ہو تو سیاسی حکمتِ عملی ہے لیکن اگر وہ اصولوں کی قربانی پر قائم ہو تو تاریخ اسے ایک مختلف نام دیتی ہے۔
بالآخر تاریخ شخصیات کے اقتدار کو نہیں، ان کے اصولوں، کردار اور مشکل وقت میں کیے گئے فیصلوں کو یاد رکھتی ہے۔ نواز شریف کے سیاسی تجربے سے یہی سبق اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عوامی اعتماد اور اصولی بیانیہ کسی بھی سیاسی رہنما کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے لیے بھی اصل چیلنج یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں حاصل ہونے والی اخلاقی و سیاسی برتری کو محض وقتی سیاسی مفاہمت کی نذر نہ ہونے دیں۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان جب تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہو تو اس کے پاس اپنے ضمیر کے سامنے سر اٹھانے کا جواز موجود ہو۔


