ہمارے معاشرے کے انداز نرالے ہیں۔ ہمیں قدم قدم پر ایسی باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو حیرت و استعجاب میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ہمارے معاملات یکدم بدل جاتے ہیں۔ خوشیاں رنج و غم میں ڈھل جاتی ہیں۔ اچانک خود غرضی اپنوں کو پرایا اور اغیار کو اپنا بنا لیتی ہیں۔ متاثرکن شخصیات جن سے ہاتھ ملانے اور ہدائت پانے کو جی چاہتا ہے، وہ اپنا لبادہ اتار کر عجب انداز میں آپے سے باہر ہوجاتی ہیں۔ حیرت اور عجب انداز جو معاشرے کی نبض میں خون کی طرح دوڑنے لگتے ہیں۔ ان کے بد اثرات معاشرے کو تشکیل دینے والے اجزاء ترکیبی کے جسم و جان میں حلول کر جاتے ہیں۔ کبھی چندا ماموں دور کے کی خوبصورتی پر مر مٹنے والے، چاند میں سورج کی تپش محسوس کر تے ہوئے تابش بن جاتے ہیں۔
ہم جب خوشی منانے پہ آتے ہیں تو دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ ڈھول ڈھمکے کے ساتھ۔، گرمجوشی اور اچھل کود میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ کہیں ان کے عیش وعشرت کے انداز دوسروں کے لئے زحمت تو نہیں بن رہے؟ کسی دوست کی شادی بیاہ میں حصہ لینا ہو تو اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اور جوں ہی میل جول کی اجلی چادر پر میل آجاے تو دوست کی ایسی دھلائی کرتے ہیں جیسے وہ دوست نہیں دشمن ہو۔ ہم ایک وقت میں وطن کے گیت گاتے ہیں اور پھر ایک ہی سانس میں وطن پہ شکووں کی یلغار شروع کر دیتے ہیں۔ یوم آزاادی آئے یا 23 مارچ کو یوم قرار داد پاکستان منایا جا رھا ہو، ہم خوشی سے نہال، گھر ہو یا چوپال اپنے گلوں میں گلوں کے ہار ڈال کر، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پہ پرچم لہرا کر، مسرتوں میں نہأۓ، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہوتے پیں۔ مگرموٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پہ بیٹھے بھائی اور یار دوست چراغاں دیکھنے والے شائقین پہ پٹاخے پھینکتے اور بےسری پیپنیاں بلند آواز میں بجا بجا کر اسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ایسے میں انجان شائقین کے ماتھے پہ شکن آجانا فطری بات ہے۔ یوں اچھے خاصے میلہ چراغاں کے رنگ میں بھنگ پڑ جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ ہم جذبے پہ جذبات کو حاوی کر لیتے ہیں اور پھر جھگڑے تماشہ بن جاتے ہیں جن کو تماشبین دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
ہم نے یہ لمبی سی تمہید اس لئے باندھی ہے کیونکہ پچھلے دنوں ایک عجیب و غریب واقعہ سیالکوٹ کے ضلع ڈسکہ میں پیش آیا۔۔ ہوا کچھ یوں کہ پاکستان کے میڈیا کے بقول مشہور ٹک ٹاکر، جس کی دھوم ذرائع ابلاغ کے مطابق پورے پاکستان میں مچی ہوئی تھی اور جس کی سوشل میڈیا پہ فالوئنگ بھی لاکھوں میں بتائی گئی ہے، نے سیالکوٹ کے ایک اسٹیڈیم میں اپنی شادی کی منگنی کے سلسلے میں ایک شو منعقد کیا۔ اس نے اسٹیڈئم میں اپنی منگنی کے سلسلے میں قوالی کے پروگرام کی اجازت طلب کی تھی۔ لیکن ہوا یہ کہ اس ٹک ٹاکر نے اعلان کر دیا کہ وہ شرکاء میں گاڑی اور موٹر سائیکلوں سمیت دوسرے قیمتی انعامات تقسیم کریگا۔ اس آفر نے لوگوں میں ایسی دلچسپی پیدا کی کہ ٹک ٹاکر کے چاہنے والوں کا جم غفیر، جن کی تعداد بیس سے پچیس ہزار تھی، اسٹیڈیم میں پہنچ گئی۔ انعامات تو کیا ملتے لوگوں کے اژدھام میں بھگدڑ سے کچلے جانے پر ایک یا دو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
میڈیا پر اس معاملے میں کئی حوالوں سے بہت بحث ہوتی رہی۔ کچھ کے مطابق لوگوں کو انعامات کی ترغیب دے کر اکٹھا کیا گیا تھا۔ کچھ فالوورز نے بلا سوچے سمجھے انعامات کے حصول کی دوڑ اورلالچ میں ہجوم بیکراں میں کردار ادا کیا۔ خبروں کے مطابق کہا گیا کہ یہ اعلان بھی لوگوں تک پہنچایا گیا کہ جو شخص سب سے پہلے اسٹیڈئم میں پہنچے گا اسے کار/ موٹر سائیکل انعام میں دی جائے گی۔ جبکہ دیگر انعامات کی تفصیلات نے بھی محرومیوں کے شکار عوام اور ہوس کی دوڑ میں مبتلا کثیر تعداد نے اسٹیڈیم کا رخ کیا۔ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ ضروری نہیں لوگوں میں سب کے سب مذکورہ ٹک ٹاکر کے فالوورز ہوں۔ اطلاعات کے مطابق یہ بھی کہا گیا کہ اس ٹک ٹاکر کے فالوورز کی تعداد سوشل میڈیا پر لاکھوں میں تھی، جس کی وجہ سے موصوف کی مقبولیت کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ ہمارے ملک میں پہلے بھی مقبولیت کا اس نوع کا پراپیگنڈا کسی اور کی بابت ہوتا رہا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کی مقبولیت کو حقیقی مقبولیت کا پیش خیمہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ بھی عجب معاملہ ہے۔
دیکھنے میں آتا ہے کہ ہماری سیاست میں بھی ایک عجیب طرز کا ٹرینڈ غالب آتا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی سیاسی جماعت اپنی عاقبت اندیشی کے وصف سے محروم ہوجاتی ہے یا اپنی ناکامیوں کے سبب مشکلات و مسائل کا شکار ہو جاتی ہے یا اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے یا اقتدار کے ایوانوں میں جانے کا راستہ تلاش کرنا چاہتی ہے تو وہ ریاست و حکومت اور فوج کے خلاف محاذ گرم کرنے لگتی ہے۔ خیر سے اس رجحان کے ایک بانی کی تقلید میں کچھ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی ایسا ہی طرز پر عمل اپنا لیا ہے۔ جمیعت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اچانک اس سلسلے میں زور شور کے ساتھ نامناسب الفاظ اور انداز میں ملکی افواج اور سیکیورٹی فورسز کےاداروں پر تند و تیز نشتر زنی شروع کر دی ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ملک کی خاطر شہادت پانے والے شہداء کے بارے میں بھی ناموزوں خیالات کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے ملک کی تذلیل کرتے ہوۓ ‘ تھو’ کہہ کر بھی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ یہ ایک عجیب طرز کی سیاست ہے۔ گزشتہ دنوں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے بھی ملک سے باہر جاکر ارض وطن اور اداروں کے بارے میں اسی طرح کے عجب خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یہ طرز عمل حب الوطنی کے تقاضوں کے منافی ہے ، جسے ہر صورت ختم ہونا چاہئے۔ اپنے ملک میں رہ کر اپنے ہی وطن کو تنقید کا نشانہ بنانا کسی طور بھی عوام کو قبول نہیں۔ ہونا تو یہ چاہۓ کہ کوئی اختلاف سر اٹھانے لگے تو اس بات چیت اور گفتگو کے ذریعے اور ارباب حل و عقد کے ساتھ رابطوں کے ساتھ حل کیا جاۓ نہ کہ عوامی سطح پر الزامات لگا کر اپنا مقصد حاصل کیا جاۓ۔ یہاں تک کہ ملک اور ریاست کے خلاف زور بیان کو اپنایا جاۓ۔ یاد رکھیۓ ملکی افواج اور انکے ادارے ملک کے لئے بڑے بڑے کام سر انجام دیتے ہیں۔ وہ ملک کی خاطر بے مثل قربانیاں بھی دیتے ہیں۔ انکی بے توقیری مناسب نہیں۔ اس طرح وطن کے دشمنوں کو ہمارے ملک کے خلاف پراپییگنڈہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ قبل اس کے کہ مسائل لا ینحل کے درجے پر پہنچیں انہیں مذاکرات اور روابط سے حل کیا جاۓ اور ایک دوسرے کی عزت و تکریم کی جاۓ۔ یاد رکھئے ادارے شخصیات سے بالا تر ہوتے ہیں۔ ان کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے۔


