کانگو کے دولت مندوں کو شفافیت کا ڈر /اعظم معراج

واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ کانگو میں دولت مند اشرافیہ کا ایک چلن یہ تھا کہ ان میں سے جو چند لوگ ٹیکس ادا کرتے تھے، وہ اپنے گوشواروں میں اپنی پشتینی اور خریدی ہوئی غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمت یا تو کئی دہائیوں پرانی درج کرتے یا پھر سرکاری ویلیو لکھتے، جو عموماً ان جائیدادوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو سے بہت کم ہوتی تھی۔
اس طرزِ عمل کے کانگو کی معیشت پر کئی منفی اثرات مرتب ہوئے، جن میں چند نمایاں اثرات یہ تھے:
1۔ زمین اور جائیداد، جو انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں، بتدریج ایک بنیادی ضرورت کے بجائے اسٹاک کی طرح محض ایک تجارتی پروڈکٹ بن کر رہ گئیں۔
2۔ اس رجحان کا نتیجہ یہ نکلا کہ زمین اور جائیداد کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہونے لگا۔
3۔ اس کاروباری سرگرمی اور مسلسل ٹریڈنگ کے چکر میں دیگر پیداواری صنعتوں سے سرمایہ کھنچ کر اس شعبے کی طرف منتقل ہونے لگا۔
4۔ ان تمام اثرات کے ساتھ کانگو کی معیشت کا اصل حجم نہ تو خود کانگو کے فیصلہ سازوں کو معلوم ہو پاتا تھا اور نہ ہی دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے اس کی حقیقی معاشی تصویر سمجھ پاتے تھے۔
5۔ زمین اور جائیداد کی خرید و فروخت کے وقت حکومت کو ٹیکس کی مد میں بھی بہت کم آمدنی ہوتی تھی۔ نتیجتاً ہر سال بجٹ بناتے وقت کانگو کے فیصلہ سازوں کو ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا پڑتا تھا جو اسے قرض فراہم کرتے تھے۔
پھر 2025ء میں کانگو کے ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کو نجانے کیا خیال آیا کہ انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کر دیا۔ اس کے مطابق ہر ٹیکس دہندہ اپنی غیر منقولہ جائیداد کی موجودہ مارکیٹ ویلیو اپنے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں درج کرے گا۔
اس اقدام کے ساتھ یہ وضاحت بھی کی گئی کہ محض موجودہ مالیت ظاہر کرنے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ ملک بھر میں موجود جائیدادوں کی حقیقی مالیت کا تعین کیا جا سکے اور معیشت کی درست تصویر سامنے لائی جا سکے۔
لیکن جب یہ حکم نامہ عوام کے سامنے آیا تو وہاں کے محب وطن، اصول پسند اور دولت مند حضرات میں ہاہاکار مچ گئی۔
بالآخر کانگو کے وزیراعظم نے 26 ستمبر 2025ء کو اپنے سینے پر پتھر رکھ کر ایک حکم نامے کے ذریعے ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کے فارم سے غیر منقولہ جائیدادوں کی موجودہ مالیت ظاہر کرنے کا خانہ ہی نکلوا دیا۔
یوں کانگو کے دولت مندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دینے لگے اور اپنے وہ ٹیکس گوشوارے بھی ہنسی خوشی جمع کرانے لگے جنہیں وہ اس فیصلے تک روک کر بیٹھے تھے۔
دور کسی چراگاہ میں بیٹھے ایک بزرگ چرواہے کے شاگرد ابھی اسے اس فیصلے پر مبارک باد بھی نہ دے پائے تھے کہ ان کے لیے ایک اور خبر آ گئی۔
یہ چرواہا گزشتہ کئی برسوں سے معیشت اور معاشرت میں شفافیت کو آکسیجن قرار دیتا آ رہا تھا۔ وہ مسلسل لکھ اور بول کر شفافیت کے مختلف پہلوؤں پر سفارشات مرتب کر رہا تھا اور اس بات پر اصرار کرتا تھا کہ کسی بھی ملک کی حقیقی معاشی ترقی کے لیے اس کی دولت، وسائل اور اثاثوں کی درست مالیت کا تعین ناگزیر ہے۔
جب شاگرد وزیراعظم کے اس اقدام اور چرواہے کی سفارشات پہلے قبول کیے جانے اور پھر واپس لیے جانے کی خبر لے کر اس کے پاس پہنچے تو بوڑھا چرواہا پہلے مسکرایا، پھر کچھ سنجیدہ ہو کر بولا:
’’میرے بچو! خیالات کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ انہیں فوراً قبول کر لیا جائے۔ اصل کامیابی تو اس وقت ہوتی ہے جب آپ کے لکھے ہوئے خیالات کتابوں میں محفوظ ہو کر لوگوں کے ذہنوں میں اس قدر جگہ بنا لیں کہ وہ متعلقہ اداروں کی میزوں تک پہنچیں، وہاں زیرِ بحث آئیں، ان پر سوچ بچار ہو اور بالآخر انہیں عملی شکل دینے کی کوشش بھی کی جائے۔
اگر کسی معاشرے میں شفافیت کا خیال پہلے قبول کیا جائے اور پھر اس سے پیدا ہونے والے مفادات کے دباؤ میں واپس لے لیا جائے تو اسے ناکامی مت سمجھنا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خیال نے اپنے اثرات دکھانا شروع کر دیے ہیں۔‘‘
چرواہے نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر گویا ہوا:
’’یاد رکھو! دولت کی اصل قدر اس کے حجم سے نہیں، بلکہ اس کے قومی معیشت میں مثبت کردار سے متعین ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں دولت مند اپنی دولت کی حقیقی مالیت ظاہر کرنے سے خوف زدہ ہوں، وہاں مسئلہ صرف ٹیکس کا نہیں ہوتا، مسئلہ اعتماد، انصاف اور قومی ترجیحات کا بھی ہوتا ہے۔
شفافیت کسی دولت مند کی دولت چھیننے کا نام نہیں، بلکہ اس دولت کو قومی معیشت کے حقیقی منظرنامے میں اس کی درست جگہ دینے کا نام ہے۔
اور جس دن کسی قوم کے فیصلہ ساز، دولت مند اور عام شہری یہ سمجھ لیں گے کہ شفافیت ان کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اجتماعی ترقی، خوش حالی اور بقا کی ضمانت ہے، اس دن اس قوم کی معیشت کو مصنوعی اعداد و شمار، پوشیدہ دولت اور قرضوں کے سہارے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
کیونکہ قومیں دولت چھپانے سے امیر نہیں ہوتیں، دولت کی حقیقت تسلیم کرنے اور اسے پیداواری قوت میں بدلنے سے ترقی کرتی ہیں۔ شفافیت معیشت کی آکسیجن ہے، اور جو قوم اس آکسیجن سے خوف زدہ ہو، اس کی معاشی صحت کبھی بحال نہیں ہو سکتی۔‘‘

اپنا تبصرہ لکھیں