مسلم دنیا کا زوال کیوں ہوا؟ -محمدعلی شہباز

احمد ٹی کرُو سان ڈیاگو اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہیں اور حال ہی میں ان کی کتاب “اسلام، آمرانہ رویہ اور پسماندگی: ایک عالمی اور تاریخی موازنہ” سامنے آئی ہے۔

انکا یہ مضمون آن لائن انگریزی میگزین کمپیکٹ میں 16 اکتوبر 2026 کو شائع ہوا جس کا لنک یہ ہے۔
https://www.compactmag.com/article/why-the-muslim-world-fell-behind/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلامی دنیا سماجی و اقتصادی طور پر پسماندہ کیوں ہے؟ جب ہم مسلم اکثریتی ممالک کا نہ صرف مغربی ممالک بلکہ فی کس مجموعی قومی آمدنی کے لحاظ سے دنیا کے باقی حصوں سے موازنہ کرتے ہیں، تو وہ اوسط سے نیچے ہیں، باوجود اس کے کہ ان کی تیل کی آمدنی کافی ہے۔ یہی بات زندہ رہنے کا اوسط دورانیہ، سکول جانے کی عمر، اور خواندگی کی شرح کے حوالے سے بھی درست ہے۔ اس کے علاوہ، پچاس مسلم اکثریتی ممالک میں سے کوئی بھی لبرل جمہوریت نہیں ہے، اور دنیا کے تقریباً نصف دیگر ممالک کے مقابلے صرف چند مسلم ممالک کو انتخابی جمہوریتوں کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔

مگر مغربی تعلیمی حلقوں میں یہ سوال کرنا کہ ایسا کیوں ہے، تقریباً ممنوعہ سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ میں نے اس موضوع پر ایک کتاب پر کام کرتے وقت دریافت کیا۔ اس وقت، میرے شعبے کے ایک ساتھی نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اسے ترکی اور عربی میں شائع کراؤں، مگر انگریزی میں نہیں۔ وہ اس بات سے فکر مند تھے کہ یہ کتاب اسلاموفوبیا کو ہوا دے سکتی ہے۔ کتاب، “اسلام، آمرانہ رویہ اور پسماندگی” 2019 میں انگریزی میں شائع ہوئی اور اس کے بعد اسے پندرہ دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کا استقبال مغرب اور مسلم اکثریتی ممالک میں مختلف انداز میں ہوا۔ جہاں مغربی علماء نے مجھے اورینٹل ازم (استشراقیت) اور یوروسینٹرزم (یورپ مرکزیت) کا قصوروار ٹھہرایا، وہیں ترکی، بوسنیا، لبنان، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں شائع شدہ ایڈیشنز کو ان معاشروں میں موجود مسائل کا ایک دیرینہ تجزیہ سمجھ کر اچھی پذیرائی ملی۔

کیا میں پسماندگی کے لیے اسلام کو مورد الزام ٹھہراتا ہوں؟ نہیں۔ مذہبی تصورات اہمیت رکھتے ہیں، لیکن یہ تصورات ایک وسیع تر سیاسی، معاشرتی اور مادی سیاق و سباق میں پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ یہ عام طور پر معلوم ہے کہ اسلام اپنی ابتدائی تاریخ میں قابل ذکر سائنسی اور اقتصادی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ زیادہ تر مغربی اسکالرز کے نزدیک، یہ مغربی نوآبادیات تھی جس نے اس ابتدائی ترقی کو ختم کیا اور ان معاشروں کو پیچھے رکھا۔

میں اس سے متفق نہیں ہوں۔

اگرچہ نوآبادیات اور سامراجی نظام نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں، مگر یہ صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں تھے۔ لاطینی امریکہ سے مشرقی ایشیا تک، کئی ممالک نے اسی طرح کے حالات کا سامنا کیا، لیکن پھر بھی وہ ترقی اور جمہوریت کے راستے تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مزید برآں، مسلم دنیا نے وسیع پیمانے پر نوآبادیاتی دور سے پہلے ہی مغربی یورپ سے پیچھے رہنا شروع کر دیا تھا۔

بہت سے مغربی محققین کے نزدیک، مسلم معاشروں کے تاریخی جمود پر ضرورت سے زیادہ زور دینا دراصل انہیں یورپی معیار کے مطابق اور اورینٹلسٹ نظر سے پرکھنے کے مترادف ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس طریقہ کار پر سوال کیا جائے۔ اگرچہ ایڈورڈ سعید کی کتاب ” اورینٹلزم” نصف صدی قبل ایک طرز فکر بدل دینے والی کتاب تھی، مگر اس کا مرکزی تصور اب بلا احتیاط استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ایسے علمی کاموں کو مسترد کیا جا سکے جن کے نتائج ہم سے میل نہ کھاتے ہوں۔ بہرحال، استشراقیت کے الزام سے بچنے کا ایک واضح طریقہ موجود ہے کہ،

موجودہ مسلم دنیا کا جائزہ اس کی اپنی تاریخی کامیابیوں کی بنیاد پر لیا جائے۔

قرون وسطیٰ میں، مسلم معاشروں نے دنیا کو فلسفیوں، سائنسدانوں اور ریاضی دانوں سے نوازا جن کا اثر آج تک برقرار ہے، اور اسی دوران، انہوں نے بین البراعظمی تجارت میں بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ اس وقت یورپ ذہنی اور اقتصادی طور پر غیر اہم تھا۔ اس دور میں، مسلمانوں نے اہل یورپ کو ہندی و عربی عددی نظام، بصریات اور ارسطو کے فلسفہ سمیت دیگر نئی باتیں سکھائیں۔

تاہم، گیارہویں اور بارہویں صدیوں میں مسلم دنیا اور مغربی یورپ نے اپنا کردار بدلنا شروع کر دیا۔ مذہبی، سیاسی، علمی اور اقتصادی طبقوں کے درمیان تعلقات اس عمل میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ ابتدائی اسلامی تاریخ میں، مسلم علماء عموماً سیاسی حکام کے ساتھ قریبی تعلقات کو بدعنوانی قرار دیتے تھے۔ وہ تجارتی مالی معاونت کو ترجیح دیتے اور تاجروں کے ساتھ قریبی روابط قائم رکھتے تھے۔ اس وقت، زیادہ تر علماء اور ان کے خاندان تجارت میں مصروف تھے اور صرف ایک چھوٹا حصہ عوام سے چندہ حاصل کرتا تھا۔ علماء کی سیاسی طاقت سے علیحدگی، علمی اور اقتصادی ترقی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی۔

گیارہویں اور بارہویں صدی میں مسلم دنیا نے ایک تبدیلی دیکھی جس کی بنیادی وجہ فرقہ واریت تھی۔ بغداد میں عباسی خلیفہ نے، جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ابھرتی شیعہ طاقتوں کی وجہ سے شدید طور پر کمزور ہو گئے تھے، اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سنیوں کو متحد ہونے کی درخواست کی۔ خلفاء نے ایک “سنی عقیدہ” کا اعلان کیا، اور جن کے خیالات کو اس عقیدہ کے متصادم سمجھا گیا، بشمول کچھ شیعہ، عقل کو ترجیح دینے والے متکلمین اور فلسفی، وہ مرتد قرار دیے گئے اور انہیں سزائے موت کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں مذہبی اور سیاسی حکام کے درمیان شراکت داری قائم ہوئی۔ یہ اتحاد بتدریج فلسفیوں اور تاجروں کو حاشیے پر ڈالنے لگا، جس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں طویل المدتی علمی اور اقتصادی جمود پیدا ہوا۔ بعد میں مسلم دنیا میں مذہبی سیاسی اداروں میں اصلاح کی کوششیں کی گئیں، لیکن علماء اور ان کے ملوکیتی شراکت دار، ارتداد کے قوانین، ریاستی طاقت، اور مدارس کی تعلیم پر اجارہ داری کے ذریعے موجودہ حالات کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ پندرہویں تا انیسویں صدی عیسوی کے درمیان، مسلمانوں نے تین سلطنتیں قائم کیں یعنی سنی عثمانی، شیعہ صفوی، اور سنیوں کے زیر انتظام (مگر غیر فرقہ وارانہ) مغل سلطنتیں، جو بلقان سے بنگال تک وسیع جغرافیے پر حکمرانی کرتی تھیں۔ یہ سلطنتیں عسکری طور پر طاقتور تھیں، لیکن وہ ابتدائی مسلمانوں کی علمی اور اقتصادی حرکیات کو دوبارہ زندہ کرنے میں ناکام رہیں کیونکہ ان کے علماء کے ریاستی اتحاد نے فلسفیوں کو تقریباً ختم کر دیا اور تاجروں کو حاشیے پر ڈال دیا۔

جبکہ مسلم دنیا اپنے فکری اور اقتصادی زور کو گنوا رہی تھی، مغربی یورپ گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی کے بعد مسلم دنیا کے مخالف راستے پر چلنے لگا، جس میں چرچ اور ریاست کے درمیان امتیاز، یونیورسٹیوں کا قیام، اور ایک طاقتور تجارتی طبقے کا عروج شامل تھا۔

ابتدائی تاریخ میں، مسلم معاشرے اتنے متحرک تھے کہ جب وہ کسی ایجاد کو دیکھتے، جیسے چینی کاغذ سازی، تو فوراً اس کا استعمال کرتے۔ جبکہ مغربی یورپی معاشروں نے مسلمانوں کے کئی صدی بعد پہلی کاغذ کی فیکٹری قائم کی۔ لیکن جیسے جیسے طبقاتی تعلقات بدلتے گئے، ایجاد کے بارے میں رویے بھی بدل گئے۔ مسلمان صدیوں تک مغربی یورپ میں تیار کی گئی نئی ٹیکنالوجی اور آلات جیسے کہ چھاپہ خانہ، دوربین، اور مردہ جسموں پر طبی تحقیق کو اپنانے میں دیر کرتے رہے۔

انیسویں صدی تک، مسلمان اشرافیہ میں، خاص طور پر استنبول اور قاہرہ میں، تقریباً ایک رائے عامہ قائم ہو چکی تھی کہ مسلم معاشروں کو مغرب کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ سیاسی اشرافیہ ‘‘استشراق پسند’’ نہیں تھی؛ وہ صرف اپنے ممالک کی حالتوں کو مغرب کے مقابلے میں موازنہ کرتے تھے۔ جیسا کہ عثمانی بیوروکریٹ اور دانشور ضیا پاشا، جو 1829 سے 1880 کے درمیان زندہ رہے، نے ایک مشہور نظم میں لکھا: “میں نے کافروں کی زمینوں میں سفر کیا اور انکے شہر اور محلات دیکھے، اور پھر میں اسلام کی ریاستوں میں گھومتا رہا اور مکمل تباہی دیکھی۔”

تاہم انیسویں اور بیسویں صدی میں اصلاحات کی کوششیں صرف جزوی طور پر کامیاب ہو سکیں۔ صدیوں کے علمی اور اقتصادی سکوت کا ورثہ مسلم معاشروں کے لیے عبور کرنا مشکل ثابت ہوا۔ اگرچہ اصلاح پسند بیوروکریٹس اکثر علماء کو نظرانداز کر دیتے تھے، انہوں نے کبھی واقعی علمی اور متوسط طبقے کی بحالی کی کوشش نہیں کی۔ زیادہ تر مصلحین کا عسکری پس منظر تھا، اور وہ آزاد رائے اور آزاد منڈی کی قدر کرنے کے بجائے طاقت کو ریاست تک مرکوز کرنے کے دلدادہ تھے۔ گزشتہ نصف صدی میں، علماء اور ریاست کا اتحاد مختلف شکلوں میں مسلم دنیا کے بڑے حصے میں اپنی طاقت دوبارہ قائم کر چکا ہے۔ جزیرہ نما عرب میں وہابی سعودی اتحاد کے ذریعے، ایران میں اسلامی انقلاب کے ذریعے، پاکستان میں شرعی عدالتوں کے عسکری تعلقات کے ذریعے، مصر میں ازہری علماء کے فوجی اتحاد کے ذریعے، اور ترکی میں دیانت کے منتخب شدہ سیاستدانوں کے اتحاد کے ذریعے دوبارہ سیاست اور علماء کا تعلق مضبوط ہوا ہے۔

اب کیا کرنا چاہیے؟

پہلا کام یہ ہے کہ ایمانداری سے اس صورتحال کو قبول کیا جائے اور مسئلوں کو اوورینٹلزم کے الزامات یا نوآبادیاتی ورثے پر افسوس کے بہانے چھپانے سے انکار کیا جائے۔ اگرچہ مغربی نوآبادیات اور سامراج نے کئی مسلم ممالک کو نقصان پہنچایا اور ان کے وسائل کا استحصال کیا، مگر اس تاریخ پر تنگ نظری نے مسلمانوں کو اپنے اندرونی مسائل کو حل کرنے اور اپنے اداروں میں اصلاحات لانے سے منع کئے رکھا ہے۔ خطے کی تاریخ کی ایماندارانہ بیان بازی اسلاموفوبیا میں اضافہ نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر، یہ بار بار دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلام، مسیحیت کے برخلاف، ریاست اور چرچ کو الگ کرنے کو مسترد کرتا ہے، اور اس وجہ سے یہ لبرل جمہوریت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ لیکن اسلامی تاریخ کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ابتدائی اسلامی تاریخ میں ریاست اور مذہب کے درمیان ایک حد تک علیحدگی موجود تھی، جس نے اسلام کے علمی اور اقتصادی سنہری دور میں کردار ادا کیا۔ علماء اور ریاست کا اتحاد نہ تو اسلام کی کوئی الٰہی ضرورت ہے اور نہ ہی ایک مسلسل تاریخی حقیقت ہے۔

تاریخ کی ایسی تشریح یہ تجویز کرتی ہے کہ معاصر مسلمان اپنے مذہب اور ریاستوں کے درمیان تعلق کو اس طرح نئے سرے سے تشکیل دے سکتے ہیں کہ یہ ذہنی اور معاشی تخلیقی صلاحیت کو فروغ دے، اور ساتھ ہی لبرلائزیشن اور جمہوریت کی راہ بھی ہموار کرے۔ مسلمانوں کو اس طرح کی اصلاح کے لیے مغربی تہذیب بن جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کی اپنی ابتدائی تاریخ اس سمت میں ایک مستند تحریک فراہم کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد علی شہباز

اپنا تبصرہ لکھیں