خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے ہاتھوں پولیس اہلکاروں کی مسلسل شہادتیں ادارہ جاتی نفسیات میں ایسے اضطراب کو بڑھا رہی ہیں ، جو گورننس کا بحران پیدا کرنے کے علاوہ ایک کرائم فائٹنگ فورس کے انہدام پہ منتج ہو گا ۔ پچھلے بیس سالوں میں پختونخوا پولیس کو دفاعی اداروں کی معیت میں جس بے پرواہی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑا کر دیا گیا ، اُس نے ادارے کی پیشہ ورانہ ساخت ، افرادی قوت ، مورال اور طویل المدتی استحکام بارے کئی سوالات پیدا کر دیئے ، یہ سوالات محض انتظامی نہیں بلکہ آئینی ، تزویراتی اور انسانی بھی ہیں ، کیا قانون نافذ کرنے والا سویلین ادارہ کسی ایسی جنگ کے لئے موزوں تھا جو خالصتاً عسکری نوعیت کی ہو ؟ اگر نہیں تو پھر پولیس جیسی سماجی فورس کو دہشتگردی کی اُس جنگ میں کیوں جھونکا گیا ؟ جسے امریکہ جیسی عالمی طاقت کی فوج بھی قابو کرنے میں ناکام رہی ۔
امر واقعہ یہ ہے کہ پولیس کا دائرہ اختیار معاشرے میں قانون کی عملداری ، سماجی و روایتی جرائم کی روک تھام اور سوسائٹی کو ریگولیٹ کرنے کے لئے امنِ عامہ کے قیام تک محدود ہے ، یعنی پولیس کمیونٹی کے اندر قانونی حدود میں کریمنل جسٹس سسٹم کی تکمیل کی خاطر سماجی جرائم بارے شواہد اکٹھے کرکے عدالتوں کی معاونت کرتی رہے تاکہ روزمرہ زندگی کے تنازعات کو یوں نمٹایا جائے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق ، چادر و چار دیواری کا تقدس اور سماجی آزادیاں متاثر نہ ہوں ۔ اس کے برعکس دہشت گردی کے خلاف جنگ قانونی حدود ، عدالتی نگرانی، سماجی اقدار اور انسانی حقوق کی نزاکتوں سے ماوراء ہے ، کاونٹر ٹیررازم کی حرکیات ایسی خفیہ معلومات ، سرحدی سلامتی ، بھاری ہتھیاروں ، فضائی نگرانی اور دشمن کو مٹانے کی عسکری حکمتِ عملی پہ استوار رہتی ہیں ، جو روایتی طور پر فوج یا نیم فوجی دستوں کے دائرہ کار میں آتی ہیں ۔ دنیا بھر کی مملکتیں دہشتگردی کے قلع قمع کے لئے فوجی صلاحتیوں کو بروئے کار لاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں پولیس جیسی نازک فورس کو ایسی مہیب جنگ کے حوالے کر دیا گیا جس سے نمٹنے کی اُن میں استعداد تھی نہ اُنہیں خود اپنا تحفظ یقینی بنانے کے لئے درکار وسائل میسر تھے ، اسی لئے پولیس ، عالمی سطح کا وسیع نیٹ ورک رکھنے والے تربیت یافتہ دہشتگردوں کا آسان ہدف بنتی گئی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کی تربیت ، وسائل ، میدان عمل ، کام کرنے کا ماحول اور قانونی طریقہ کار اس قسم کی جنگووں میں اترنے کے لئے موزوں ہیں ؟ ہرگز نہیں ! جب پولیس کو مسلسل عسکری نوعیت کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کے اثرات ہمہ جہت ہوتے ہیں ، تربیت یافتہ افسران اور اہلکاروں کی شہادتیں نہ صرف عددی کمی پیدا کرتی ہے بلکہ پولیس کی بنیادی ذمہ داریوں کے لئے درکار تجربہ اور مہارت کو بھی نگل لیتی ہیں ۔ جب اہلکار خود کو غیر متناسب خطرات کے سامنے بے بس پائیں تو فرض کی ادائیگی کا احساس اور ادارہ جاتی وفاداری متاثر ہوتی ہے، جس سے حکومتی رٹ کمزور اور سماجی نظم و ضبط مخدوش ہونے لگتا ہے ۔ گرفتار دہشتگردوں سے تفتیش پولیس اہلکاروں کے خاندانوں، رشتہ داروں اور خود اُن کے اپنے لئے ناقابل یقین خطرات کا سبب بنتی ہے ، جس سے پولیس اہلکاروں کے گھرانے عدم تحفظ اور جذباتی بحران کا شکار ہو رہے ہیں ، یہ صورتحال اس خدشہ کو بھی جنم دیتی ہے کہ اگر پولیس فورس کی مسلسل شہادتوں سے خون بہنے کا سلسلہ جاری رہا تو ادارہ اندر سے کمزور ہو کر عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔
دنیا کی جدید ترین ریاستوں خاصکر برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرات کے باوجود پولیس اور فوج کا کردار واضح طور پر الگ رکھا گیا ۔ انسداد دہشت گردی کی ذمہ داری پولیس کے اندر خصوصی یونٹس (جیسے کانٹر ٹیررازم کمانڈ)کے پاس ہے ، ماسوائے ہنگامی صورت حال کے فوج اور پیرا ملٹری فورسز کو عام طور پر سڑکوں پر تعینات نہیں کیا جاتا ۔ فوجی مدد کو عارضی اور مختصر مدت کی معاونت تک محدود رکھا جاتا ہے تاکہ پولیس کا سویلین تشخص برقرار اور عسکری و سویلین دائرہ کار میں توازن قائم رہے ۔ فرانس میں دہشت گرد حملوں کے بعد فوج کو آپریشن پاسبان کے تحت عوامی مقامات پر تعینات کیا گیا مگر پولیس اور جینڈرمیری کا دائرہ عمل اور کردار غالب رہا ، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ ، خصوصی دستے اور عدالتی نگرانی کو مضبوط بنایا گیا ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر خطرہ عسکری نوعیت اختیار کر لے تو ریاست فوجی معاونت لے تو سکتی ہے مگر پولیس کو مکمل طور پر جنگی محاذ پر نہیں جھونکا جاتا ۔ امریکہ میں 9/11 کے بعد ہوم لینڈ سیکیورٹی کا نیا ڈھانچہ بنایا گیا اور مقامی پولیس کو تربیت و خصوصی وسائل فراہم کیے گئے تاہم فوج کو اندرون ملک براہِ راست پولیسنگ میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ وہاں Posse Comitatus Act فوج کو سول قانون نافذ کرنے سے روکتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں انٹیلی جنس شیئرنگ، ٹیکنالوجی اور بین الادارہ جاتی تعاون بڑھانے کی بجائے سویلین امور اور پولیسنگ میں سیکیورٹی فورسز کے آئینی و قانونی کردار کو بڑھا کر پولیس کو اَن دیکھے خطرات سے دوچار کرنے کے علاوہ گورننس کا بحران پیدا کر دیا گیا ۔
ترکی میں کرد باغیوں کے خلاف طویل جدوجہد کے دوران پولیس ، سی ٹی ڈی اور فوج نے مشترکہ آپریشن کئے تو وقت کے ساتھ یہ احساس بڑھا کہ شہری علاقوں میں عسکری انداز اپنانے سے پولیس پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے، لہذا شہری پولیسنگ اور انسداد دہشت گردی کے طریقوں میں توازن پیدا کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی ۔ اسی طرح سری لنکا نے تامل ٹائیگرز کے خلاف طویل جنگ لڑی ، جس میں فوج مرکزی کردار میں رہی اور پولیس کا دائرہ عمل انٹیلی جنس شیئرنگ اور شہری نظم و نسق تک محدود تھا تاہم پھر بھی جنگ کے بعد مرحلہ وار نارملائزیشن کی گئی تاکہ پولیس فورس پر عسکریت کا اثر کم اور سول ادارے مضبوط ہوں ۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں دہشت گردی شدید ہو ، وہاں ریاستیں فوجی وسائل استعمال تو کرتی ہیں مگر پولیس کے بنیادی سویلین کردار کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کرتیں۔
علی ہذالقیاس ! خیبر پختون خوا پولیس کی جنگ دہشتگردی سے مکمل دستبرداری تو شاید ممکن نہ ہو کیونکہ دہشتگرد پولیس پر حملے کرکے اُسے میدان جنگ میں کھینچنے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہیں ، دوسرا دہشتگردی کے بڑے واقعات اکثر شہری علاقوں میں وقوع پذیر ہوتے ہیں ، جہاں ابتدائی ردّعمل پولیس ہی کو دینا پڑتا ہے ، چنانچہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی خاطر انسداد دہشت گردی یونٹس کی مضبوطی کے ذریعے عام پولیس کی بجائے خصوصی تربیت یافتہ یونٹس کو فرنٹ لائن پر رکھا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح ضم شدہ علاقوں جیسے حساس اضلاع میں فوج یا فرنٹیئر کور لیڈنگ رول کی بجائے معاون کردار ادا کریں ۔ خفیہ اداروں اور پولیس کے مابین بہترین کوارڈینشن پیدا کرنے کے لئے انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو موثر بنا کر جدید ٹیکنالوجی، نگرانی اور ڈیٹا بیس کے ذریعے پیشگی معلومات کے تبادلہ کا نظام بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ پولیس کا سب سے بڑا سرمایہ عوامی اعتماد ہوتا ہے، دنیا بھر میں کامیاب ماڈلز وہی ہیں جہاں پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں لیکن پولیس اگر مسلسل عسکری موڈ میں رہی تو اس کا سویلین چہرہ مسخ ہوتا جائے گا ۔ بلاشبہ کمیونٹی پولیسنگ کا نظام شفافیت اور احتساب کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ابہام سے لبریز ایسا پیچیدہ مظہر ہے جو احتساب ،شفافیت اور میرٹ کے معیارات کو ملتبس کرکے جارحانہ کاروائیوں کے ایسے تانے بانے بُنتی ہے جو تہذیبی و تمدنی عوامل کی نازک انگلیوں کو کچل دیتے ہیں ۔
چنانچہ خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ کے لیے یہ وقت واقعی ایک ٹھوس اور بروقت فیصلہ لینے کا ہے کیونکہ پولیس میں لوگ مرنے کے لئے بھرتی نہیں ہوتے بلکہ قانون کی عملداری کے ذریعے معاشرے کی تشکیل کے گداز عمل میں شامل ہوتے ہیں ۔ اگر انہیں مکمل عسکری جنگ میں جھونک دیا جائے تو نہ صرف ادارہ بلکہ پورا معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوتا جائے گا ۔ بین الاقوامی مثالیں بتاتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار واضح اور متوازن ہونے چاہییں ۔ اگر خیبر پختونخوا میں ایسا توازن پیدا نہ کیا گیا تو مسلسل جانی نقصان ادارے کے لیے ناقابلِ تلافی ثابت ہو سکتا ہے۔


