نتھنے
صادقہ نصیر
وہ ایک زندہ دل ، تعلیم یافتہ فنون لطیفہ کی شوقین اور مصوری ، مجسمہ سازی اور کہانیاں لکھنے کی ماہر تھی ۔ وہ بہت باشعور عورت تھی ۔ اس کو زندگی کی آگ سے محبت تھی ۔ سورج کی طرح وہ اس آگ سے زندگی کو روشنی دینا چاہتی تھی ۔ اس کو وجدان کی طرح محبت کے الاؤ کی تپش نے آواز دی ” یہ آگ باورچی خانے کے چولہے میں روشن رکھی جا سکتی ہے ۔ اس نے یکدم ایک نظم لکھ ڈالی
“مًرے گھر کے چھوٹے سے باورچی خانے میں الاؤ ہے؛ آگ کا الاؤ ۔ میں اس کی تپش اور روشنی میں بچوں کے لئے کھانے تخلیق کروں گی ۔ آٹے کے گول پیڑوں سے گول ترین پھولنے والی روٹی بناؤں گی ، نئی نئی ڈشیں اور کھانے بناؤں گی ۔ ” اب اس کے گھر سے دن میں تین اوقات یا کبھی زیادہ کھانوں کی خوشبوئیں بھپکوں کی صورت میں نکلتی تھیں ۔
صبح کو بل والے پراٹھے ، آملیٹ انڈہ ، ابلتا ہوا گرم دودھ ، دیگچی میں کاڑھی چائے میں الا ئچیوں کی خوش بو ۔ اور کبھی چھٹی والے دن فرنچ ٹوسٹ ۔ کبھی سرسوں کا ساگ ، مکئی کی روٹی پر مکھن اور کبھی اصلی گھی میں مکئی اور گندم کی روٹی کی بھور کو چوری بنانے کے لئے گرم کرتے وقت اصلی گھی کی خوشبو بچوں کو تیز قدم کر دیتی ؛ جو سکول جانے کی تیاری میں کوئی غسل خانے میں ہوتا کوئی سویٹر پہن رہا ہوتا تو کوئ پاجامہ اور پتلون اوپر گھسیٹ رہا ہوتا ، کوئی بالوں کو سجا کے ماتھے پر لٹکانے کی کوشش میں ۔ کوئی چھوٹی بچی جو بڑی بہن سے سرخ ربن بالوں میں بندھواتے وقت بحث کر رہی ہوتی ؛ باورچی خانے سے ماں کے ہاتھ سے پکے کھانوں کی پاک صاف خوشبو سے اپنی اپنی تیاریاں آدھی چھوڑ کر چولہے خانے کی طرف لپکتے ۔ کوئی پتلون کھینچتے بھاگتا ، کوئی یونیفارم ادھورا پہن کر تو کوئی ایک موزہ پہن کر دوسرا ہاتھ میں تھامے نتھنوں میں گھستی کھانے کی بے حال کرتی خوشبو کے تعاقب میں پاؤں گھسیٹتا تو کوئی اپنے ادھ بندھے بالوں کی لٹیں سنبھالتے ہوئے خوش بو کو اپنے اندر انڈیلنے کی جلدی میں باورچی خانے کی جانب لپکتا ۔ گھر کا سربراہ بھی اخبار کے ساتھ چائے کا آخری گھونٹ لے کر دوسرے کپ کی فرمائش کرتا ۔ ہر فرد زیادہ کی فرمائش کرتا ۔ بچے بڑے ان خوش بوؤں کے جادو سے بغیر کسی اصرار کے دوگنا کھا جاتے ۔ کبھی ماں باپ کو “کھانا کھاؤ” کہنے کا تردد نہ کرنا پڑتا ۔ جو سکول نہ جاتے ان کے نتھنے بھی ارتعاش میں آ جاتے اور چولہے خانے کی خوشبو انہیں رینگ کر چولہے کے قریب آنے پر مجبور کر دیتی ۔ اور وہ پراٹھے کے ٹکڑے اٹھانے کے لئے بہن بھائی یا باپ کی پلیٹ سے سرک کر اٹھا لیتے ۔ کبھی ماں باپ کو ایک دوسرے پر الزام نہ لگانا پڑتا کہ بچہ کھاتا نہیں ہے ۔ بلکہ بچے بغیر کسی مشقت کے اور ٹریٹمینٹ پلان اور تھیراپی کی حکمت عملیوں سے خوب کھاتے ۔
باورچی خانے کی خوش بو کو ماں لنچ باکس میں باندھ کر دفتر اور سکول جاتے افراد کے ساتھ روانہ کر دیتی ۔ اس تیسرے پراٹھے ، فرنچ ٹوسٹ یا مکھن شہد والی روٹی کی خوشبو پوری کلاس کے بچوں کے نتھنوں میں گھستی ۔ بچے آدھی چھٹی سے پہلے ہی آدھا پراٹھا کھا چکتے ۔ ٹیچر کے ڈر سے کاپی پر لکھتے ہوئے مزید سر جھکا لیتے کہ کہیں ٹیچر خوش بو دار پراٹھے کا بکس آدھی چھٹی تک اپنے پاس نہ رکھ لے ۔ اور ساتھ بیٹھے ساتھی طالبعلم کے نتھنوں میں خوش بو سے ارتعاش ہوتا تو وہ بھی ڈیسک کے نیچے سے ہاتھ پھیلا کر ایک لقمہ مانگتا ۔ انکار پر دوستی ختم ہونے کی، دھمکی یا ٹیچر کو شکایت لگانے کا حربہ ۔ یا یہ لالچ کہ کل میں تم کو آدھا پراٹھا دوں گا ۔ یہ خوش بو بچوں کو ایسے ہی بے فکر معصوم بنائے رکھتی ۔
دوپہر کو بچے گھر داخل ہوتے تو بھوک سے نڈھال ان خوش بوؤں سے پھر لپٹ جاتے جو ان کے نتھنوں میں گھس کر ان کو بھوک سے پاگل کر دیتیں ۔ سکول سے واپسی پر گھر سے ذرا دوری پر ہی پورے محلے میں یہ خوش بوئیں پھیلی ہوتیں ۔ کوئی قیاس کرتا اور کہتا کہ “آج تو ہمارے گھر میں یہ پکا ہوگا ۔” خوش بوئیں ہوتیں ہی ایسی تھیں کہ گھر پہنچتےہی لباس تبدیل کرنے سے پہلے باورچی خانے پر یلغار کرتے بچے ماں کے ڈسپلن کے باوجود آدھ بدلے کپڑوں میں باورچی خانے کو لپکتے ۔ ان کو ہوش ہی نہ رہتا کہ کیا پکا ہوا ہے ۔ ابلے چاول دال، کچھڑی ، روٹی ، ساگ ، گوشت ، آلو قیمہ ، ماش کی دال ، آلو گوشت کا شوربہ ، یا لسی اور رائتہ ۔ پودینے کی تیز مہک کی چٹنی ، بیسن کی روٹیاں یا کچھ بھی ۔ بس سب کچھ کھا جاتے ۔ شام کی سنیکس میں پکوڑے ، آلو کے بیسن میں لتھڑے کٹلس ، بھنے چنے یا کچھ بھی خوش بو کے زور پر پیٹ میں گھس جاتے ۔ کھیل کود کر تھکے ماندے شام کو پھر دوبارہ باورچی خانے کی خوش بو سے سب کچھ کھا جاتے اور بغیر کسی نفسیاتی الجھنوں کے ہنستے کھیلتے مطمئن رہتے۔ نتھنوں میں گھستی خوش بو سے مخمور ماں کے ہاتھوں کے بنے کھانوں میں ممتا کے نیند آور وجود کو کھانوں کے نوالوں میں لپیٹ کھا پی کر کشاں کشاں اونگھتے اور نیند کے سمندر میں ڈوب جاتے ۔
وہ خوش ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کو پیدا بھی کر سکتی ہے ۔ اس کو احساس تفاخر تھا کہ وہ تخلیق کار ہے ۔ اس نے انسان پیدا کئے ۔ وہ سوچتی کہ میں اپنی اس تخلیق کی چمک کو بڑھانے کے لئے کھانا بناتی ہوں ۔ سب خوش ہوتے ہیں وہ بھی خوش ہوتی ۔ اس کے گھر میں ممتا کا جذبہ باورچی خانے کے چولھے کے الاؤ سے جگمگاتا ہے ۔ اس کا شوہر اس الا ؤ کے اسباب پیدا کرتا ہے ۔ وہ ایک باشعور تعلیم یافتہ عورت تھی اور اس نے باورچی خانے کے الاؤ سے ایک توازن کے ساتھ خاندان بنایا ہوا تھا ۔ وہ کبھی اپنے آپ کو مظلوم نہیں سمجھتی تھی اور نہ اکیلی ۔ وہ فارغ وقت میں کہانیاں لکھتی ، مصوری کرتی ۔ مجسمے بھی بناتی ۔ اس کی مصوری اور مجسمے بکتے جو اس کا مشغلہ تھا ۔ اس کی کہانیاں چھپتیں تو وہ شہرت بھی دامن میں ڈال لیتی ۔ اور معاشی طور پر بھی شانہ بشانہ شریک رہتی ۔ مگر رفتہ رفتہ اس خوشبو کا سفر سمٹنا شروع ہونے لگا ۔ اب لوگ امیر ہوتے جا رہے تھے اور وہ بھی معاشی ترقی میں آگے بڑھتی جا رہی تھی مگر ممتا اس کے وجود میں رہتی ۔ وہی ممتا جس پر انسانی بقا کا انحصار ہے ۔ معاشی خوش حالی نے تعمیر کے انداز بدلے تو نئے معاشی معیارات کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے باورچی خانہ اور کھانے کا کمرہ فاصلے پر تعمیر ہونے لگے ۔ خوشبو اب باورچی خانے سے گھر کے لوگوں سے فاصلہ اختیار کر گئی ۔ اب خوش بو انہیں اشتہا بن کر باورچی تک نہ لے جاتی بلکہ گھڑی دیکھ کر سب اپنے کمروں سے نکلتے اور کھانے کے کمرے میں بیٹھ جاتے۔
اس کے گھر میں بھی خوشبو تو ایک کمرے تک محدود ہو گئی تھی ۔ بند کھڑکیوں سے باہر نہ نکل سکتی تھی ۔ اب سکول سے آتے بچے اندازہ نہ لگا سکتے تھے کہ آج ان کے گھر میں کیا پکا ہوگا ۔ لیکن پھر بھی وہ اپنے خاندان کو میز پر اپنے باورچی خانے سے نفیس کراکری میں کھانا ڈال کر پیش کرتی ۔ سب ہی کھانوں کی تعریف کرتے ۔ وہ خوشی سے نہال ہوتی ۔ وہ ایک پڑھی لکھی عورت تھی ۔ اور ایک مشہور ادیبہ ، مصورہ مجسمہ ساز ۔ وہ باورچی خانے کے الاؤ پر کھانا پکانے کے دوران ہی بہت سی نظموں اور کہانیوں کے خاکے بھی پکا لیتی ۔ ہر اچھا خیال وہیں جنم لیتا ۔ وہ بہت سمارٹ عورت تھی ۔ اس کو باورچی خانے میں مختلف کھانوں کو تخلیق کرنے میں مزا آتا ۔ آٹا گوندھنا اسے ایسا لگتا جیسے وہ فائن آرٹ کی طالبہ کی طرح مجسمہ سازی کے لئے مٹی گوندھ رہی ہے اور اس آٹے کو مٹی کی طرح گوندھنا اور ان کے پیڑے بنا کر گول روٹیاں اسے فن لگتا ۔ وہ روٹیوں کو اپنے شاہ کار مجسمے سمجھتی ۔ کبھی کبھی وہ بیکنگ بھی کر لیتی ۔ اس کے شعور اور توازن کی صلاحیت نے اسے عورت ہونے کے باوجود اسکے لئے اپنی شناخت کے کئی راستے کھول رکھے تھے ۔ اس باورچی خانے کی آگ اسے جلا نہیں رہی تھی بلکہ اس کی ممتا کے جذبے کی تسکین سے اطمینان قلب دیتی کہ وہ مجسمے ہی نہیں انسان پیدا کرکے ان کی بھوک مٹا کر دنیا کو پیٹ بھرے انسان بنا کر دے رہی ہے ۔ وہ فخر سے سر بلند کرلیتی ۔ اس کے بچے ہر صبح اس کے ہاتھ کے پکے پراٹھے اور دہی مکھن کی چوری سے پیٹ بھر کر سکول جاتے تو وہ سمجھتی کہ اس نے بھوکوں کو کھانا کھلا دیا ہے ۔
وقت گزرتا رہا ۔
اسے باغبانی کا بھی شوق تھا ۔ بہار آتے ہی وہ بیک یارڈ اور فرنٹ پر کیاریاں درست کرتی ۔ اور نرسری سے انواع واقسام کے پودے لاتی ۔ مالی حالات بہتر ہوتے گئے ۔ اس کا شوہر بھی بے فکری سے ترقی کے زینے طے کرتا گیا ۔ بچے نوجوانی کی حدود میں قدم رکھنے لگے ۔ اسے اب اپنے مشاغل پر توجہ دینے کے لئے مزید وقت ملنے لگا ۔ اب وہ اپنے باورچی خانے کی کھڑکیوں کے سامنے اور کاؤنٹرز پر بھی ان ڈور پودے رکھنے لگی ۔ انہیں پانی دیتی اور ترو تازہ رکھتی ۔ ہر پودا اس کے نزدیک ایک علامت تھا ۔ کوئی پودامحبت میں اضافے کے لئے ، کوئی پلانٹ دولت کے لئے ۔اور کوئی امن اور شانتی کی علامت تھا ۔ کسی میں پھول بھی کھلتے ۔ مگر خوش بو دار پودے کم تھے ۔ اس کو خیال ہی نہ آیا کہ خوش بو دار پودے خرید کرلائے ۔ ان ڈور پلانٹ سر سبز تو ہوتے ہیں مگر خوش بو دار کم ۔ ایک دن اس کی سہیلی اس کے گھر آئی جو اس کے پودوں کے شوق کو جانتی تھی ۔ وہ سہیلی اپنے ساتھ نرگس کے پھولوں کے پودے کا گملا بطور تحفہ لے آئی ۔ یہ باورچی خانے کے ان ڈور پودوں میں ایک اضافہ تھا ۔ اس کی سہیلی نے بتایا کہ ان پودوں کو ہرا بھرا اور خوب پھولدار بنانا ہے تو ان میں مصالحے ڈالا کرو ۔ دار چینی، ہلدی اور چینی یا چاول کا پانی ڈالنا مفید ہوگا ۔ وہ یہ ٹوٹکے لکھ لیتی ۔ وہ خوش ہوئی کہ باورچی خانے کے مصالحے کھاد کا کام کرسکتے ہیں ۔ ۔ وہ باورچی خانے کے سارے مصالحے ان میں ڈالتی ۔ کبھی ہلدی ، کبھی دار چینی اور کبھی محبت میں اضافے کے لئے شکر کا ایک چمچ ڈال دیتی ۔ دولت میں اضافے کے لئے ایک سکہ گملے کی مٹی میں دبا دیتی پودے خوب پھلنے لگے ۔
نرگس کا پودا بھی خاموشی سے بڑھنے لگا ۔ اس نے اس میں پھول کھلتے دیکھے تو خوشی سے بے قابو ہو کر نرگس کے مزید گملے خرید لائی ۔ ان میں بھی پھول کھلے ۔ خوش بو بھی دینے لگے ۔ یہ خوش بو سب کے نتھنوں میں گھسنے لگی ۔ بڑی مسحور کن خوشبو والے نرگس کے پودے ۔ رفتہ رفتہ نرگسی خوش بو نے ایسا سحر کیا کہ باورچی خانے سے اٹھنے والی خوشبو سے سب متنفر ہونے لگے ۔ وہ باورچی خانے کے بل والے پراٹھوں سے ابکائی کرنے لگے ، آملیٹ پراٹھا سکول لے جانا بند کردیا ۔ اب انہیں شرم آنے لگی کہ انڈے کی بو ساری کلاس میں پھیلتی ہے تو سب بچے ناک پکڑ کر نتھنے بند کر لیتے ہیں ۔ جب کھانا بنتا باورچی خانے کا دروازہ بند کردیا جاتا تاکہ کھانوں کی بدبو ان کے سکول اور دفتر کے کپڑوں میں نہ رچ جائے ۔ رفتہ رفتہ گھر کےبچے بڑے سبھی باورچی خانے کے ہر کھانے پر ابکائی کرنے لگتے۔ ۔ ایسے لگتا کہ بچوں کے جگر خراب ہوگئے ہیں ۔ اب تو اس کی ممتا کو بھی فکر ہوئی ۔ اس نے ڈاکٹروں کے چکر لگانے شروع کردیئے ۔ سپلیمینٹ کے ڈبوں نے راشن کی الماریوں میں جگہ بنانا شرع کردی ۔ سیریل ، ڈبل روٹیاں اور فروزن کھانوں کے ڈبے اور ادھ پکے گوشت کے پیکٹ جن کے پکنے پر کوئی خوشبو نتھنوں میں پہنچ کر اشتہا نہ پیدا کرتی ۔
لیکن ماں پھر ماں ہوتی ہے بہت جتن کرتی ۔ نت نئے مصالحے آزماتی ترکیبیں ڈھونڈتی تاکہ کھانے کی خوشبو بچوں کے نتھنوں میں گھسے اور اشتہا سے بچے کھانا کھائیں مگر بچوں کی کھانے کی رغبت کم ہوتی گئی ۔ ہر کوئی روزانہ اس کے کھانوں پر تنقید کرنے لگ گیا ، کبھی زیادہ ہلدی کی شکایت ،کبھی دارچینی ، کبھی ابلتے گوشت کی بساند پر تنقید ۔ اور کبھی کالی مرچوں اور بڑی الائچی کو ہاتھ میں پکڑ کر سب گھماتے کہ یہ کیا بلا ہے ۔ کبھی پودینے کی خوش بو پر جو پہلے سب کو تازگی کا احساس دیتی اب بدبو میں بدل چکی تھی ۔ ادھر نرگس کے پھولوں نے خوب کھلنا شروع کر دیا تھا ۔ نرگس کے سینچے پودوں کی خوش بو نے گھر میں پھیلنا شروع کیا ۔ پھر رفتہ رفتہ نرگسی خوش بو محلے کے باقی گھروں تک بھی پہنچی ۔ ایک دن وہ گلی میں شام کی واک کے لئے نکلی ۔ اپنی گلی کی پڑوسنوں سے چلتے چلتے سلام دعا کے لئے رکی ۔ سب نے اس کے گھر سے نکلنے والی نرگس کے پھولوں کی مسحور خوشبو کی تعریف کی ۔ اور سب نے ان پھولوں کو اپنے باورچی خانوں میں رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ اگلی مرتبہ وہ باہر واک کے لئے نکلی تو ہمسائی عورتوں نے بھی بچوں کی ابکائیوں کے بار ے میں بتایا ۔ خاص طور پر جوان لڑکے لڑکیوں کی باورچی خانے کی بدبو سے شدید نفرت کا ذکر کیا ۔ اس نے پڑوسنوں نے پوچھا کہ پھر بچے صبح کیا کھاتے ہیں ۔ سب نے کہا کہ وہ پیسے لے کر جاتے ہیں اور باہر سے خرید کر کھاتے ہیں ۔
وہ آزردہ ہوئی مگر کیا کرتی بڑھتے نشو نما پاتے بچوں کو بھوکا تو نہیں رکھا جاسکتا ۔ پھر اس کے بچے بھی باہر سے کھانے لگے ۔ رفتہ رفتہ گھر کے بڑے بھی باہر کھانے لگے ۔ وہ سب جونہی کسی باہر کے پبلک باورچی خانوں کے قریب سے گزرتے ان کے نتھنے اتنے متحرک ہونے لگتے کہ گاڑیاں روک کر سب بے ساختہ نتھنوں کو پھیلا کر وہاں میزوں پر جگہ سنبھالتے اور سزلنگ آوازوں کے ساتھ خوشبو ان کے اندر کھانے کےبڑے بڑے آٹے سے بنے آرڈرز انڈیل دیتی ۔ اب تو دوپہر کو سلاد کے پیکٹ ، اور ڈرنکس پر گزارہ ہو جاتا ۔ رات کو بھی گھر کا باورچی خانہ نہ جلتا اور نہ ہی بدبو پھیلتی ۔ رات کو ڈبوں میں کھانا آرڈر ہو جاتا ۔ وہ بھی اس آرام کی عادی ہوگئی تھی ۔ نرگس کے پودوں کو ٹک ٹاک پر بتائی ترکیبوں سے باورچی خانے کے سارے مصالحے ان پودوں کے گملوں میں ڈال دیتی ۔ نرگس کے پودوں کو تو قیمتی مصالحوں کے آمیزے سے سینچتی ۔ باورچی خانہ اچھا بھلا اندرونی سبزہ زار لگنے لگا تھا ۔ باورچی خانے سے اب نہ ابکائ والی بو آتی تھی نہ گندے برتنوں کا ڈھیر لگتا تھا ۔ باورچی خانے کے درو دیوار صاف رہنے لگے ۔ اور زندگی کا شور بھی کم ہوگیا ۔ ہاں گھر میں چہل پہل تب ہوتی جب کھانے کی ڈلیوری ہوتی ۔ سب کے نتھنے پھیل جاتے ۔ “واؤ” اور ” امیزنگ” کی آوازوں سے گھر میں چند لمحوں کے لئے رونق لگتی ۔ سب افراد جن کو ابکائیاں آتی تھیں وہ اشتہا سے مغلوب باہر دروازے پر نگاہیں لگائے بے تابی سے کھانے کی ڈلیوری کا انتظار کرتے ۔


