گولڈ سٹار جو کینٹ کو جانتے ہیں؟-عارف انیس

یہ کوئی ایرانی نہیں ہے۔ کوئی عرب نہیں ہے۔ کوئی مسلمان نہیں ہے۔ کوئی امن پسند لبرل نہیں ہے جو واشنگٹن کی کافی شاپ میں بیٹھ کر جنگ مخالف نعرے لگاتا ہو۔ یہ آدمی امریکی فوج کا گرین بیرے تھا۔ گیارہ بار جنگ میں گیا۔ زیادہ تر عراق میں۔ فوج سے ریٹائر ہو کر سی آئی اے میں گیا۔ پیرا ملٹری آفیسر بنا۔ خفیہ آپریشنز چلائے۔ بیوی شینن کینٹ شام میں سروس کر رہی تھی جب جنوری دو ہزار انیس میں شام کے شہر منبج میں ایک خودکش بمبار نے خود کو اڑایا اور شینن مر گئی۔ دو بچے یتیم ہو گئے۔ جو کینٹ گولڈ اسٹار شوہر بن گیا۔ وہ مرد جس کی بیوی وطن کی خدمت میں مری۔

اس آدمی نے ٹرمپ کی حمایت کی۔ ریپبلکن پارٹی سے واشنگٹن اسٹیٹ سے دو بار کانگریس کا الیکشن لڑا۔ دونوں بار ہارا۔ مگر ٹرمپ نے اسے نوازا۔ فروری دو ہزار پچیس میں ٹرمپ نے جو کینٹ کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم سینٹر کا ڈائریکٹر نامزد کیا۔ سینیٹ نے جولائی میں باون بمقابلہ چوالیس ووٹوں سے تصدیق کی۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم سینٹر امریکہ کی وہ ایجنسی ہے جو دہشت گردی کے خطرات کا تجزیہ کرتی ہے اور صدر کو مشورہ دیتی ہے کہ خطرہ کہاں ہے اور کتنا ہے۔ یعنی جو کینٹ وہ آدمی تھا جو ٹرمپ کو بتاتا تھا کہ امریکہ کو کس سے خطرہ ہے اور کس سے نہیں۔

اور آج سترہ مارچ دو ہزار چھبیس کو اسی آدمی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ایکس پر خط پوسٹ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے نام۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کا سب سے بلند رتبہ عہدیدار ہے جس نے ایران جنگ پر استعفیٰ دیا ہے۔

خط پڑھیں۔ ہر لفظ تول کر لکھا گیا ہے۔
“میں نے بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم سینٹر کے ڈائریکٹر کے عہدے سے آج سے مستعفی ہوں۔ میں اپنے ضمیر کا سامنا کرتے ہوئے ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔ ایران سے ہمارے ملک کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ میں شروع کی ہے۔”

یہ جملہ دوبارہ پڑھیں۔ “ایران سے ہمارے ملک کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔” یہ جملہ کسی ایرانی عہدیدار نے نہیں کہا۔ کسی امن پسند تنظیم نے نہیں کہا۔ کسی لبرل اخبار نے نہیں لکھا۔ یہ جملہ اس آدمی نے کہا جس کا کام ہی یہ تھا کہ بتائے کہ امریکہ کو کس سے خطرہ ہے۔ اور وہ کہہ رہا ہے: خطرہ نہیں تھا۔ جنگ جھوٹ پر شروع ہوئی۔ اسرائیلی لابی کے دباؤ میں شروع ہوئی۔

یہ صرف ایک استعفیٰ نہیں ہے۔ یہ شگاف ہے۔ وہ شگاف جو ہر جنگ میں آتا ہے جب اندر کے لوگ باہر آ کر بولتے ہیں کہ بادشاہ ننگا ہے۔ ویتنام میں ڈینیئل ایلسبرگ نے پینٹاگون پیپرز لیک کیے تھے۔ عراق میں رچرڈ کلارک نے لکھا تھا “ہم سے غلطی ہوئی۔” اور آج جو کینٹ نے لکھا ہے: “یہ جنگ جھوٹ پر کھڑی ہے۔ اسرائیل کے دباؤ میں شروع ہوئی ہے۔ اور میں اس کا حصہ نہیں بن سکتا۔”

جو کینٹ کئی حوالوں سے “اچھا آدمی” نہیں ہے۔ یہ ٹرمپ کا وفادار تھا۔ دائیں بازو کا سخت گیر تھا۔ اور جب ایسا آدمی کہے کہ یہ جنگ جھوٹ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جھوٹ اتنا بڑا ہے کہ اپنے بھی چھپا نہیں سکتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں