کبھی کبھی زندگی ایک عجیب موڑ پر آ کر ٹھہر سی جاتی ہے۔ اردگرد سب کچھ ویسا ہی ہوتا ہے۔۔۔گھر وہی، گلیاں وہی، لوگ بھی شاید وہی۔۔۔مگر دل کو لگتا ہے جیسے سب بدل گیا ہو۔ انسان اپنے ہی گھر میں بیٹھا ہوتا ہے مگر اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی اجنبی شہر میں آ نکلا ہو۔ کبھی فون کی گھنٹی کا انتظار رہتا تھا، اب فون خاموش پڑا رہتا ہے۔ کبھی دروازے پر دستکیں ہوتی تھیں، اب دروازہ بھی جیسے خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھا ہے۔
زندگی کے اسی خاموش لمحے میں انسان اپنے آپ سے ایک سوال پوچھتا ہےکہ کیا واقعی لوگ بدل گئے ہیں یا میں بدل گیا ہوں؟ اور پھر آہستہ آہستہ احساس ہوتا ہے کہ شاید یہ لمحہ دراصل ایک موقع ہے۔۔۔اپنی ذات سے ملنے، اپنے دل کی سننے اور اپنے رب کے قریب ہونے کا۔ جب سب لوگ دور ہو جائیں، تب ہی آپ کو اپنی اصل طاقت، اپنی اندرونی حکمت اور اپنی ذات کی قدر کا احساس ہوتا ہے۔یہ وقت شکایت یا دکھ کا نہیں، بلکہ خود کو پہچاننے اور اپنی زندگی کے راستے کو سمجھنے کا ہے۔ یہی لمحہ ہے جب آپ جان پائیں گے کہ تنہائی کی چادر کے نیچے چھپی ہوئی حکمت اور سکون۔۔۔ آپ کے سب سے قیمتی ساتھی ہیں۔
یہ سوال اکثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب رشتوں کی گرمجوشی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔ کبھی بہن بھائی روز ملتے تھے، ہنسی مذاق ہوتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگیاں بھی ہوتی تھیں مگر دل میں ایک قربت باقی رہتی تھی۔ مگر وقت کا پہیہ گھومتا ہے تو وہی رشتے کبھی مصروفیات کی دھند میں کھو جاتے ہیں۔ کبھی شادیوں کے بعد فاصلے بڑھ جاتے ہیں، کبھی ذمہ داریوں کا بوجھ رشتوں کی مٹھاس کو کم کر دیتا ہے۔ایسے میں انسان کو لگتا ہے جیسے وہ کسی قیدِ تنہائی میں آ گیا ہو۔ باہر کی دنیا آباد ہوتی ہے مگر دل کے اندر ایک سنسانی سی پھیل جاتی ہے۔یہ تنہائی بظاہر تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر اگر غور کیا جائے تو یہ زندگی کا ایک عجیب سبق بھی ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کے دکھ درد کو بہت جلد محسوس کر لیتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر اداسی دیکھ کر دل بے چین ہو جاتا ہے۔ کسی کے مسئلے کا ذکر سن کر فوراً مدد کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کی خوشیوں کے لیے صرف کر دیتے ہیں۔ وہ رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، ٹوٹے دلوں کو سہارا دیتے ہیں اور کبھی کبھی اپنی خواہشات کو بھی قربان کر دیتے ہیں۔مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ کبھی کبھی سب سے زیادہ تنہا رہ جاتے ہیں۔اس کی وجہ شاید یہ نہیں کہ لوگ برے ہوتے ہیں۔ اصل میں زندگی کی رفتار ہی ایسی ہے کہ ہر شخص اپنے دائرے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ کوئی روزگار کے چکر میں، کوئی گھر کی ذمہ داریوں میں اور کوئی اپنی نئی دنیا بسانے میں۔۔۔ رفتہ رفتہ تعلقات کی شدت کم ہونے لگتی ہے۔یہاں ایک اور حقیقت بھی چھپی ہوتی ہے۔ جو لوگ بہت زیادہ ہمدرد ہوتے ہیں وہ اکثر اپنی حدود مقرر نہیں کر پاتے۔ وہ ہر مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں۔ ہر دکھ کو اپنے دل میں جگہ دے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ تھک جاتے ہیں، مگر انہیں اس تھکن کا احساس بھی دیر سے ہوتا ہے۔
اسلام ہمیں ہمدردی اور محبت کا درس دیتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی میں توازن ضروری ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک خوبصورت اعتدال نظر آتا ہے۔ آپ ﷺ لوگوں کی مدد بھی کرتے تھے، ان کے دکھوں میں شریک بھی ہوتے تھے مگر اپنے رب کے ساتھ تعلق کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔یہی تعلق انسان کو تنہائی کے لمحوں میں سہارا دیتا ہے۔قرآن مجید میں کئی ایسے واقعات ہیں جہاں تنہائی دراصل ایک تربیت بن کر سامنے آتی ہے۔ حضرت یوسفؑ کو جب ان کے بھائیوں نے کنویں میں ڈالا تو بظاہر وہ ایک بے بس اور تنہا لمحہ تھا۔ مگر وہی لمحہ آگے چل کر ان کی عظمت کا راستہ بن گیا۔ حضرت یونسؑ جب مچھلی کے پیٹ میں تنہا تھے تو انہوں نے یہی دعا کی:
“لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین”
اور اسی دعا نے ان کے لیے نجات کا راستہ کھول دیا۔ان واقعات میں ایک گہرا پیغام چھپا ہے۔ کبھی کبھی اللہ انسان کو دنیا کی بھیڑ سے نکال کر تنہائی میں اس لیے لے جاتا ہے تاکہ وہ اپنے دل کی آواز سن سکے۔
ہماری زندگی میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ جب رشتے کم ہونے لگتے ہیں تو انسان اپنے اندر جھانکنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرتا ہے اور اپنے رب کے قریب ہونے لگتا ہے۔تنہائی کے یہ لمحے بظاہر خاموش ہوتے ہیں مگر حقیقت میں یہ روح کی گفتگو کے لمحے ہوتے ہیں۔ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جب انسان اس مرحلے سے گزر جاتا ہے تو اس کی سوچ بدل جاتی ہے۔ وہ لوگوں سے توقعات کم کر دیتا ہے اور شکر گزاری زیادہ سیکھ لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر تعلق ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا، مگر جو تعلق سچا ہوتا ہے وہ وقت کی آزمائش سے گزر کر اور مضبوط ہو جاتا ہے۔
پھر زندگی میں کچھ ایسے لوگ آتے ہیں جو تعداد میں کم ہوتے ہیں مگر خلوص میں بہت زیادہ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ گفتگو میں بناوٹ نہیں ہوتی۔ جن کے ساتھ بیٹھ کر انسان کو سکون محسوس ہوتا ہے۔تب انسان کو یہ بھی سمجھ آ جاتا ہے کہ اصل خوشی لوگوں کی تعداد میں نہیں بلکہ تعلق کے معیار میں ہوتی ہے۔
تنہائی انسان کو ایک اور خوبصورت سبق بھی دیتی ہےکہ جب انسان بہت سے تجربات سے گزرتا ہے تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ کینہ اور نفرت دل کو بوجھل بنا دیتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ لوگوں کو معاف کر دیا جائے اور دل کو ہلکا رکھا جائے۔شاید اسی لیے صوفیاء کہتے ہیں کہ دل کو آئینے کی طرح صاف رکھو، کیونکہ صاف دل میں ہی سکون کا عکس نظر آتا ہے۔رشتے اپنی جگہ خوبصورت ہیں مگر ان پر مکمل انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ جب دل اللہ سے جڑ جاتا ہے تو تنہائی بھی ایک عبادت بن جاتی ہے۔پھر انسان خاموش لمحوں میں بھی سکون محسوس کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں، بلکہ ایک بڑی حکمت کے سفر کا حصہ ہے۔اور شاید یہی تنہائی کا سب سے بڑا راز ہے کہ یہ ہمیں دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے رب سے قریب کر دیتی ہے۔


