گائتری چکرورتی سپیوک : “مابعد نو آبادیات،تصور غیر،اور تانیثی تنقید” /منصور ساحل

Abstract
Gayatri Chakravorty Spivak is a prominent literary and social critic known for her rare intellectual perspectives. Her writings focus on postcolonial studies, feminism, and the concept of the “Other.” Through her complex and multi-dimensional works, she has fundamentally challenged the narratives, intellectual frameworks, and power relations imposed during the colonial era. Her critical gaze has particularly centered on the representation and restoration of millions of anonymous and oppressed individuals whom colonial systems pushed to the margins, excluding them from the flows of history, culture, and identity.She has elucidated how colonial powers not only established dominance over geographical territories but also distorted minds, languages, and identities, creating a form of knowledge in which the individual voices, selves, and experiences of the colonized and subjugated people were systematically ignored or misrepresented. This article is an attempt to clarify her thought.
کلیدی الفاظ : مابعد نوآبادیات،تصور غیر،مقامیت، علمیاتی ڈسکورس، نو آبادیاتی ایجنڈا،تانیثی مزاحمت۔
گیاتری چکروورتی سپیوک (پیدائش: ۲۴ فروری ۱۹۴۲ کلکتہ) ہندوستانی نژاد ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ادبی نظریہ دان اور فلسفی ہیں جن کی فکر نے جدید انسانی علوم کے میدان میں گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک ممتاز نسوانی نقاد، پس‌نوآبادیاتی مفکر اور کولمبیا یونیورسٹی میں تقابلی ادب کی پروفیسر کی حیثیت سے، ان کا کام ساختیات، مارکسزم اور ساختی تنقید کے سنگم پر کھڑا ہے جس نے عالمی دانشورانہ دبستان کو نئی جہتیں عطا کی ہیں۔ان کے فکری سفر کا ایک اہم موڑ ۱۹۷۶ میں آیا جب انہوں نے جیکس ڈیریدا کی مشہور فرانسیسی تصنیف “De la Grammatologie ” کا انگریزی میں بہترین ترجمہ پیش کیا۔ یہ ترجمہ “Of Grammatology” کے عنوان سے نہ صرف ساخت شکنی (Deconstruction) کو انگریزی خواں دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بنا بلکہ خود سپیوک کو بھی بین الاقوامی علمی حلقوں میں ایک اہم نظریہ دان کے طور پر متعارف کروایا۔
سپیوک کی عالمی شہرت کا بنیادی ستون ان کا انتہائی اثر انگیز مقالہ “ََ Can the Subaltern Speak۱۹۸۸ ہے۔ اس مقالے میں انہوں نے پس‌نوآبادیاتی دور اور اس کے بعد کے سماجوں میں ماتحت طبقوں،تیسری دنیا کے باشندے بالخصوص غریب اور پسماندہ خواتین کی آواز کی نمائندگی کے پیچیدہ مسئلے کو بڑی گہرائی سے بیان کیا۔ ان کا استدلال ہے کہ استعماری اور قومی بیانیے دونوں ہی “سب آلٹرن” (ماتحت) کی حقیقی آواز کو دبا کر اس کی نمائندگی اپنے مفادات کے تحت کرتے ہیں جس سے وہ اپنی مرضی کا اظہار کرنے کے قابل نہیں رہتی۔
ان کے فکری کارنامے ہندوستان میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے ۲۰۱۳میں ادب اور تعلیم کے میدان میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کے تیسرے بڑے شہری اعزاز “پدم بھوشن” سے نوازا۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ ہندوستانی فکر کی عالمی سطح پر پہچان کی علامت بھی ہے۔سپیوک کا اہم کارنامہ can the subaltern speak ہے ۔اس مضمون کے بارے بحث سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ سبالٹرن کیا ہے۔
” سبالٹرن کا مطلب ہے وہ لوگ جو معاشرے میں نچلے درجے پر ہوں۔فوج میں وہ سپاہی جو سب سے نیچے ہوں۔دفتر میں وہ ملازم جو چھوٹی نوکری کرتے ہوں۔معاشرے میں وہ غریب لوگ جن کی کوئی سیاسی طاقت یا دولت نہ ہو جیسے کسی ڈکٹیٹر (آمر) کے دور میں رہنے والے غریب۔سب آلٹرن سے مراد وہ طبقہ ہے جس کی کوئی آواز نہیں ہوتی، جسے کوئی نہیں سنتا، اور جو ہمیشہ دوسروں کے حکم پر کام کرتا ہے۔”(۱)
معاشرے کے سب سے کمزور اور پسماندہ طبقوں کو سبالٹرن کی اصطلاح سے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی آواز سنی نہیں جاتی جن کے مسائل کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور جن کی موجودگی کو سماجی اور سیاسی سطح پر تقریباً ختم ہی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ غریب، بے وسیلہ اور معاشی طور پر محروم افراد ہیں جن تک حکومتی پالیسیاں اور ترقی کے دعوے نہیں پہنچ پاتے۔ اُن کی زندگیاں خاموشی اور گمنامی میں گزرتی ہیں جیسے وہ نظام کے لیے کوئی اہمیت ہی نہ رکھتے ہوں۔سبالٹرن کی یہ صورت حال صرف معاشی محرومی تک محدود نہیں بلکہ ایک سماجی اور ثقافتی خاموشی بھی ہے۔ جب کسی گروہ کو مسلسل نظرانداز کیا جائے اُن کے حقوق کو دباتے رہیں اور اُن کی رائے کو کوئی وزن نہ دیا جائے تو وہ معاشرے کے دیدہ و دانستہ خاموش اور غیر موجود حصے بن جاتے ہیں۔
پہلی بار اینٹونیو گرامشی کے ہاں “سبالٹرن” کی اصطلاح معاشرے کے ان طبقات اور گروہوں کی پیچیدہ حیثیت کو بیان کرنے کے لیے ایک نظریاتی آلے کے طور پر ابھری جنہیں معاشی اور سیاسی دھارے میں منظم طور پر حاشیے پر دھکیل دیا گیا تھا۔ گرامشی نے اپنی تحریروں میں اس لفظ کو صرف معاشی محرومی سے آگے بڑھا کر ایک وسیع تر سماجی،ثقافتی اور نظریاتی تابع داری کے تصور میں ڈھالا۔ ان کے نزدیک سبالٹرن گروہ نہ صرف پیداواری رشتوں میں زیر دست تھے بلکہ وہ ثقافتی بالادستی کے اس جال میں بھی پھنسے ہوئے تھے جس کے تحت حکمران طبقہ اپنے نظریات، اقدار اور اداروں کو فطری اور جامع بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس طرح،سبالٹرن طبقات کی اپنی تاریخی شرکت، ان کی شناخت اور ان کی اجتماعی آواز کو مستقل طور پر دبا کر انہیں سماجی گفتگو اور سیاسی عمل کے دائرے سے خارج کر دیا جاتا ہے۔گرامشی کی یہ بصیرت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سبالٹرن کی حالت صرف حکومتی یا معاشی ڈھانچے سے محرومی نہیں بلکہ ایک گہری ثقافتی محکومیت ہے۔ یہ وہ صورت حال ہے جہاں محکوم گروہ بالادست ثقافت اور اس کے بیانیوں کے آگے اپنی تاریخی اور اظہاری خودمختاری کھو دیتے ہیں۔
گرامشی نے مارکس کے تصورِ طبقاتی حیثیت و شناخت کو آگے بڑھاتے ہوئے “محکوم طبقوں(سبالٹرن)” کے ثقافتی و سیاسی تحرک کا جائزہ لیا۔ ان کے نزدیک دانشور کا کردار ان طبقوں کو سماجی غلبے (ہیجیمنی) تک پہنچانے اور تاریخ کے بیانیے کو ان کی نظر سے تشکیل دینے میں معاون ہونا چاہیے۔ (۲)
سپیوک کے ہاں بھی سبالٹرن (Subaltern) کا تصور ان افراد یا گروہوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جنہیں تاریخی اور سماجی طور پر ہمیشہ دبے ہوئے طبقے کے طور پر رکھا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی آواز کو نظام طاقت سماجی ڈھانچے نے مسلسل دبا رکھا ہے۔ نہ تو انھیں کبھی بولنے کا موقع دیا گیانہ ان کی بات سنی گئی بلکہ انہیں ہمیشہ مرکزی دھارے کی بیانیہ سازی سے خارج رکھا گیا ہے۔ اس طرح سبالٹرن خاموشی کے مجبور اور نظروں سے اوجھل کردیے گئے ہیں۔اس نظرانداز ہونے کی بنیادی وجوہات میں نسل، قومیت، زبان، مذہب اور طبقاتی تفریق جیسے ساختی عوامل شامل ہیں۔ سپیوک کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ طاقت کے ساختی رشتوں کا نتیجہ ہے کہ سبالٹرن کی شناخت اور تجربے کو تاریخ اور ثقافت میں جگہ نہیں ملتی۔ اُن کی خاموشی ان پر مسلط کی گئی ہے اور یہ استعماری و نوآبادیاتی نظاموں کے تسلط کا ایک واضح اظہار ہے۔ اس لیے سبالٹرن کی آواز کو پہچاننا اور سننا درحقیقت طاقت کے بیانیوں کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
اپنے مضمون میں گایتری چکرورتی سپیوک ماتحت گروہوں (عورتیں، قبائلی لوگ، تیسری دنیا کے باشندے، مشرقی معاشروں) کے بارے میں مرکزی دھارے کی فکری نمائندگی پر تنقید کرتی ہیں۔ وہ اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ کس طرح خود ان کی اپنی شناخت ایک تیسری دنیا کی عورت، مہاجر، اور امریکی اکیڈمک کے طور پر متضاد طریقوں سے مسلط کی جاتی رہی ہے جس میں اکثر انہیں تیسری دنیا کے موضوع کا یک طرفہ نمائندہ بنا دیا جاتا ہے۔ سپیوک اس ستم ظریفی کو واضح کرتی ہیں کہ ماتحت گروہوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے لیکن مرکزی دانشورانہ ڈسکورس ان کی آوازوں کو ضبط کرکے یا ان کا استحصال کرکے انہیں خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ خاص طور پر بیوہ (ستی،یہ ہندوؤں میں ایک رسم ہے ) جیسی روایات کے بارے میں مغربی مفروضوں، خواتین مصنفین کو تاریخ سے مٹائے جانے، اور دلت/سیاہ فام خواتین کی دوہری نوآبادیاتی صورتِ حال کو بے نقاب کرتی ہیں۔سپیوک کے نزدیک علم کبھی بے گناہ یا غیر جانبدار نہیں ہوتا بلکہ یہ مغربی معاشی اور سیاسی مفادات کا آلہ کار ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ تیسری دنیا کے بارے میں علم درحقیقت ایک مصنوعہ ہے جو مغرب سے برآمد کیا جاتا ہے اور اسے یورپ مرکزی سوچ کے تحت تشکیل دیا جاتا ہے جس کا مقصد غالب طاقتوں کے مفادات کو مستحکم کرنا ہوتا ہے۔اس تناظر میں وہ ساختیات شکنی (ڈیکنسٹرکشن) کو ایک اہم سیاسی آلے کے طور پر دیکھتی ہیں جو حقیقت اور سچائی کے مستحکم بیانیوں کو چیلنج کرکے ماتحت گروہوں کے لیے جگہ بناتی ہے۔سپیوک اس لیے بھی رد تشکیل کا سہارا لیتی ہیں کہ وہ جانتی ہیں کہ تاریخی اور سماجی متون میں اکثر سبالٹرن (یعنی معاشرے کے حاشیے پر رہنے والے طبقات) کی آوازوں کو نظرانداز یا مسخ کر دیا جاتا ہے۔ یہ متون اکثر طاقتور گروہوں کے مفادات کے تحت تشکیل پاتے ہیں جس کی وجہ سے سبالٹرن کی حقیقی تجربات، جذبات اور تناظر دب کر رہ جاتے ہیں۔ وہ اس پر زور دیتی ہیں کہ ایسے متون کی ازسرنو تشکیل اور تنقیدی جائزہ ضروری ہےتاکہ ان میں شامل من مانی باتوں یا یک طرفہ بیانوں کو چیلنج کیا جا سکے اور سبالٹرن کی گمشدہ یا مسخ شدہ آوازوں کو بحال کیا جا سکے۔اس ازسرنو تشکیل کا ایک اہم پہلو یہ جاننا ہے کہ سبالٹرن کیوں نہیں بول پاتے۔ اس کی وجوہات پیچیدہ اور کئی سطح پر ہو سکتی ہیں معاشی محرومی، تعلیمی مواقع سے محرومی، سماجی و ثقافتی دباؤ، سیاسی استحصال یا زبان اور اظہار کے موجودہ ڈھانچوں میں ان کی نمائندگی کا فقدان۔ طاقت کے ساختی ڈھانچے اکثر انہیں خاموش رکھنے کا باعث بنتے ہیں یا پھر ان کی بات کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی حقیقی شناخت کھو دیتی ہے۔لہٰذا سپیکوک کے نزدیک محض خاموشی کو ریکارڈ کرنا کافی نہیں، بلکہ ان وجوہات کو سمجھتے ہوئے سبالٹرن کی ترجمانی کا ایک ایسا اخلاقی اور حساس طریقہ کار اپنانا ضروری ہے جو ان کے اپنے الفاظ، تجربات اور تناظر کو مرکز میں رکھے۔ اس کا مقصد انہیں بطور نمائندہ بیان کرنانہیں بلکہ ان کے اظہار کے لیے جگہ بنانا اور طاقت کے موجودہ بیانوں کو متنوع انسانی تجربات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ یہ عمل نہ صرف تاریخ کو زیادہ جامع بناتا ہے بلکہ سماجی انصاف کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔
“سپیوک کا موقف ہے کہ ماتحت طبقوں کی نمائندگی کے لیے ایک واضح اور شفاف سیاسی و لسانی اظہار کی ضرورت ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ مرکزی دانشورانہ بیانیہ دنیا کی اکثریت (غریب اور مظلوم) کو نظرانداز کرتا ہے اور انہیں خارج کرتا ہے۔ اس لیےان کا مقصد ان خاموش یا نظرانداز شدہ آوازوں کو بحال کرناان کی نمائندگی کے طریقوں پر سوال اٹھانا اور ایک ایسا علمی ڈسکورس تشکیل دینا ہے جو طاقت کے تعلقات سے آگاہ ہو اور مغرب کی یک طرفہ علم سازی کے تسلط کو توڑ سکے۔”(۳)
مزید سپیوک سبالٹرن کے بارے میں وضاحت کرتی ہیں کہ متعلقہ گفتگو کبھی بھی براہِ راست یا معروضی طور پر سامنے نہیں آتی۔ بلکہ یہ ایک طے شدہ اور بااختیار ڈسکورس کے ذریعے ہی پیش کی جاتی ہے۔ یہ ڈسکورس سماج کے اعلیٰ طبقات، حکمران جماعتوں اور قابض طاقتوں کے مفادات اور نقطہ نظر سے تشکیل پاتا ہے۔ اس میں محض سیاسی یا معاشی پہلو ہی شامل نہیں ہوتے بلکہ ایک وسیع تر سماجی و ثقافتی شعور بھی کارفرما ہوتا ہے،جو اپنے مخصوص نظریاتی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ہی سبالٹرن کی شناخت، مسائل اور اس کی آواز کو بیان کرتا ہے یا پھر خاموش کردیتا ہے۔اس طرح سبالٹرن کی حقیقی صورت حال کو سمجھنے کے لیے محض اس کے بیرونی حالات کا جائزہ کافی نہیں بلکہ اس طاقتور ڈسکورس کی ساخت کو بھی سمجھنا ضروری ہے جو اس کے بارے میں بات چیت کے ممکنہ راستے طے کرتا ہے۔ یہ ڈسکورس اپنے بنیادی مفروضوں زبان اور ترجیحات کے ذریعے یہ طے کرتا ہے کہ سبالٹرن کو کس نظر سے دیکھا جائے کس طرح پیش کیا جائے، اور کون سی باتیں سنی یا نظرانداز کی جائیں۔ یہی وہ نظریاتی ماحول ہے جو سبالٹرن کی اجتماعی پہچان کو تشکیل دیتا ہے اور اسے طاقت کے تعلقات میں مقید رکھتا ہے۔
ہندوستانی تاریخ نگاری (سبالٹرن اسٹڈیز) کے سیاق میں اس میں وہ کسان، قبائلی ، خواتین، اچھوت ذات کے لوگ شامل ہیں جنہیں تاریخ میں جگہ نہیں ملی۔یہ سوال محض یہ نہیں کہ “کیا وہ بولنے کی جسمانی یا ذہنی صلاحیت رکھتے ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا ان کی کوئی ایسی “آواز” ہے جو مرکزی دھارے کے علم، زبان یا نمائندگی کے نظاموں کے ذریعے سمجھی یا سنی جا سکتی ہے؟(۴)
سپیوک کے نزدیک نوآبادیاتی تسلط کا ایک گہرا اور دیرپا پہلو “علمی تشدد” ((Epistemic Violence کا تصور ہے۔ ان کا موقف ہے کہ نوآبادیاتی قوتوں نے محض فوجی اور معاشی غلبہ حاصل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک ایسی ساختی اور فکری یلغار کی جس کے ذریعے مقامی علوم، زبانیں، ثقافتیں اور نظام فکر یا تو مٹا دیے گئے یا پھر انہیں کمتر اور غیر معیاری قرار دے کر حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔ اس عمل میں یورپی علم اور تعلیمی ڈھانچے کو عالمگیر معیار بنا کر پیش کیا گیاجس کے نتیجے میں نوآبادیاتی معاشروں کے پاس اپنی حقیقت کو سمجھنے اور بیان کرنے کے اپنے بنیادی ذرائع چھین لیے گئے۔یہ علمی تشدد محض نصابی تبدیلی کا نام نہیں تھا بلکہ ایک گہرا نفسیاتی اور تہذیبی عمل تھا جس نے مقامی آبادیوں کو اپنے تاریخی، ثقافتی اور علمی وسائل سے کاٹ کر ایک ایسی علمی غلامی میں جکڑ دیا جہاں ان کی دانش اور تجربے کو غیر اہم سمجھا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں مقامی لوگ اپنی دنیا کو دیکھنے، سمجھنے اور بیان کرنے کے لیے نوآبادیاتی طاقت کے بنائے ہوئے علم کے فریم ورک پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اپنے ہی علوم و زبانوں کے خاتمے یا تحقیر کے باعث ان کی اجتماعی یادداشت اور خود شناسی کو گہرا صدمہ پہنچا اور وہ اپنے ہی وجود کی تشریح کے لیے غیر کے علم کے محتاج بن گئے۔
نوآبادیاتی طاقت نے صرف فوجی یا معاشی قبضہ نہیں کیا، بلکہ ایک “علمی تشدد” بھی کیا۔ یعنی مقامی علوم، زبانوں، ثقافتوں، سوچنے کے طریقوں کو ختم یا کمتر قرار دے کر، یورپی علم اور نظام تعلیم کو معیار بنا دیا۔ اس نے مقامی لوگوں کو اپنی ہی دنیا کو سمجھنے کے اپنے ذرائع سے محروم کر دیا۔)۵)
علمی تشدد کے علاوہ سپیوک کا اہم تصور سٹریٹیجک اساسیت پسندی ہے ۔ سٹریٹیجک اساسیت پسندی ایک فکری اور عملی حکمت عملی ہے جس کے تحت متنوع اور محروم سماجی گروہ اپنے حقوق کی جدوجہد کے دوران عارضی طور پر ایک یکجا اور متحد شناخت تشکیل دے لیتے ہیں۔ اسپیوک اس بات پر زور دیتی ہیں کہ مختلف ثقافتی، مذہبی یا طبقاتی پس منظر رکھنے والے افراد کسی مشترکہ سیاسی یا سماجی مقصد کے حصول کے لیے اپنے مابین موجود پیچیدہ تفاوت کو وقتی طور پر معطل کر کے ایک یکساں پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد طاقت کے ڈھانچوں کے خلاف مؤثر مزاحمت کی خاطر ایک اجتماعی قوت کی تخلیق ہے۔یہ نقطہ نظر اس پیچیدہ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی( کہ ہر فرد کی شناخت کثیر الجہتی ہوتی ہے) یہ سمجھتا ہے کہ سیاسی عمل کے لیے بعض اوقات ایک سادہ اور یک رنگ تشخص کو اختیار کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر خواتین،مزدور طبقہ یا استعمار زدہ قوم جیسی عام اصطلاحات کے تحت جدوجہد کرنا اس وقت تک مفید ثابت ہو سکتا ہے جب تک کہ یہ گروہیں اندرونی تنوع کو یکسر نظر انداز نہ کریں۔سپیوک کے نزدیک یہ حکمت عملی ایک ضروری نوعیت کا خیال ہے ایک ایسا دانستہ اور عارضی اقدام جو انقلابی تبدیلی کے ممکنہ دروازے کھولنے کے لیے اٹھایا جاتا ہے۔
پسماندہ گروہ اپنے مخصوص سیاسی مقاصد خاص طور پر سماجی انصاف کی جدوجہد میں مؤثر طریقے سے حصہ لینے کے لیے، عارضی طور پر ایک متحد اجتماعی شناخت تشکیل دے سکتے ہیں۔ گایتری چکرورتی کے مطابق یہ “اسٹریٹجک اساس پرستی” شناخت کو کوئی جامد یا مستقل حقیقت نہیں سمجھتی بلکہ اسے ایک عارضی اور حکمت عملی وسیلہ گردانتی ہے جس کا مقصد تحریک کو قوت دینا اور نظامی تبدیلی کے لیے وکالت کرنا ہے۔ یہ نقطہ نظر شناخت کی روایتی یک رخی تفہیم کو چیلنج کرتا ہے اور اس پیچیدہ حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ افراد ایک ساتھ کئی، کبھی کبھار متضاد بھی، سماجی و ثقافتی شناختیں رکھ سکتے ہیں۔(۶)
مجموعی طور پر گائتری چکرورتی سپیوک ندرت پسند نظریہ دان کے طور پر ادبی و سماجی تنقید کے میدان میں نمایاں ہیں۔ آپ کی تحریریں مابعد نوآبادیاتی مطالعات، تانیثیت اور “دیگر” کے تصور کے گرد مرتکز ہیں۔ آپ نے اپنی پیچیدہ اور چند جہتی تحریروں کے ذریعے نوآبادیاتی دور میں مسلط کردہ بیانیوں،فکری ڈھانچوں اور طاقت کے رشتوں کو بنیادی طور پر چیلنج کیا ہے۔ آپ کی تنقیدی نظر خاص طور پر ان لاکھوں گمنام اور پسے ہوئے افراد کی نمائندگی اور بحالی پر مرکوز رہی ہے جنہیں نوآبادیاتی نظام نے تاریخ ثقافت اور شناخت کے دھارے سے باہر دھکیل کر حاشیے پر ڈال دیا تھا۔آپ نے یہ واضح کیا ہے کہ کس طرح نوآبادیاتی طاقتوں نے نہ صرف جغرافیائی علاقوں پر تسلط قائم کیا بلکہ ذہنوں، زبانوں اور شناختوں کو بھی مسخ کر کے ایک ایسی دانش تخلیق کی جس میں مقبوضہ اور محکوم لوگوں کی انفرادی آواز، ان کی ذات اور ان کے تجربات کو نظامی طور پر نظرانداز یا تحریف کر دیا گیا۔

حوالہ جات:
۱۔ https://www.vocabulary.com/dictionary/subaltern
۲۔ Can The Subaltern Speak?،Edit by Rosalind c. morrisص
۳۔http://www.rjelal.com/9.S1.21/340-343%20Praveen%20Vijaykumar%20Ambesange.
۴۔ Can The Subaltern Speak?،Edit by Rosalind c. morrisص ۳۸
۵۔ ایضاً،ص ۳۷
۶۔ https://fiveable.me/key-terms/introduction-contemporary-literature/gayatri-spivaks-strategic-essentialism

اپنا تبصرہ لکھیں