چوڑیوں کی جھنکار سے ملائیت کے تاریک سائے تک-ایک نوآبادیاتی مطالعہ/سائرہ رباب

اک جیسی لگتی ہیں،
چوڑیاں بھی لڑکیاں بھی،
ہنستی ہیں کھنکتی ہیں،
چوڑیاں بھی لڑکیاں بھی۔
…………..
کھنکتی ہیں جب تیری دی ہوئی چوڑیاں میری کلائی میں
تو عجب سا سازِ محبت ہوا میں جھوم اٹھتا ہے
……………..
ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﺁﺩﺍﺏ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺭﻭﺑﺮﻭ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ
ﭼﮭﻦ ﭼﮭﻨﺎﭼﮭﻦ، ﭼﮭﻦ ﭼﮭﻨﺎﭼﮭﻦ،ﭼﮭﻦ ﭼﮭﻨﺎﺋﯿﮟ ﭼﻮﮌﯾﺎﮞ
…………………
ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﺍﮔﺮ ﭼﮭﻨﮏ ﺟﺎﺋﮯ
ﮔﺮﺩﺵِ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﭨﮭﭩﮭﮏ ﺟﺎﺋﮯ
…………………

برصغیر کی موسیقی، شاعری، لوک گیتوں اور داستانوں میں عورت کی خوبصورتی اور محبت کے جذبات کو بیان کرنے کے لیے صدیوں سے پائل کی جھنکار، چوڑیوں کی کھنک اور گھنگرو کی تھاپ کو استعارے کے طور پر برتا جاتا رہا ہے۔ ہمارے گیتوں، غزلوں اور لوک کہانیوں میں یہ آوازیں صرف زیور کی آواز نہیں بلکہ محبت، زندگی اور تہذیبی حسن کی علامت رہی ہیں۔ مگر افسوس کہ جس معاشرے میں یہ جھنکار کبھی زندگی کی موسیقی تھی، وہاں اسی آواز کو گناہ اور فتنہ بنا کر پیش کیا جانے لگا.۔

ملائیت نے ہمارے حسین اور شاندار کلچر کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پنجاب کی بسنت، ہولی، بیساکھی، چیت کے میلے، گندم کی کٹائی سے پہلے کے لوک تہوار، مال میلوں کی رونقیں، جھولوں اور لوک گیتوں کی محفلیں…..یہ سب ہماری تہذیب کا حسن اور ہماری زندگی کی رعنائیاں تھیں۔ یہ محض تفریح نہیں تھیں بلکہ ہمارے اجتماعی شعور، موسموں کے رنگ اور انسان کی فطری ضرورتوں کی عکاسی کرتی تھیں۔ ان میلوں میں زندگی کی ایک قدرتی روانی تھی جہاں خوشی، موسیقی، رقص، گیت اور میل جول ایک صحت مند سماجی توازن پیدا کرتے تھے۔

لیکن ملائیت نے آ کر ان سب رنگوں کو نوچ ڈالا۔ اس نے اپنی مصنوعی سختی کے ذریعے وہ خوبصورت سماجی توازن توڑ دیا جو صدیوں سے اس سرزمین کا حصہ تھا۔ پردے کا ایک ایسا سخت اور غیر فطری تصور مسلط کیا گیا جس نے عورت کو گویا قید بنا کر رکھ دیا۔ عورت کا گھر سے باہر نکلنا یا خوشی کی اجتماعی تقریبات میں شامل ہونا بے پردگی اور بے غیرتی کے پیمانے سے ناپا جانے لگا۔ شادی بیاہ کی تقریبات، جو کبھی گیتوں، موسیقی اور میل ملاپ کی علامت ہوا کرتی تھیں، آہستہ آہستہ اجنبیت اور سرد مہری کا شکار ہو گئیں۔ یوں لگتا ہے کہ ملائیت نے صرف میلوں ٹھیلوں کو ختم نہیں کیا بلکہ تہذیب کی رگوں میں دوڑنے والی وہ زندگی بھی منجمد کر دی جو معاشرے کو رنگ، دلکشی اور توانائی بخشتی تھی۔

پوسٹ کالونیل مفکرین کے مطابق عورت کی زینت، لباس اور جسم کو اس طرح سخت اخلاقی قواعد کے تحت محدود کرنا صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ اکثر نوآبادیاتی معاشروں میں پیدا ہونے والا ایک رجحان بھی ہے۔ مثال کے طور پر الجزائر میں فرانسیسی دورِ حکومت میں عورت کے لباس اور پردے کو شناخت اور اخلاقیات کی جنگ بنا دیا گیا، جبکہ مصر اور انڈونیشیا میں بھی مقامی رقص، زیورات اور ثقافتی اظہار کو بتدریج “اخلاقی مسئلہ” بنا دیا گیا۔ اسی طرح برصغیر میں برٹش راج کے دوران انگریزوں نے مذہب کو ایک باقاعدہ قانونی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لیے
Anglo-Muhammadan Law
اور Anglo-Hindu Law تشکیل دیے۔ ان قوانین میں شریعت اور برہمن متون کے مخصوص حصوں کو چن کر ایک سخت ضابطہ بنایا گیا، جس نے مقامی سماجی روایات اور ثقافتی تنوع کو بڑی حد تک ختم کر دیا۔ایک طرف مکالے کا تعلیمی نظام اور دوسری جانب ایسی ملایت کا نفاذ کیا گیا جس نے ہماری جڑوں سے ہمارا تعلق کاٹ کر رکھ دیا۔

تقسیم کے بعد بھی یہ رجحان ختم نہیں ہوا بلکہ نئی ریاست میں شناخت کی سیاست کے ساتھ مزید مضبوط ہو گیا۔ Partition of India کے بعد پاکستان میں قومی شناخت کو بڑی حد تک “مسلم شناخت” کے گرد تعمیر کیا گیا، جس کے نتیجے میں مقامی ثقافتی روایت اور صوفیانہ ورثہ پس منظر میں چلا گیا۔ بعد میں خصوصاً ضیاء الحق کے دور میں ریاستی اسلامائزیشن نے اس رجحان کو مزید گہرا کر دیا، اور یوں مذہب کی ایک سخت تعبیر کے ساتھ ایک مسلسل شناختی بحران بھی جنم لیتا رہا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ جو چیزیں صدیوں تک اس خطے کی ثقافت اور جمالیاتی روایت کا فطری حصہ تھیں۔۔۔۔جیسے عورت کی زینت، زیور، چوڑیوں کی جھنکار، میلوں کی رونقیں اور موسیقی۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ اخلاقی نگرانی اور پابندی کے دائرے میں آ گئیں۔ اس طرح ملائیت اور نوآبادیاتی دور کے قانونی و فکری اثرات نے مل کر ایک ایسا سماجی جمود پیدا کیا جس نے نہ صرف ہمارے میلوں ٹھیلوں اور تہواروں کو کمزور کیا بلکہ ہماری اجتماعی روح اور ثقافتی اعتماد کو بھی گہرا نقصان پہنچایا۔
(Edited)

اپنا تبصرہ لکھیں