گنجنیہ معنی کا طلسم/ناصر عباس نیر

گنجینہ ء معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے
لفظ ،طلسم اور گنجینے میں تعلق، غالب کی دریافت نہیں۔

عربی کا طلسم ، یونانی طلسما سے ماخوذ ہے ۔ اس کے لغوی مفہوم میں مذہبی رسم ادا کرنے کے علاوہ، نقش ، خاکہ ، لفظ شامل ہیں ۔ گنجینوں اور دفینوں پر سانپ یا کسی اور جانور کانقش بنادیا جاتا تھا،جسے طلسم کہا جاتا تھا۔

یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ فرضی سانپ گنجینے کی حفاظت کرے گا۔ ایک خیالی نقش میں اس قدر قوت اور تدبیر تصور کرنا کہ وہ مستقبل کے ممکنہ مہیب ترین خطرات کا رخ پھیر دے گا یا ان کا مقابلہ کرلے گا، طلسم تھا ۔یوں وہ خیالی نقش ،ایک نقش سے سوا تھا ؛ وہ ایک حقیقی دنیا (دفینے ) کو اس پراسرار ،تصوراتی دنیا سے جوڑ دیتا تھا جس کے مئوثر ہونے میں صاحب نقش کو شک نہیں ہوتا تھا ، کیوں کہ یہ صاحب ِ نقش کے اندر موجودہوتی تھی ۔

غالب سے پہلے میر تقی میرنے طلسم کوعالم کے ہونے نہ ہونے کے معنی میں باندھا تھا۔
عالم کسو حکیم کا باندھا طلسم ہے
کچھ ہو تو اعتبار بھی ہو کائنات کا

غالب کے یہاں طلسم کا لفظ میر کے بجائے، ہندوستان کی فارسی واردوداستانوں سے آیا ہوا محسو س ہوتا ہے،جن میں طلسم اور ا س کے لوازمات بڑی حد تک ہندوستان کی دین ہیں۔

غالب کو داستانوں سے غیر معمولی دل چسپی تھی۔ “داستان ِ امیر حمزہ” ،” فسانہ ء عجائب” اور” بوستان ِ خیال” انھیں خاص طور پر پسند تھیں۔ بوستان کے اردو ترجمے “حدائق انظار” اور” گلزار سرور” کے دیباچے بھی لکھے تھے۔ خود داستان کو “بزم ورزم اور سحر و طلسم ” کہتے تھے۔

“بوستان ِ خیال” کی نویں جلد میں صاحبقراں کے پاس لوح طلسم ہے،جس سے وہ ہر اس مشکل پر قابو پاتا ہے یا محفوظ رہتا ہے جو انسان کی عقل ،استطاعت اور طاقت سے کہیں بڑی ہے۔

یہاں طلسم کی باقی تفاصیل میں جانے کی گنجائش نہیں، غالب کی شاعری کے تعلق سے بس اتنا کہنا ضروری ہے کہ انھوں نے ایک طرف داستان کے لوح طلسم کو شاعری کے طلسم ِ معنی میں منقلب کیا، دوسری طرف ہند مغل جمالیات سے رشتہ قائم کیا ۔” انھوں نے اپنی فنتاسی اور اپنے شعری تجربوں میں داستانیت کو شعوری اور لاشعوری طور پر جذب کیا ہے”۔

اسی مقام پر یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ ہندمغل جمالیات سے غالب نے ایک اور چیز بھی اخذکی۔ اسے نیم رخی جمالیات کہنا چاہیے۔ غالب کی شاعری کا اہم ترین اختصاص ، اس کامغل منی ایچر مصوری کی مانند نیم رخا ہوناہے۔ مغلوں کے یہاں”نیم رخی شبیہ سازی مقبول ترین اندازِ مصوری تھا” اور یہ ایرانی سے زیادہ ہندوستانی الاصل تھا۔

غزل ، منی ایچر مصوری کا شاعرانہ روپ کہی جاسکتی ہے ۔غالب کی شعری تمثالیں ہی نہیں،خو د شعر ہی نیم رخا ہے۔ تھوڑا ظاہر اور زیادہ نہاں اور ٹیرھا۔ لیکن ایک فرق ہے کہ نیم رخی مصورانہ شبہیں ،کسی شخص کی انفرادیت کو پوری طرح نمایاں کرنے سے قاصر محسوس ہوتی ہیں لیکن غالب کی نیم رخی جمالیات ، ان کی انفرادیت کو اجاگر کرتی ہے ۔

یہ جمالیات، ایک طرف معنی کی کثرت اور دوسری طرف زندگی کے تناقضات کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نیم رخے شعرا ور تیر نیم کش ،دونوں کا وار کاری ہے۔

داستان کے طلسم کو معنی کے طلسم میں منقلب کرنے کی بڑی وجہ خود طلسم بھی تھا۔ طلسم محض ، حیرت و محال سے عبارت نہیں۔ یا محض دل چسپی وتفریح کی چیز نہیں۔ طلسم ، آدمی کی ہستی کے تصور کو مکمل کرتا ہے۔ حس ،عقل ، وجدان اور خواب مل کر آدمی کی ہستی کا احاطہ کرتے ہیں۔نو آبادیاتی جدیدیت نے برصغیر کے آدمی کو اپنی ہستی کا ادھورا تصور کرنے کا اہتمام کیا۔

حس و عقل کو اہمیت دی، خواب ووجدان و تخیل کوتوہمات کا منبع قرار دے کر ہستی کے تصور سے خارج کردیا ۔ محیر العقول باتوں کو غیر عقلی قرار دے کر بدنام کیا گیااورجن اصناف وعلوم میں یہ سب تھا ،ان کی ملامت کی گئی ۔

داستانی طلسم ، واقعہ آفریں ہوا کرتا تھا ، غالب نے اسے معنی آفریں بنادیا۔معنی آفرینی کا طلسم، ایک نئی قسم کی فنتاسی ہے۔واقعاتی فنتاسی میں حیرت ہوتی ہے، معنی آفرینی کی فنتاسی میں انفس و آفاق کو کثیر زاویوں سے سمجھنے کے ممکنات ہوتے ہیں۔ داستانوں میں طلسم ، ہیرو کی مشکلیں آسان کرتا ہے، معنی آفرینی کا طلسم صغیری وکبیری کائنات کے عقدوں کو آسان بناتا ہے۔

داستانی طلسم، زندگی کی انتہائی مثالی تصویر پیش کرتا ہے؛ بدی کی قوتیں نیکی سے شکست کھاتی ہیں،کائناتی قوتیں مرکزی کردار کی مدد کو دوڑے آتی ہیں۔غالب کی معنی آفرینی کا طلسم ،زندگی کی کوئی مثالی تصویر پیش نہیں کرتا، بلکہ زندگی کے کڑے، تاریک حقائق کے روبرو کرتا ہے،تاہم فن کی جادوئی حیرت کے ساتھ۔

میر صاحب کو جہاں ایسا طلسم نظر آتا تھا جسے سمجھنا آسان نہیں تھا کیوں کہ طلسم کی مانند ہر شے مسلسل بدلتی تھی۔ غالب ، عالم کے طلسم کو انسان کے رنج وراحت کے بنیادی تجربے کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ مثلا ً یہ شعر دیکھیے:
عالم، طلسم شہر خموشاں ہے سربسر
یا میں غریب کشور گفت وشنود تھا

اس شعرمیں پورے عالم کو شہر خموشاں کے طلسم میں سربسر گرفتار دکھایا گیا ہے،کیوں کہ آدمی جو کچھ کہتا ہے، عالم اس کا جواب نہیں دیتا۔ یہ بیگانگی کا مضمون نہیں ، دنیا کی انسان کے سلسلے میں لاتعلقی کا مضمون ہے۔غالب پہلے شاعر ہیں جنھوں نے جدید دنیا میں بشر کے تجربے کو لکھا ہے۔

یہ سمجھنادرست نہیں کہ اس شعر میں غالب کاتخاطب ،ان معاصرین سے ہے ،جو ان کی شاعری کو مشکل کہہ کر ردّ کررہے تھے۔ غالب ، عالم یعنی دنیا و کائنات دونوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ غالب کے لیے یہ دنیا ، جدید سرمایہ دارانہ دنیا تھی ؛ اس میں آدمی منہا ہورہا تھا؛اس کے لیے انسان کی سطح پر زندگی بسر کرنا محال ہوتا جارہا تھا ۔نو آبادیاتی عہد میں گفت وشنود کی ایک ایسی سلطنت وجود میں آرہی تھی جس میں غالب اور ان کے ہم وطنوں کی زبان کو کوئی سمجھنے والا نہیں تھا ۔ اسی تناظر میں غالب کا یہ شعر بھی پڑھیے:
کوئی آگاہ نہیں باطن ہم دگر سے
ہے ہر اک فرد جہاں میں ورق ِناخواندہ

گویا ایک دوسرے کےظاہر سے تو لوگ آگاہ ہیں، مگر باطن سے نہیں ۔ کیوں؟پہلی بات یہ ہے یہ شعر آدمی کے ظاہر وباطن کی تقسیم کو ایک حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ باطن ،ایک الگ عالم ہے جہاں تک کوئی اور نہیں پہنچ سکتا اور یہ ظاہر کے مقابلے میں حقیقی ہے۔ فرد کو ورق ناخواندہ کہنے کا مفہوم ہی یہ ہے کہ اگر باطن کو نہیں پڑھا تو آدمی کو نہیں پڑھا۔

اسی سے دو مزید باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ باطن کی اپنی زبان ہے ، جسے کوئی دوسرا نہیں پڑھ سکتا ۔ اس زبان میں سریت،خوف دونوں شامل ہوسکتے ہیں۔ جدید فرد کا اپنے سماج سے بڑا گلہ ہی یہ ہے کہ کوئی اسے سنتا ہے نہ سمجھتاہے۔غالب کا جدید فرد بہ یک وقت سماج اور کائنات دونوں سے مخاطب ہوتا ہے۔ بیسویں صدی کے جدید فرد نے سماج کے آگے اپنا سینہ چاک کیا۔ غالب ، آفاق بلکہ عدم سے بھی آگے فرد کی نوا کو لے جاتے ہیں۔

( اپنی کتاب ’’جدیدیت اور نو آبادیات ‘‘ ( مطبوعہ اوکسفرڈ، ۲۰۲۱ء) میں شامل غالب پر باب سے اقتباس)

اپنا تبصرہ لکھیں