ڈاکٹر علی شریعتی اور سرخ شیعیت کا نظریہ/شیر علی انجم

ڈاکٹر علی شریعتی کے اقوال کا ہماری زندگیوں میں یقیناً ہم کسی نہ کسی موقع پر ضرور حوالہ دیتے ہیں۔ لیکن اکثریت ڈاکٹر علی شریعتی کی شخصیت اور ذاتی اور عملی زندگی ناواقف ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی ایران کے انیسویں صدی کے ایک عظیم مفکر، سوشیالوجسٹ اور انقلابی دانشور تھے جنہوں نے شیعیت کو دین اسلام کے ایک فعال، مزاحمتی اور سماجی انصاف پر مبنی نظریے کے طور پر پیش کیا۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے 1933 میں ایران کے شہر خراسان کے دور دراز گاؤں مازینان کے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ انہوں نے ایران کی تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا، خاص طور پر 1953 میں وزیر اعظم محمد مصدق کے تختہ الٹنے اور شاہ کی حکومت کے مزید مضبوط ہونے کو۔ ابتدائی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے 1958 میں انہیں چھ ماہ قید کی سزا ہوئی، جس نے ان کی بعد کی زندگی اور سوچ کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ تعلیم کے سلسلے میں شریعتی نے 1950 کی دہائی کے آخر اور 1960 کی دہائی کے اوائل میں پیرس میں اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کی۔ وہاں انہوں نے وجودیت (ژاں پال سارتر) ، نوآبادیاتی مخالف سوچ (فرانز فانون) اور معاصر مارکسسٹ خیالات سے گہری متاثر ہوئے۔ انہوں نے اسلامی روحانیت کو مغربی سماجی تجزیے کے ساتھ ملا کر ایک منفرد امتزاج تیار کیا: ملحد مارکسزم کو مسترد کرتے ہوئے سرمایہ داری اور طبقاتی جدوجہد پر تنقید کی، جبکہ سوویت طرز کے ریاستی سوشلزم کی بجائے ہیومنسٹ سوشلزم کو ترجیح دی۔ علامہ محمد اقبال سے انہیں گہرا اثر ملا اور انہوں نے مسلم شناخت کی خود کی طرف واپسی کا تصور فروغ دیا۔
شریعتی نے مذہب کو محض نجی رسومات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک فعال سماجی اور سیاسی قوت کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کربلا کی انصاف کی اخلاقیات کو جدید سماجیات سے جوڑا۔ عوامی شخصیت کے طور پر وہ یونیورسٹی پروفیسر تھے جو سوٹ پہنتے اور پگڑی نہیں باندھتے تھے۔ تہران کی حسینیہ ارشاد میں شہری طلبہ کو لیکچر دیتے اور کیسٹ ٹیپس کے ذریعے انہیں وسیع پیمانے پر تقسیم کرتے۔ انہوں نے لوگوں کو قرآن کی براہ راست تشریح کی تلقین کی اور مذہبی رسومات پر تنقید کی جو روزگار یا توہم پرستی پر مبنی تھیں۔ ان کے سیاسی مذہبی پروگرام کا مرکزی نقطہ سرخ شیعیت بمقابلہ سیاہ شیعیت تھا۔ جو آج کے زمانے میں بغیر کسی مسلکی تقیسم کے معاشرے کا اہم موضوع بحث ہے۔ سیاہ شیعیت کو وہ صفوی دور ( 1501 ء کے بعد ) سے منسوب کرتے ہوئے ریاستی سرپرستی اور سوگ پر مبنی غیر فعال مذہبیت قرار دیتے تھے جو مزاحمت کو پرسکون کرتی اور حکمرانوں کو محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے برعکس سرخ شیعیت کو اصل، باغی یعنی اپنے دور کے ظالم جابر حکمرانوں سے بغاوت کو تشیع کی روایت قرار دیا جو امام حسین علیہ السلام کو انقلابی ماڈل کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ان کا مشہور نعرہ تھا: ہر دن عاشورہ ہے، ہر زمین کربلا ہے۔ اس طرح کربلا کی بغاوت کو موجودہ جدوجہد سے جوڑا گیا۔
انہوں نے اپنی کتاب تشیع علوی و تشیع صفوی میں لکھا ہے شیعیت میں دو طرح کے گروہ ہیں تشیع صفوی اور تشیع علوی۔ علوی شیعیت امام علی علیہ السلام سے منسوب تھی جو وقت کے جابر ظالم ستم گر حکومتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے تھی آٹھ صدیوں کے بعد علوی شیعیت عوامی مسجد سے نکل کر شاہی دربار کے لیے رخصت ہوئے صفوی حکومت آنے کے بعد کربلا کی سرخ تحریک کو کالا لباس پہنایا گیا سرخ شیعیت سیاہ شیعیت میں بدل گئی شہادت کا مذہب ماتم کا مذہب بن گیا۔ یوں وقتاً فوقتاً عزاداری سید الشہداء میں نت نئی روایت و تحریفات شامل ہو کر مقصد سید الشہداء سے کوسوں دور چلے گئے تاکہ کہیں ہمیں کربلا کے آفاقی پیغام پر عمل کرنا نہ پڑے۔ لیکن آج کے دور میں اگر ہم دیکھیں تو دنیا میں ایران اسی فلسفے پر گامزن ہے اور عالمی استکبار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مزاحمت کر رہا ہے۔ انہوں نے تشیع کو معاشی انصاف، سامراج مخالف اور مسلسل مزاحمت کے فریم ورک کے طور پر دیکھا۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے صحابی رسول حضرت ابوذر غفاری کو پہلا سوشلسٹ قرار دیا جو اسلام کے سماجی انصاف کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے مذہبی اجارہ داری کو چیلنج کیا اور دلیل دی کہ مذہب دنیاوی سیاسی زندگی کی رہنمائی کرے، نہ کہ صرف آخرت تک محدود رہے۔ یہی وجہ تھی کہ رضا شاہ پہلوی کی حکومت (ساواک) نے انہیں اسلامی مارکسسٹ قرار دے کر اقتدار کے لئے خطرہ سمجھا، جبکہ روایتی مذہبی شخصیات نے ان پر بدعت، وہابیت یا کمیونزم کا الزام لگایا۔ اس جرم میں جب آپ 1964 ء میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ایران واپس آئے تو گرفتار کر لیا گیا اور حسینیہ ارشاد کو 1973 ء میں سیل کر دیا گیا۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ انہوں نے تقریباً اٹھارہ ماہ تنہائی کی قید، تفتیش اور تشدد برداشت کیا۔ 1975 ء میں بین الاقوامی دباؤ پر رہا ہوئے مگر گھر میں نظر بند رہے۔ 1977 ء میں نظر بندی ختم ہونے کے بعد ایران چھوڑ کر برطانیہ (لندن، پھر ساؤتھمپٹن) پہنچے۔ 19 جون 1977 ء کو صرف 43 سال کی عمر میں آپ کو قتل کیا گیا۔ برطانوی حکام نے اس قتل کو دل کا دورہ بتایا مگر حامیوں نے ساواک پر زہر دینے یا خفیہ قتل کا الزام لگایا۔ موت کے حالات آج بھی متنازع ہیں۔ خاندان نے ان کی میت کی ایران واپسی سے انکار کیا تاکہ شاہ سرکاری جنازہ نہ اٹھا سکے یوں آپ کے جسد خاکی کو دمشق لے جایا گیا اور سیدہ زینب علیہا السلام کے مزار کے قریب دفن کیا گیا۔ جو کربلا اور مزاحمت کی علامت ہے۔
1979 ء کے انقلاب اسلامی ایران میں ڈاکٹر علی شریعتی کے لیکچرز اور ٹیپس نے نوجوانوں اور دانشوروں پر گہرا اثر ڈالا۔ انہیں انقلاب کا نظریاتی ایندھن سمجھا جاتا ہے۔ نظریہ سرخ شیعیت کو ریاستی نعرہ قرار دے کر ایران امریکہ اور اسرائیل جیسے عالمی استکبار کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہو گیا اور اسی نظریے کی روح کے مطابق ایران نے اپنی خود مختاری پر کبھی کمپرومائز نہیں کیا بلکہ سائنس ٹیکنالوجی کے میدان ایران کو بلندیوں پر پہنچایا۔ اگرچہ ایرانی قیادت بہت سے معاملات میں ان سے اختلاف رکھتی تھی لیکن ریاست نے انہیں علامتی طور پر شہید قرار دیا۔ آج بھی شریعتی کی وراثت زندہ ہے۔ جدیدیت اور مذہبیت کے امتزاج کی تلاش میں نوجوانوں میں بلا کسی مسلکی تفریق کے ان کا اثر برقرار ہے۔ ان کی تحریریں ان لوگوں کے لیے رہنمائی ہیں جو مغربی سیکولر ماڈلز اور قدامت پسند مذہبی نظریات کے درمیان پھنسے ہیں۔ ایران کی سرکاری تاریخ نویسی میں ان کی پوزیشن غیر یقینی ہے اور محرک کے طور پر سراہا جاتا ہے مگر بسا اوقات سنسر بھی کیا جاتا ہے کیونکہ ان کی تنقید کسی بھی ادارے شاہی ہو یا مذہبی کو نہیں بخشتی۔ وہ مشرق و مغرب، روایت و جدیدیت کے درمیان ایک پل کی علامت ہیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی کی زندگی اور سرخ شیعیت کا پیغام آج بھی انصاف، مزاحمت اور خود آگاہی کی جدوجہد کے لیے ایک روشن مینار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں