یہ افسانہ اپنی ساخت اور فکری جہت کے اعتبار سے روایتی افسانوی سانچے سے انحراف کرتا ہے۔ اسی انحراف اور داخلی تضادات (paradoxes) کی وجہ سے یہ متن زیادہ ایک علامتی فکری بیانیہ (allegorical narrative) بن جاتا ہے۔
روایتی افسانہ
کسی ایک مرکزی کردار کے گرد گھومتا ہے،زمان و مکان میں زندگی کے کسی ایک واقعے کو موضوع بناتا ہے اور
واقعاتی ارتقا (beginning, middle/climax ,end) کے ساتھ چلتا ہے
مگر یہاں
کسی مخصوص مرکزی کردار کے بجائے گروہ بطور کردار موجود ہیں۔
نفسیاتی تجزیہ کی جگہ اجتماعی شعور (collective consciousness) ہے۔
کہانی ایک واقعے کے بجائے صورتِ حال پر قائم ہے۔
یہ اسلوب روسی ہیئت پسندوں کےdefamiliarization سے قریب محسوس ہوتا ہے، جہاں مانوس حقیقت کو غیر مانوس بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ قاری اسے نئے زاویے سے دیکھے۔
افسانے میں دو متوازی احتجاج ہیں۔
ایک مہذب، دوسرا بے حال۔
دونوں احتجاجی گروہوں کا ایک دوسرے سے فکری اور پھر جسمانی ٹکراؤ ایک مضبوط اور مربوط پراڈاکس ہے۔
افسانے میں اس قسم کے حقیقی معاشرتی پراڈاکس کا present کرنا ۔۔۔۔۔دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں۔گویا آپ کو زندگی گرفت میں لینا پڑتی ہے جو سراسر پیراڈاکس ہے۔
یہ افسانہ کھڑا ہی پراڈاکسز کی بنیاد پر ہے۔
دھیمی آواز میں نعرے اور اظہار کی آزادی کا مطالبہ نہایت معنی خیز تضاد ہے۔
جو لوگ آزادیٔ اظہار مانگ رہے ہیں وہ خود بھی دھیمی آواز میں بول رہے ہیں یعنی
آزادیء اظہار کا مطالبہ کرنے والے خود بھی اندرونی خوف یا سماجی تربیت کے اسیر ہیں
یہ ۔۔مہذب احتجاج۔۔ نیم آزادی کی علامت ہے
یا یہ کہ آزادیٔ اظہار کا مسئلہ صرف قانونی نہیں بلکہ نفسیاتی اور تہذیبی بھی ہے۔
دوسری طرف آدھے ننگے اور بھوکے لوگ
مگر آواز بلند، اونچے نعرے۔۔۔۔ یعنی
جن کے پاس وسائل نہیں، ان کے پاس آواز زیادہ ہے
جن کے پاس شعور کا دعویٰ ہے، ان کی آواز کمزور ہے۔
یہ ایسا اجتماع_ضدین ہے جو قاری کو ایسے صدا خانے میں لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہر آواز اسکی اپنی آواز ہے مگر وہ قبول کرنے یا نہ کرنے کے درمیان لٹک گیا ہے کہ اصلی آواز کون سی ہے
اس افسانے میں ایک گروہ کے پاس زبان اور علامتیں ہیں یعنی پلے کارڈز۔
دوسرے کے پاس وجود سینہ کوبی، روٹی لٹکانا
ایک گروہ “کہہ” رہا ہے مگر کم محسوس ہو رہا ہے
دوسرا “کہہ” نہیں رہا مگر شدت سے محسوس ہو رہا ہے۔گویا زبان اور علامت
سب سے مؤثر اظہار نہیں ہیں۔بعض اوقات
فزیکل سفرنگ خود ایک زبان بن جاتا ہے۔
دو سمندروں کا ملنا مگر الگ رہنا
روٹی اور آزادی اظہار ایک ہی انسانی وجود کی ڈیمانڈز ہیں اور اس طرح کی ڈیمانڈز کہ خود وجود یہ سمجھنے میں confuseہے کہ اہم تر کون سا مطالبہ ہے۔
“عظیم مقصد انسان کو بلند کرنے کے بجائے تنگ نظر
بنا دیتاہے”۔
اس پر حتمی رائے دینے میں عجیب متضاد کیفیات بیک وقت محسوس کر رہا ہوں کہ ایسا ہوتا ہے اور ایسا ہونے کا محرک اس کی نفی بھی کرتا ہے۔
بظاہر سادہ ہے مگر۔۔۔۔ ہر چند کہیں کہ “ہے” ۔۔۔ نہیں ہے۔۔۔
نظریاتی یقین (ideological certainty) اکثر مکالمے کو ختم کر دیتا ہے۔
سچائی کا دعویٰ، دوسرے کی نفی میں بدل جاتا ہے۔
طاقت ہمیشہ “بنیادی” کی تعریف اپنے حق میں کرتی ہے۔
یہاں فوکو کے “power/knowledge” کا تصور جھلکتا ہے۔
بھوکوں کا آزادیٔ اظہار کا مطالبہ کرنے والے جتھے کے خلاف ہونا افسانے کا مرکزی اور سب سے تلخ پراڈاکس ہے کہ
مظلوم خود ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔
طاقت کا سب سے بڑا ہتھیار تقسیم ہے۔
محرومی انسان کو صرف احتجاج نہیں بلکہ تعصب کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔
احتجاج میں پلے کارڈ پہ نوجود تصویر جس میں زبان روٹی کی شکل میں ہےباور اس پر تالا لگا ہے افسانے کا نچوڑ ہے۔۔۔۔
اظہار کی خواہش بھی بھوک ہے
یا یہ کہ معاشی اور فکری آزادی دراصل ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔
حکومت کا سبسڈی دینا اور پھر واپس لینا گویا
ریاستی اقدامات مستقل نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی ہوتے ہیں
عوامی مطالبات کو manage کیا جاتا ہے، حل نہیں۔
یہ افسانہ دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتا کہ کیا انسانی مطالبات کی درجہ بندی ممکن ہے؟
اور اس کا جواب افسانہ براہِ راست نہیں دیتا، بلکہ پراڈاکس کے ذریعے یہ بتاتا ہے کہ
بھوک اور آزادی بیک عقت وجودی ضروریات ہونے کے باوجود متصادم ہیں۔
یہ افسانہ روایتی افسانے کے بجائے انٹلیکچوئل الیگری ہے، جس کی طاقت اس کے پراڈاکسز میں ہے۔
یہ افسانہ قاری کو کسی بنے بنائے سچ پر قائل نہیں کرتا بلکہ اسے اس مقام پر چھوڑ دیتا ہے جہاں وہ خود سوچے کہ:
“اگر زبان اور شکم دونوں بھوکے ہوں، تو پہلے کس کو سیر کیا جائے۔
یہ افسانہ طنزیہ ساخت بھی رکھتا ہے، مگر یہ کھلا طنز نہیں بلکہ صورتحال سے پیدا ہونے والا سچویشنل آئرنی ہے۔مثلا
آزادیٔ اظہار مانگنے والے خود دھیمی آواز میں نعرے لگا رہے ہیں۔
حکومت عوام کےمفاد میں یہ طے کرتی ہے کہ ان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے۔
بھوکے لوگ آزادیٔ اظہار کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں
یہ طنز ہے جو نظام، سماج اور حتیٰ کہ خود انسان کی فکری کمزوریوں پر بھی ہے۔
افسانہ پڑھتے ہوئے یہ بھی محسوس ہوا کہ یہ dark humor ہے۔ مثلا عظیم مقصدکے نام پر ایک دوسرےسے لڑ پڑنا
سبسڈی دینا اور واپس لیناجیسے حقیقت خود اپنی مضحکہ خیزی ظاہر کر رہی ہو۔
افسانے میں ابہام اور تذبذب uncertainty
بھی ایسے موجود ہیں کہ
قاری آخر تک فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کون درست ہے
بھوک بھی بنیادی لگتی ہے، اظہار بھی
حکومت غلط بھی ہے، مگر بعض جگہ معقول بھی دکھائی دیتی ہے۔
یہ تذبذب شعوری ہے افسانہ کوئی حتمی جواب نہیں دیتا بلکہ قاری کو ایک غیر یقینی فکری کیفیت میں چھوڑ دیتا ہے ۔
یہ تاثر آخر پہ برداشت کر لیجیے جو پہلی ہی قرات می ابھرا تھا کہ یہ اسلوب پہیلی کے اسلوبridle mode کی توسیع ہے۔اختتام تک
قاری کوکوئی واضح موقف نہیں ملتا۔ جبکہ اشارے جا بہ جا آتے ہیں۔
دو متوازی مناظر جیسے سوال کے دو رخ
یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے پہیلی میں شے چھپا دی جاتی ہے۔
کٹی ہوئی زبان
تالے لگے ہونٹ
گلے میں لٹکی روٹیاں
یہ سب براہِ راست بیان نہیں بلکہ اشارات clues ہیں۔۔۔۔۔۔۔ بالکل پہیلی کی طرح۔
پوری کہانی دراصل ایک سوال کے گرد گھومتی ہے
بنیادی چیز کیا ہے؟
بھوک یا اظہار؟
یہی وہ چیز ہے جو اسے پہیلی کے قریب لے جاتی ہے کیونکہ پہیلی بھی آخرکار ایک سوال کو قائم رکھتی ہے۔
مگر یہ مکمل پہیلی ہے نہیں کیونکہ پہیلی کا جواب حتمی ہوتا ہےجبکہ یہاں
کوئی حتمی جواب نہیں
بلکہ سوال مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
یہ افسانہ حل طلب ہونے کے بجائے سوال کو برقرار
رکھنے والا متن ہے۔
اگر صاحبان_علم ناراض نہ ہوں اور میری کم علمی کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے معاف کر دیں تو میں اسے
تمثیلی پہیلی (allegorical riddle) کہنا چاہوں گا۔
پہیلی میں قاری جواب ڈھونڈتا ہے جبکہ
یہاں قاری خود سوال کا حصہ بن جاتا ہے کہ میں کس طرف کھڑا ہوں۔
اور کیا واقعی ایک طرف کھڑا ہونا ممکن ہے؟


