کیا ہمارا اردو ادیب اپنی سماجی حیثیت کھو چکا ہے؟-قاسم یعقوب

آج صورتِ حال یہ ہے کہ ادیب یا تو صرف ایک دوسرے کو سن رہے ہیں یا سنا رہے ہیں۔ کہیں بھی کوئی پروگرام ہو، کوئی فورم ہو یا اظہارِ خیال کا ہلکا سا موقع ملے، ہمارے ادیب فوراً وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ادیب شاعر جو مختلف سرکاری عہدوں سے ریٹائر ہو چکے ہیں، ان کے پاس اب یہی کام بچا ہے کہ بس کوئی انھیں بلا لے اور وہ وہاں جا کر بول سکیں۔
حال یہ ہے کہ کتابیں چھپ رہی ہیں،اعلیٰ ہوٹلوں میں اکٹھ ہوتا ہے، ایک دوسرے کے لیے وی آئی پی بنتے ہیں اور خود ہی ایک دوسرے پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جا تے ہیں۔ کسی فورم، کسی ادارے یا خطاب کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کیا جا رہا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اب تو موضوع کی بھی کوئی قید نہیں رہی۔ ادیب کو کسی بھی جگہ، کسی بھی بے ربط موضوع پر بلایا جا سکتا ہے اور وہ وہاں موجود ہوگا۔
ایسی کتابیں جنھیں پڑھنا تو دور کی بات، دیکھنا بھی وقت کا ضیاع لگے، ان کی رونمائیوں پر بھی ادیبوں کا جمگھٹا یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ سنجیدہ فورمز اب ماضی بن چکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اب عام آدمی ادیب کو نہیں سن رہا ۔ ادیب اس قدر تنہائی کا شکار ہے کہ وہ دیواروں اور ہوا سے باتیں کرنے پر بھی راضی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف سماجی صورتِ حال ہے یا اس میں ادیب کا اپنا ذاتی قصور بھی شامل ہے؟ میرا خیال ہے کہ معیاری ادب کی پروا نہ کرنا ہی اس بحران کی جڑ ہے۔ اپنی اہمیت منوانے کی دوڑ میں ادیب نے فورمز، گفتگو کے معیار، موضوعات اور اداروں تک کا خیال نہیں رکھا۔ اس چکا چوند میں خود کو بڑا دکھانے کے چکر میں جس طرح غیر معیاری سرگرمیوں کا رخ کیا گیا ہے اس میں نقصان کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ پورے ادب کا ہوا ہے اور افسوس کہ اس عمل میں ہمارے سینئر ادبا برابر کے شریک ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں