دنیا کی تاریخ میں یہودی قوم کی کہانی ایک ایسی زنجیر ہے جس کی ہر کڑی پچھلی کڑی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس تاریخ کو صحیح طرح سمجھنا ہو تو اسے الگ الگ واقعات کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل بہاؤ (Continuity) کے طور پر دیکھنا ہوگا — ایک ایسا بہاؤ جو رومی سلطنت سے شروع ہو کر اسلامی ادوار، یورپی معاشروں، اور بالآخر جدید مشرقِ وسطیٰ تک پہنچتا ہے۔
یہ داستان دراصل اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب Jewish-Roman Wars کے دوران رومی سلطنت نے یروشلم کو تباہ کیا اور یہودیوں کو ان کے تاریخی وطن سے بڑی تعداد میں بے دخل کر دیا۔ یہ کوئی عام واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے یہودیوں کی اجتماعی زندگی کی سمت بدل دی۔ اس کے بعد وہ ایک جگہ کی قوم نہ رہے بلکہ دنیا بھر میں پھیل گئے — جسے بعد میں Jewish Diaspora کہا گیا۔
یہ بکھراؤ محض جغرافیائی نہیں تھا بلکہ اس نے یہودیوں کو مختلف تہذیبوں اور سیاسی نظاموں کے ساتھ جینے پر مجبور کیا۔ کچھ یہودی مشرقِ وسطیٰ میں رہے، جبکہ ایک بڑی تعداد یورپ کی طرف منتقل ہو گئی۔ یہی وہ تقسیم ہے جو بعد کی تاریخ کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں یہودیوں کے ساتھ برتاؤ بالکل مختلف رہا۔
ساتویں صدی میں جب اسلامی خلافت قائم ہوئی اور فلسطین مسلمانوں کے زیرِ انتظام آیا، تو ایک نیا باب شروع ہوا۔ خلفائے راشدین کے دور سے لے کر بعد کی مسلم سلطنتوں تک، یہودی مختلف علاقوں میں ایک اقلیت کے طور پر موجود رہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے: اس طویل دور — جو صدیوں پر محیط ہے — میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان کوئی مسلسل یا بین الریاستی جنگ موجود نہیں تھی۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ اس زمانے میں تعلقات زیادہ تر حکمرانی اور رعایا کے تھے، نہ کہ جنگ اور تصادم کے۔ یہودیوں کو “اہلِ کتاب” کے طور پر تسلیم کیا گیا، انہیں اپنی عبادات کی آزادی ملی، اور وہ مختلف شہروں — یروشلم، بغداد، دمشق اور استنبول — میں زندگی گزارتے رہے۔ Ottoman Empire کے دور تک آتے آتے یہ صورتِ حال مزید مستحکم ہو چکی تھی، جہاں یہودی نہ صرف محفوظ تھے بلکہ کئی شعبوں میں فعال بھی تھے۔
لیکن اسی دوران، جب مشرقِ وسطیٰ میں یہودی نسبتاً استحکام کے ساتھ رہ رہے تھے، یورپ میں ان کی تاریخ ایک بالکل مختلف رخ اختیار کر رہی تھی۔ وہاں وہ ایک مستقل اقلیت تھے، جنہیں اکثر “غیر” سمجھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ مذہبی تعصب، معاشی حسد اور سیاسی حالات نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں یہودی بار بار نشانہ بنتے رہے۔
یہ سلسلہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں تھا بلکہ صدیوں تک پھیلا ہوا تھا۔ کبھی انہیں شہروں سے نکالا گیا، کبھی ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے، اور کبھی عوامی ہجوم کے حملوں (Pogroms) کا نشانہ بنایا گیا۔ اسپین سے 1492 میں بے دخلی، مشرقی یورپ میں مسلسل حملے، اور فرانس میں سیاسی اسکینڈلز جیسے Dreyfus Affair — یہ سب اسی طویل سلسلے کی کڑیاں تھیں۔
یہی پس منظر آخرکار بیسویں صدی میں ایک انتہائی بھیانک صورت اختیار کر گیا جب “Holocaust” پیش آیا۔ نازی جرمنی کے ہاتھوں لاکھوں یہودیوں کا قتل صرف ایک واقعہ نہیں تھا بلکہ صدیوں کی نفرت کا انتہائی نقطہ تھا۔ اس سانحے نے نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا یہودی کہیں بھی محفوظ رہ سکتے ہیں؟
یہی وہ مقام تھا جہاں ایک اور تاریخی دھارا، جو پہلے سے موجود تھا، تیزی سے آگے بڑھا — یعنی “Zionist Movement”۔ اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ یہودیوں کے لیے ایک ایسا وطن قائم کیا جائے جہاں وہ اپنی حفاظت خود کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے فلسطین کا انتخاب کیا گیا، جو ان کے تاریخی اور مذہبی پس منظر سے جڑا ہوا تھا۔
یہ واپسی اچانک نہیں ہوئی بلکہ ایک منظم عمل تھا۔ یورپ اور روس سے یہودی ہجرت کرتے گئے، اور انہوں نے فلسطین میں زمینیں خریدنا شروع کیں۔ یہ خریداری زیادہ تر قانونی طریقے سے ہوتی تھی — بڑے زمینداروں سے، جو اکثر خود اس زمین پر رہتے بھی نہیں تھے۔ سرمایہ بیرونِ ملک سے آتا تھا، ادارے قائم کیے گئے، اور زرعی بستیاں بنائی گئیں۔ لیکن اس عمل کا ایک دوسرا پہلو بھی تھا: ان زمینوں پر کام کرنے والے مقامی عرب کسان بے دخل ہونے لگے، جس سے کشیدگی بڑھتی گئی۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد فلسطین “British Mandate for Palestine” کے تحت برطانیہ کے کنٹرول میں آیا۔ برطانیہ ایک طرف یہودی ہجرت کو محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا، اور دوسری طرف عرب آبادی کے ساتھ بھی تنازعات کا سامنا کرتا رہا۔ حالات اس قدر پیچیدہ ہو گئے کہ برطانیہ نے ہاتھ کھڑے کر دیے اور بالآخر مسئلہ “United Nations” کے حوالے کر دیا گیا۔
1947 میں اقوامِ متحدہ نے ایک تقسیمی منصوبہ پیش کیا، جس کے مطابق فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کیا جانا تھا — تقریباً 55 فیصد زمین یہودی ریاست کے لیے اور 45 فیصد عرب ریاست کے لیے، جبکہ یروشلم کو ایک بین الاقوامی شہر بنانے کی تجویز دی گئی۔ حالانکہ اس وقت یہودی آبادی تقریباً ایک تہائی تھی، لیکن انہیں زیادہ رقبہ دیا گیا، جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہودیوں نے 7 فیصد رقبہ قیمتاً خریدا تھا، اور دوسرا یہ کہ دنیا بھر کے یہودیوں نے اس ملک کی طرف ہجرت کرنا تھی۔
یہودی قیادت نے اس منصوبے کو قبول کر لیا کیونکہ اس کے ذریعے انہیں ایک باقاعدہ ریاست حاصل ہو رہی تھی، جبکہ عرب قیادت اور فلسطینیوں نے اسے مسترد کر دیا، کیونکہ ان کے نزدیک یہ تقسیم غیر منصفانہ تھی۔
یہاں سے حالات مزید بگڑ گئے اور 1947 کے آخر سے ہی مقامی عرب اور یہودی گروہوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں، جو ایک خانہ جنگی کی صورت اختیار کر گئیں۔ اس دوران دونوں طرف سے حملے اور جوابی حملے ہوتے رہے اور حالات مسلسل کشیدہ ہوتے گئے۔
اسی پس منظر میں جب 1948 میں برطانیہ نے اپنی عملداری ختم کی اور Israeli Declaration of Independence کے ذریعے اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا، تو یہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ اعلان کے فوراً بعد اردن، مصر، شام اور دیگر عرب ممالک کی افواج فلسطین میں داخل ہو گئیں، جس سے 1948 Arab–Israeli War شروع ہو گئی۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس جنگ کا آغاز دو مرحلوں میں ہوا: پہلے مقامی سطح پر عرب اور یہودی گروہوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی، اور پھر باقاعدہ عرب ریاستیں اس میں شامل ہوئیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا بلکہ اقوامِ متحدہ کے منصوبے سے زیادہ علاقہ بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا، جبکہ بڑی تعداد میں فلسطینی عرب بے گھر ہو گئے۔
اگر اس پوری تاریخ کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے: یہودیوں کا فلسطین سے بکھراؤ، یورپ میں ان کا صدیوں کا تجربہ، اور جدید دور کی سیاسی تحریک — یہ سب مل کر اسرائیل کے قیام اور آج کے تنازع کی بنیاد بنے۔
اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے اسے ٹکڑوں میں نہیں بلکہ ایک مسلسل کہانی کے طور پر دیکھنا ضروری ہے — کیونکہ ہر واقعہ اگلے واقعے کی بنیاد بنتا ہے۔
عزیزانِ من، یہ امرِ تاریخ ہے کہ یہودی قوم نے 70 عیسوی میں Siege of Jerusalem کے بعد سے لے کر 1948 تک تقریباً اٹھارہ سو برسوں پر محیط ایک طویل، صبر آزما اور نہایت کٹھن دور گزارا۔ اس طویل عرصے میں وہ مختلف خطوں میں بکھرے رہے، جلاوطنی اور دربدری ان کا مقدر بنی، اور ہر دور میں انہیں کسی نہ کسی شکل میں امتیاز، بے دخلی اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔


