سائے سے نکلتی ہارڈ وار: تہذیب اور ٹیکنالوجی کا جیو پولیٹیکل دنگل/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تصادم کو اگر محض سرحدوں، ہتھیاروں یا حالیہ فضائی حملوں کے روایتی ترازو میں تولا جائے، تو یہ اس گہری جیو پولیٹیکل حقیقت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا جو اس خطے کی رگوں میں دوڑ رہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورکس اور دفاعی تجزیہ کار اس کشمکش کو جب بھی دیکھتے ہیں، تو ان کی نظریں اسرائیل کی فضائی برتری، امریکی بیک اپ اور ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی پر جا کر ٹک جاتی ہیں۔ بظاہر یہ نقشہ ایک ایسی یکطرفہ طاقت کا تاثر دیتا ہے جس کے سامنے کسی کا ٹھہرنا ممکن نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن تاریخ اور جیو پولیٹکس کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جنگیں صرف مادی برتری سے نہیں، بلکہ اسٹریٹجک لچک اور گہری جڑوں سے لڑی جاتی ہیں۔ یہ لڑائی کوئی وقتی ابال یا چند دنوں کا معرکہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طویل مدتی، صبر آزما اور کثیر الجہتی تصادم ہے جو اب اپنے پرانے مرحلے، یعنی “کولڈ وار” اور خفیہ ایجنسیوں کی گوریلا جنگ کے سائے سے نکل کر ایک نئی اور ہارڈ وار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو “بھوکے موقعوں” پر لڑی جاتی ہے، جہاں ہر فریق دوسرے کی کمزوری کا انتظار کرتا ہے اور زیرِ زمین رہ کر وار کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھتا ہے۔

اسرائیل کو حاصل تکنیکی اور فوجی برتری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، جسے دنیا کے معتبر ترین دفاعی اداروں کی رپورٹس بھی تسلیم کرتی ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی کثیر التعداد فضائی دفاعی نظام—جس میں آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرو تھری شامل ہیں—سائبر وارفیئر کے میدان میں دشمن کے سسٹمز کو مفلوج کرنے والے مہلک ہتھیار اور امریکی دفاعی فنڈنگ کا لامتناہی سلسلہ اسرائیل کو ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ انٹیلیجنس کے میدان میں موساد کی زیرِ زمین کارروائیوں، تہران کے اندر گھس کر کی جانے والی ہائی پروفائل ٹارگٹڈ کارروائیوں اور جوہری تنصیبات پر اسٹکس نیٹ جیسے سائبر حملوں نے بارہا ایران کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کیا۔ الجزیرہ اور عالمی تھنک ٹینکس کے اعداد و شمار گواہ ہیں کہ اسرائیل کی پوری اسٹریٹجی خطرے کو سر اٹھانے سے پہلے ہی کچل دینے کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر استوار ہے۔ لیکن اس ٹیکنالوجیکل برتری کے مقابلے میں جب ہم ایران کو دیکھتے ہیں، تو وہاں روایتی مادی طاقت کا وہ توازن نظر نہیں آتا جو ایک جدید مغربی ریاست کا ہوتا ہے۔ ایران کے پاس نہ تو امریکہ جیسا جدید ترین فضائی بیڑا ہے اور نہ ہی اس کے تعلقات اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ تاریخی طور پر اچھے رہے ہیں۔ معاشی پابندیوں کے لامتناہی سلسلوں نے اس کی معیشت کو جکڑ رکھا ہے اور سفارتی سطح پر اسے ایک طویل عرصے تک تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔

مگر اس بظاہر کمزور پوزیشن کے باوجود ایران جس اصل طاقت کے بل بوتے پر اس پوری بساط پر ڈٹا ہوا ہے، وہ اس کی ہزاروں سال پرانی فارسی تہذیب، علمی روایت اور بے پناہ ثقافتی جڑیں ہیں جو وہاں کے لوگوں کے خون میں شامل ہو چکی ہیں۔ تہذیب کوئی ایسی مادی شے نہیں جسے چند بمبار طیاروں یا معاشی پابندیوں سے مٹایا جا سکے۔ تہران کی اسٹریٹجک سوچ میں وہی صبر اور گہرائی نظر آتی ہے جو قالین بافی کی صدیوں پرانی ایرانی مہارت کا حصہ ہے، جہاں ایک ایک دھاگہ انتہائی تحمل کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ایران نے اسرائیل کی روایتی اور تکنیکی برتری کا جواب “ایسیمیٹرک وارفیئر” یعنی غیر متناسب جنگ کے ذریعے دیا، جس کا ثبوت اس کا “حلقہ آفتاب” یا ایکسس آف ریزسٹنس (Axis of Resistance) ہے۔ اس نے براہِ راست ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کے بجائے خطے کے جغرافیے کو اپنا ہتھیار بنایا اور لبنان، یمن، غزہ اور عراق میں پھیلے زیرِ زمین نظریاتی نیٹ ورکس کے ذریعے اسرائیل کو ایک طویل مدتی دلدل میں الجھا دیا۔ یہ وہ گوریلا اور انڈر گراؤنڈ جنگ ہے جس کی بنیاد انٹیلیجنس اور نظریاتی جڑوں پر ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی تمام تر تکنیکی برتری کے باوجود یہ نیٹ ورکس آج بھی زمین پر فعال اور موثر ہیں۔

موجودہ منظرنامے میں جب سائے کی یہ جنگ کھل کر سامنے آئی، تو دنیا نے دیکھا کہ ایران نے بیرونی دباؤ کو اپنی کمزوری بننے کے بجائے داخلی خود انحصاری میں کیسے بدلا۔ سخت ترین پابندیوں کے باوجود ایران کا داخلی دفاعی نیٹ ورک، اس کی بیلسٹک میزائل انڈسٹری اور اس کے سستے لیکن انتہائی موثر ڈرونز جیو پولیٹیکل گیم چینجر ثابت ہوئے۔ حالیہ برسوں کے دوران جب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی حملوں کا تاریخی تبادلہ ہوا، تو یہ مغرب کی بنائی ہوئی یہ متھ ٹوٹ گئی کہ ایران صرف پراکسیز کے پیچھے چھپ کر لڑ سکتا ہے۔ ایران نے دنیا کو دکھایا کہ وہ اپنے پہاڑوں کے اندر بنے انڈر گراؤنڈ میزائل شہروں (Missile Cities) کے بل بوتے پر اسرائیل کے جدید ترین دفاعی نظام کو بھی بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا کی کئی بڑی مادی طاقتیں اتنے شدید معاشی اور سیاسی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتیں، لیکن ایران بار بار کے حملوں، پابندیوں اور اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود نہ صرف قائم رہا بلکہ اس کا تزویراتی اثر و رسوخ خطے میں مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔

اس طویل مدتی جنگ کا ایک اور اہم اور لاجیکل رخ خطے کی بدلتی ہوئی سفارت کاری اور نئے عالمی اتحاد ہیں۔ اگرچہ ایران کے تعلقات تاریخی طور پر پڑوسیوں کے ساتھ پیچیدہ رہے ہیں، لیکن حالیہ سفارتی پیش رفت، جیسے چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی نے اس سفارتی تنہائی کو بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ دوسری طرف، عالمی سیاست کے بدلتے تیوروں کے درمیان روس اور چین کے ساتھ ایران کے بڑھتے ہوئے سٹریٹجک، معاشی اور فوجی تعاون نے اسے ایک ایسا عالمی بیک اپ فراہم کیا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس کے برعکس، اسرائیل کو اپنی تمام تر تکنیکی برتری اور امریکی پشت پناہی کے باوجود بین الاقوامی سطح پر شدید اخلاقی اور سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ غزہ اور لبنانی محاذ پر طویل ہوتی ہوئی جنگ، اندرونی طور پر لاکھوں شہریوں کی نقل مکانی اور معاشی گراوٹ نے اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے تاثر کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے، جس کا ثبوت عالمی عدالتِ انصاف اور اقوامِ متحدہ کے فورمز پر ہونے والی بحثیں ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ صرف ٹیکنالوجی اور طاقت کے زور پر طویل مدتی جنگیں جیتی نہیں جا سکتیں، جب تک کہ آپ کے پاس اسٹریٹجک گہرائی اور نقصان برداشت کرنے کا حوصلہ نہ ہو۔

مشرقِ وسطیٰ کے اس افق پر اب جو منظرنامہ ابھر رہا ہے، وہ اسی تہذیبی استقامت کی فتح کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایران اس طویل معرکے میں ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے جو زخم کھانے کے باوجود اپنی اسٹریٹجک پوزیشن چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اس کی علمی، ثقافتی اور تاریخی جڑیں اس کے عوام اور قیادت کو ایک ایسی لچک فراہم کرتی ہیں جو کسی بھی جدید ترین سائبر حملے یا فضائی برتری سے زیادہ پائیدار ثابت ہوئی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، مغربی طاقتوں کا خطے پر روایتی کنٹرول اور اسرائیل کا دبدبہ اس طویل مدتی جنگ کی دلدل میں تھکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری طرف، ایران اسی زیرِ زمین اور موقع پرست حکمتِ عملی کے ذریعے، معاشی تنگیوں کے باوجود، ہر بحران سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر نکل رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مادی ٹیکنالوجی کا ٹکراؤ ایک زندہ اور جاندار تہذیب سے ہوتا ہے، تو فتح ہمیشہ اس کی ہوتی ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری ہوں۔ ایران کا یہ ابھرتا ہوا کردار ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس طویل معرکے کے اختتام پر ایک کامیاب، کامران اور خطے کی ناگزیر طاقت کے طور پر چمکتا ہوا ابھرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جہاں مادی برتری کے عارضی دعوے تہذیبی استقامت کے سامنے ماند پڑ جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں