قصہ عمرو لیث کا/ اقتدار جاوید

میگھل اور پرنس ہیری کی جب کوٸی بات کرتا ہے تو ہمیں شیخ سعدی کی ایک حکایت یاد آجاتی ہے۔گلستان کے پہلے باب در سیرت پادشاہان میں عمرو لیث کا ایک قصہ مذکور ہے۔ یہ عمرو لیث وہی بادشاہ تھا جس نے شیراز شہر آباد کیا تھا اسی کا قصہ سعدی بیان کرتے ہیں کہ اس کے غلاموں میں سے ایک غلام بھاگ گیا تھا۔ کچھ تگ و دو کے بعد سپاہی اسے پکڑ کر لے آٸے اور بادشاہ کے حضور پیش کر دیا۔اب بادشاہ تو بادشاہ ہوتا ہے کوٸی پاکستان کا وزیر اعظم تو نہیں تھا کہ اسے کہیں اور سے حکم کا انتظار کرنا ہو یا وزرا ہی آپس میں متفق نہ ہوں۔وزیر اعظم کچھ کہے اور وزرا اپنی زبان میں کچھ اور کہہ رہے ہوں جس کو کہتے ہیں
من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید۔وہ تو بادشاہ تھا سو اس نے وزیر سے مشورہ کرنا ہی تھا۔تمام تاریخ کی کہانیوں میں ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔وزیر کو اس غلام سے ایک قسم کا بیر تھا اس نے غلام کو قتل کر دینے کا مشورہ دیا تاکہ دوسرے عبرت حاصل کریں اور یہاں سے فرار ہونے کی جرات نہ کریں۔ اس نے گردن زنی کا حکم سنایا۔جلاد بھی اپنے فراٸض سے بخوبی آگاہ تھا تلوار لے کر آگے بڑھا۔
بادشاہ کے حکم پر جلاد تب بھی اور اب بھی بیک جنںش قلم سر تن سے جدا کرنے میں ایک پل کی دیر نہیں کرتے۔
قریب تھا کہ اس کا سر اڑا دیا جاتا اس غلام نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور کچھ عرض کرنے کی درخواست کی۔ بادشاہ نے اجازت دے دی۔غلام نے کہا آپ مجھے بے گناہ قتل کرنے کا حکم دے رہے ہیں آپ تو اگلے جہان میں پکڑے جاٸیں گے اور میرے قتل پر آپ کو سزا بھی ہو گی۔بادشاہ نے ابھی کچھ پوچھنا ہی تھا غلام نے کہا میرے پاس ایک ترکیب ہے کہ آپ کے قتل کا حکم بھی پورا ہو جاٸے گا، میں قتل بھی کر دیا جاؤں گا اور آپ سے پوچھ گچھ بھی نہیں ہو گی۔
بادشاہ بادشاہ ہوتا ہے جیسے ہمارے بادشاہ ہیں بلکہ دنیا جہان کے بادشاہ ہمارے بادشاہوں کے سامنے دھول چاٹتے ہیں۔ چاہا تو چوراسی کمیٹیوں کی سربراہی بخش دی۔بادشاہ نے غلام سے کہا بولو اس نے کہا حضور والا یہ جو آپ کا وزیر ہے اس کو میں قتل کر دیتا ہوں اس جرم کی پاداش میں آپ میری گردن اڑوا دیں۔آپ سے پھر کیوں سوال جواب ہو گا۔ بادشاہ مسکرایا مگر ہم نے یہاں کے بادشاہوں کو مسکرتے کم ہی دیکھا ہے۔اب بادشاہ غصے میں رہتے ہیں شاید انہیں علم ہوتا ہے کہ عوام بہت غصے میں ہیں۔اسی لیے وہ اس توڑ کو توڑتے ہیں اور غصے میں رہتے ہیں۔
بادشاہ نے حسب معمول دوبارہ وزیر کی طرف دیکھا۔
آج تک یہ سمجھ نہیں آیا آخر بادشاہ ہر معاملے میں کسی وزیر کی جانب کیوں دیکھتے ہیں۔آج الطاف گوہر زندہ ہوتے تو کچھ بتا سکتے۔پرانے زمانے میں بادشاہت ہوتی تھی تو بادشاہ سلامت وزیر باتدبیر کی جانب دیکتے تھے اب تو پارلیمان کی طرف دیکھنا چاہیے مگر آج بھی بادشاہ سلامت اپنے وزیروں کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔اب وزیر کو اپنے جان کے لالے پڑ گٸے۔
کبھی کبھی وزیروں کو جان کے لالے پڑتے تھے آج کل بالکل نہیں پڑتے ہیں۔مرزا جواں بخت تاریخ میں دو ہو گزرے ہیں دونوں کو اپنی زندگی میں جان کے لالے پڑے رہے۔پہلے والے مرزا جواں بخت نے کہا تھا
ترے عشق سے جب سے پالے پڑے ہیں
ہمیں اپنے جینے کے لالے پڑے ہیں
مگر وہ بہت لائق فائق شہزادہ تھا۔وہ شاہ عالم ثانی کا فرزند تھا۔اصل میں جس شہزادے کو جان کے لالے پڑے وہ بہادر شاہ ظفر کے بیٹے تھے اور زینت محل کے بطن سے تھے۔وہی باپ کے ساتھ رنگون بھیجے گئے تھے اور جس سال کانگریس پارٹی کی بنیاد رکھی جانی تھی اس سے ایک سال قبل ان کا انتقال ہوا۔ان کی وفات پر کسی قسم کا کوئی بیان کسی مسلم نواب یا ریاست کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا۔البتہ انہی دنوں ملکہ وکٹوریہ کے چھوٹے بیٹے لیو پولڈ کا انتقال ہوا تب تمام مسلم نوابین اور ریاستوں نے تعزیتی پیغام بھیجے تھے۔مگر مرزا جواں بخت جس کی شادی کا سہرا اردو کے عظیم شاعر غالب نے لکھا تھا اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی تھی۔جس شہزادے کی وفات پر خاموشی اختیار کی گئی تھی اسی کی شادی پر غالب کا کہا سہرا اپنے مقطع کی وجہ سے لازاوال ہو گیا کہ
ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں
دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بڑھ کر سہرا
دیکھیں اس شہزادے کا نام تک کسی کو معلوم نہیں۔ہمیں بھی بڑی تگ و دو کے بعد اس کا نام یاد آیا۔اسے انقلابات ہیں زمانے کے کہا جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں ذوق نے جو سہرا لکھا سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ غالب کے سہرے سے کہیں بڑھ کر تھا اس کا مقطع تھا
جس کو دعوائے سخن ہے یہ سنا دے اس کو
دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور
جس شاعر سے اچھا سہرا ذوق نے لکھ مارا تھا اس کے
بارے میں اور کیا کہیں۔لوگ باگ اس سے اقبال کو بھی چھوٹا شاعر کہنے لگ گئے ہیں۔
اب سہرے کہنے کا کام ہم شاعروں سے وزرا بلکہ وزرائے اعظم نے لے لیا ہے۔کم بخت ایسا ایسا سہرا اور ایسے ایسے سہرے میں شعر سجاتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔آپ آئے دن ان اشعار کو اخبارات میں نثر کی صورت میں دیکھتے ہیں۔انہیں اخباری زبان میں بیان جاری کرنا کہتے ہیں۔
غلام کی دانشمندانہ اور سیاسی بات سن کر بادشاہ عمرو لیث ہنس پڑا۔ اس نے اپنے وزیر کی طرف دیکھا اور پوچھا تو وزیر اپنی تھاں پر آ گیا۔کہنے لگا اس کم بخت کو اپنے قبلہ والد کی طفیل معاف کر دیں۔سعدی اس حکایت سے نتیجہ بھی نکالتے ہیں کہ جس کے ہاتھ میں مٹی کا ڈھیلا ہو اس سے مجتنب رہیں۔اس سے جنگ کرو گے تو اپنا ہی سر پھوڑو گے۔اس کا کیا جانا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں