محبت، دھوکہ اور احساسِ کمتری کی کہانی

محبت، دھوکہ اور احساسِ کمتری کی کہانی

میرے پاس کچھ ایسی تصویریں اور ویڈیوز ہیں جو ماضی کے ایک خوبصورت تعلق کے ساتھ جڑی ہیں۔ سات آٹھ سال کی واٹس ایپ چیٹ کا بیک اپ بھی ہے۔ بریک اپ کے بعد وہ بھی آگے بڑھ چکی ہے، میں بھی نئی زندگی شروع کر چکا ہوں۔ مگر اس ڈیٹا کو ڈیلیٹ کرتے ہوئے ہمت ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ ایک بار تو سب کچھ ڈیلیٹ کر دیا، مگر ٹریش سے چند دن بعد پھر وہ ڈیٹا ریکور کر لیا۔ کہاں سے ملے وہ ہمت ان یادوں کو اپنے ہاتھ سے مٹانے کی؟ وہ تصویریں کسی نے یا میری بیوی نے دیکھ لیں تو اس کا انجام کیا ہوگا؟ کئی بار سوچا ہے، مگر پھر بھی ماضی سے مکمل پیچھا چھڑا پانا ممکن نہیں میرے لیے۔ ایسا کسی اور نے کبھی کیا ہوگا تو کیسے کیا ہوگا؟

میں سسرال ہوتی ہوں تو بس اس کا کبھی کبھار خیال آتا ہے۔ میکے آکر میں سب پہلا کام اپنے ایکس کو میسج کرنے کا کرتی ہوں۔ اس سے بات کرتی ہوں، اپنی ساری روٹین بتاتی ہوں، اور وہ جیسا کرنے کا کہتا ہے وہ کر لیتی ہوں۔ اسے انکار نہیں کر پاتی۔ قصور میرا اپنا ہی ہے کہ رابطہ بھی تو میں ہی کرتی ہوں۔ اس تعلق اور رابطے کا اختتام آخر کب اور کیسے ہوگا؟ میں نے سوچا تھا شادی کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوگا مگر سب پہلے جیسا ہی ہے۔ بس ایک چیز نہیں تو وہ ملاقات کا نہ ہونا ہے۔ خاوند بھی بیبا بندہ ہے، کئیر کرتا ہے، بس میں نجانے کیوں اسے اس احساس کے ساتھ قبول نہیں کر پا رہی جیسے تعلق میں شادی سے پہلے کسی کے ساتھ مخلص تھی۔

مجھے پتا ہے میرا خاوند کسی سے تعلق میں ہے۔ اس تعلق میں سب کچھ ہے۔ کئی بار سوچا ہے کہ بات کروں، پھر رک جاتی ہوں۔ ابھی جب پوچھوں کہاں گئے تھے تو وہ بڑا بنا سنوار کر سوچا سمجھا جھوٹ بولتے ہیں۔ اور میں جسے سب پتا ہوتا ان کے کہے کو مان لیتی ہوں۔ سوچتی ہوں خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تو اچھا ہے۔ میں بات کروں تو شرمندہ ہوں گے یا پتا نہیں کیسا ری ایکشن دیں۔ ہمارا تعلق بہت اچھا اور مثالی حد تک خوبصورت ہے، وہ بعد میں نجانے کیسا ہو جائے۔ لیکن اس پھانس کو سہہ پانا بھی تو روح کو زخمی کر رہا ہے۔ اس درد کو کیسے سہا جائے؟ یا اس درد کے ساتھ جینا سیکھ لیا جائے؟ یا بات کرکے دیکھا جائے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

مجھے پیدائشی طور پر Club Foot تھا، یعنی میرے دائیں پاؤں کی ایڑھی زمین پر نہیں لگتی تھی۔ کئی آپریشن ہوئے مگر مسئلہ کوئی پچاس فیصد تک حل ہو سکا۔ میں اب بھی پاؤں دبا کر چلتا ہوں۔ رشتہ ہونا بہت مشکل تھا۔ پھر ایک ایسی جگہ رشتہ ہو گیا جو بظاہر ناممکن تھا۔ میری چھٹی حس کہتی تھی کہ کچھ تو ہے جو مجھے قبول کیا گیا۔ میری بیوی شکل و صورت میں غیر معمولی خوبصورت تھی۔ وہ ایک بڑا باعزت اور باوقار خاندان تھا۔ ہمارا کوئی جوڑ نہیں۔ شادی کے دو سال بعد میری بیگم کی بھابھی سے معلوم ہوا کچھ ایسا جو بتانا بھی ممکن نہیں۔ آپ سمجھ چکے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جو آپشن ملی اسے قبول کیا اور لڑکی بیاہ دی۔ پہلے ان کا پلان اسے قتل کرنے کا تھا، پھر زندہ چھوڑ دیا۔ ابھی اس کے بھائی اس سے رسمی طور پر ملتے ہیں۔ ہمارے اب دو بچے ہیں۔ شادی کو سات سال ہو چکے ہیں۔ وہ لڑکی ہر لحاظ سے ایک مثالی بیوی ہے، کبھی کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ میں سوچتا ہوں میری معذوری کی وجہ تھی جو ہم نے دائیں بائیں سے پوچھ تاچھ نہ کی۔ ہم نے آنکھیں بند کرکے رشتہ کر لیا۔ اور انہوں نے بھی ہمیں اس لیے چنا کہ ہم ان سے بہت نیچے تھے۔ اور پھر جہیز میں دنیا جہان کا سامان بھیج دیا، پچاس لاکھ روپے بیٹی کو کیش بھی دیا گیا۔ بے شک غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے۔ میرا ماضی بے داغ تھا۔ تو سوچتا ہوں مجھے اس بات کا کیوں پتا چلا۔ جو ہوا سو ہوا، میں ہی اتنی کھوج نہ کرتا، سب سچ جاننا ضروری نہیں ہوتے۔ کچھ سچ جینا محال کر دیتے ہیں۔ میں بہت درد میں خود کو محسوس کرتا ہوں اس وجہ سے کہ یہ محلوں کی رانی ایک غلطی کی وجہ سے کن فقیروں کے گھر آ گئی۔ اور چپ چاپ گزارہ کر رہی ہے۔ میرے نہیں اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ زندگی شاید اب ایسے ہی گزر جائے گی مگر ایک خلش ہے جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی۔ میں خود کو اس کی ماضی کی غلطی کے باوجود اس کے قابل نہیں سمجھتا۔ یہ میرا احساس کمتری بھی ہے اور اس سے محبت کی آخری حد بھی۔ کہ میری غیرت نہیں جاگی اور اس کے ساتھ ناانصافی پر تڑپتا رہتا ہوں۔ اس احساس سے چھٹکارا حاصل کرنا آخر کب اور کیسے ممکن ہوگا؟

دس سال کا تعلق۔ ایک دن میں سولہ سے اٹھارہ بیس گھنٹے تک چیٹ۔ ساتھ جینے مرنے کی قسمیں۔ اور پھر معلوم ہوا کہ گھر والوں نے کہیں اور ہاں کر دی ہے۔ ہماری آخری ملاقات طے ہوئی۔ اس میں وہ فون میں نے نجانے کیوں اس سے لے کر پکڑا جو اسے میں نے ہی لے کر دیا تھا۔ وہ بڑی بے چین ہوئی کہ فون فوری واپس ملے۔ میری آنکھوں کے آگے تو جیسے اندھیرا چھا گیا کہ یہ کچھ تو ہے اس فون میں جو اتنی بے تابی۔ میں نے ناچاہتے ہوئے وہ فون اس سے چھین لیا۔ اس نے بہت ڈرامہ کیا، جتنے پینترے بدل سکتی تھی بدلتی رہی۔ بالاخر اس نے فون چھین کر غصے میں توڑ دیا کہ تمہیں دس سال کے تعلق پر اتنا بھی بھروسہ نہیں۔ اور میں کہتا رہا کہ تم کلئیر ہو تو لاک کھول، فون چیک کرنے دو مجھے۔ وہ ایسا نہیں کر رہی تھی۔ ٹوٹا ہوا فون اٹھایا، کپڑے پہنے اور واپس آ گیا۔ فون رپئیر کروایا، واٹس ایپ میں وہ کچھ تھا جو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ نئی جگہ پر ہاں گھر والوں نے نہیں کی تھی بلکہ پوری پلاننگ کے ساتھ وہاں شادی ہو رہی تھی۔ چار سال پرانا تعلق تھا۔ وہ لڑکا اٹلی کا پاسپورٹ ہولڈر تھا اور شادی کے بعد اٹلی شفٹ ہونے کا پلان تھا۔ ہر مہینے وہاں سے یورو آتے تھے۔ اور میرے ذمے چھوٹے موٹے خرچے تھے: پیزا آرڈر کر دیا، سوٹ لے دیا، موبائل پیکج لگا دیا، آن لائن شاپنگ کروا دی، کہیں کھانا کھلا دیا۔ اور پھر جہاں اختتام ہوا۔ نئی سم سے رابطہ کرکے مجھے گالیاں دی گئیں، بد دعائیں دی گئیں، مجھے نیچ، کم نظر، کم ظرف، شکی اور نجانے کیا کچھ کہہ کر یہ بتایا گیا کہ تم اس قابل ہی نہیں کہ تمہارے ساتھ تعلق مزید بحال رکھا جائے۔ ایسا تب ہوا جب اپنی چوری بمع ثبوت پکڑی جا چکی تھی۔ ورنہ کل تک، اس سے پہلے تو میں روح کا سکون، پہلی و آخری محبت، آخری سانس تک وفا کا وعدے دار اور نجانے کیا کچھ تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں