صیہونی بوٹوں پر لبرل پالش/محمد عامر حسینی

مصنف کا ایک ضروری نوٹ: قاری سے ایک معذرت…
میں عمومی طور پر اپنی تحریروں میں سیاہ طنز کی اس تیزابیت، کاٹ دار جملوں اور نشتر زنی سے حد درجہ گریز ہی کرتا ہوں۔ میرا اصل شیوہ ہمیشہ سے ٹھنڈی، غیر جذباتی منطق، نپی تلی دلیل اور فکری مکالمہ رہا ہے۔ میں لفظوں کو تازیانہ بنانے اور اسلوب کو بارود میں بدلنے کا قائل نہیں ہوں، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ فہم کا سفر دھیمے لہجے میں ہی طے ہوتا ہے۔
لیکن صاحبو! جب منافقت کی سڑاند حد سے بڑھ جائے، جب غزہ کے معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے غاصبوں کے لیے دیسی دانشوری کا تھوک لگا کر کلین چٹ تیار کی جا رہی ہو، اور جب ایڈورڈ سعید جیسے سچے انسان کی روح کو مسخ کر کے اس کی آڑ میں صہیونیت کی دلالت کی جا رہی ہو… تو وہاں ٹھنڈی منطق کا استعمال بذاتِ خود ایک فکری جرم اور مظلوم کے خون سے غداری بن جاتا ہے۔
جب اس ملک کے اپنے لاپتہ افراد، کچلے ہوئے طبقوں اور مقتولوں کے مقدس دکھ کو ایک بونا لبرل اپنے بیرونی آقاؤں کے خونی جرائم چھپانے کے لیے “محفوظ ڈھال” کے طور پر استعمال کرے، تو قلم اپنے قابو میں نہیں رہتا۔ ایسے ناسور کو صاف کرنے کے لیے جراحی کا باریک نشتر نہیں، بلکہ منٹو کا وہ تپتا ہوا لوہا چاہیے ہوتا ہے جو منافقت کے چہرے کی جلی ہوئی کھال اتار کر اس کا اصل صیہونی خمیر چوراہے پر ننگا کر دے۔
اگر اس تحریر کا انتہائی جارحانہ سیاہ طنز اور اسلوب کی یہ تلخی آپ کی حسِ لطیف پر گراں گزری ہو، تو میں اپنے قارئین سے دل سے معذرت خواہ ہوں۔ لیکن یہ غصہ میرا ذاتی نہیں، بلکہ اس دورِ بے حسی کا وہ ماتم ہے جو اندر سے دل کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔
عذرِ تلخ نوائی کے لیے مرزا اسد اللہ خان غالب کا یہ آخری سہارا:
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
…………
صاحبو! بازارِ حسن کی طوائف بھی جب بوڑھی ہو جائے تو تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر پارسائی کا دھندا شروع کر دیتی ہے، لیکن یہ جو ہمارے ملک کا “لبرل بابو” ہے نا، اس کی عیاری کا عالم دیکھیے۔ یہ جوان ہوتے ہی فکری عصمت فروشی کے اس کوٹھے پر جا بیٹھتا ہے جہاں گاہک مغربی سامراج ہو اور اجرت میں “دانشورانہ سند” اور “بین الاقوامی فنڈنگ” ملتی ہو۔

ابھی کل ہی کی بات ہے، ایک صاحبِ فراست، جو نام نہاد لبرل ازم کے افیونی نشے میں دھت ہیں، اپنے فکری بنجر پن کو چھپانے کے لیے ایڈورڈ سعید کی لاش کندھے پر اٹھائے چوراہے پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ مقصد؟ سامراجیت مخالف، صہیونیت مخالف اور مقامی استعمار کے پرخچے اڑانے والے اصل دانشوروں کو اپنے تئیں “رگیدنا”۔
منٹو نے ایک بار کہا تھا:

“اگر آپ کو میری تحریریں گندی لگتی ہیں تو جس معاشرے میں آپ رہ رہے ہیں، وہ گندا ہے۔”
آج منٹو زندہ ہوتے تو اس لبرل مکار کا گریبان پکڑ کر کہتے:

“اگر تمہیں استعمار کی اصطلاح سے اتنی ہی تکلیف ہے، تو سمجھ لو کہ تمہارا آقاؤں سے رشتہ بہت گہرا ہے!”

قاسم کا وہابی طرز اور لبرل بابو کا نوآبادیاتی عشق:
ہمارے لبرل مربی فرماتے ہیں کہ گاؤں کا قاسم ‘شرک’ اور ‘بدعت’ کی اصطلاحات سیکھ کر چودھری بن بیٹھا تھا، اور شہر کے اینٹی سامراج دانشور ‘استعمار’ اور ‘طاغوت’ سیکھ کر قاسم بن گئے ہیں۔
اب ہمارا جواب بھی سن لو :
“میاں! گاؤں کے قاسم نے تو صرف شلوار ٹخنوں سے اوپر کی تھی، مگر تم نے تو آقاؤں کے سامنے اپنی غیرت کی شلوار ہی اتار دی! قاسم تو پھر بھی سادہ تھا، چند اصطلاحیں سیکھ کر دوسروں کو جہنم کا خوف دلاتا تھا۔ تم تو اتنے مکار ہو کہ صیہونیوں کے ہاتھوں معصوم بچوں کے قتلِ عام پر پردہ ڈالنے کے لیے ‘داخلی استعمار’ کی اصطلاحی لغت کھول کر بیٹھ گئے ہو۔ قاسم کا مقصد تو پھر بھی جنت تھا، تمہارا مقصد صرف وائٹ ہاؤس اور صیہونی لابی کی خوشنودی ہے!”
یہ لبرل بونے سمجھتے ہیں کہ سامراج مخالفت کوئی فیشن ہے جو کسی نے چند کتابیں پڑھ کر اپنا لیا۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی معرکہ آرا کتاب ‘اورینٹل ازم’ (Orientalism) میں تمہارے جیسے ہی دیسی کارندوں کا خاکہ کھینچا تھا:
ایڈورڈ سعید کا اقتباس:
“مغرب نے مشرق پر صرف زمین کے ذریعے قبضہ نہیں کیا، بلکہ اس نے ایسے دیسی دانشور پیدا کیے جو اپنے ہی لوگوں کو مغرب کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور اپنے ہی مظلوم بھائیوں کو جاہل اور غاصب ثابت کرنے کے لیے استعماری زبان بولتے ہیں۔”
چینی اویغور اور ایرانی بلوچ: مٹی پاؤ، غاصب کو بچاؤ!
ہمارے لبرل فلسفی نے چین کے اویغور، ایران کے بلوچ اور روس کے یوکرین کا رونا رویا ہے۔ واہ! کیا کمال کی پینترا بازی ہے۔ غفلت کا یہ عالم ہے کہ جب غزہ میں پچاس ہزار انسانوں کا خون پانی کی طرح بہا دیا جائے، ہسپتال ملبے کا ڈھیر بنیں، تو لبرل دانشور کو اچانک سنکیانگ اور چیچنیا یاد آ جاتے ہیں۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے محلے کا چودھری ایک عورت کی عصمت دری کر رہا ہو، اور تماشائی لبرل کہے: “چھوڑو جی! اس چودھری کو کیا کہنا، اس کے برابر والے نے بھی تو پچھلے سال ایک چوری کی تھی، پہلے اس کا فیصلہ کرو!”
فرانز فینون (Frantz Fanon) نے اپنی کتاب ‘The Wretched of the Earth’ میں لکھا تھا:
“نوآبادیاتی نظام کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ مظلوموں کے درمیان تفریق پیدا کر دے اور بحث کا رخ اصل قاتل سے ہٹا کر کہیں اور موڑ دے۔”
صاحب! روس، چین اور ایران کے مظالم پر ضرور بات ہو گی، اور ان پر وہ دانشور بات کرتے ہیں جن کے قلم سچے ہیں۔ لیکن تمہارا درد اویغور یا بلوچ کا درد نہیں ہے، تمہارا درد یہ ہے کہ کسی طرح امریکہ اور اسرائیل کے خونی پنجوں کو معصوم ثابت کیا جائے۔ تمہاری حالت منٹو کے اس غسل خانے جیسی ہے جہاں ہر کوئی ننگا ہے، لیکن تم نے صیہونی بوٹ پہن کر خود کو پارسا سمجھ لیا ہے۔
ایڈورڈ سعید کو ‘حافظ سعید’ بنانا اور لبرل کا نوحہ
موصوف فرماتے ہیں کہ ایڈورڈ سعید نے یاسر عرفات پر تنقید کی تھی، انہوں نے اسلامی بنیاد پرستی کو فلسطینی کاز کی رکاوٹ کہا تھا۔ جی ہاں، بالکل کہا تھا! ایڈورڈ سعید ایک آزاد منش اور سچے دانشور تھے، وہ تمہاری طرح کسی کے ‘راتب خور’ نہیں تھے۔
لیکن ایڈورڈ سعید نے یہ بھی لکھا تھا کہ:
“فلسطین پر صیہونی قبضہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا نوآبادیاتی ظلم ہے، جہاں ایک پوری قوم کو ان کی اپنی زمین سے بے دخل کر کے ایک نسل پرست ریاست قائم کی گئی۔”
تم ایڈورڈ سعید کا وہ حصہ تو چاٹ گئے جہاں وہ اپنوں پر تنقید کرتے ہیں، کیونکہ اس سے تمہارے صیہونی آقاؤں کو سکون ملتا ہے، مگر سعید کا وہ حصہ تمہارے حلق میں پھنس جاتا ہے جہاں وہ امریکی اور صیہونی گٹھ جوڑ کو دنیا کا سب سے بڑا کینسر قرار دیتے ہیں۔ ایڈورڈ سعید کو ‘حافظ سعید’ ہم نہیں، بلکہ تم اپنی مکارانہ تاویلات سے انہیں ‘صیہونی لابی کا ترجمان’ بنانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہو۔
فرانز فینون اور لبرل کا ادھورا سچ
تم نے فینون کا حوالہ دیا کہ آزادی کے بعد مقامی قیادت نوآبادیاتی آقا سے بدتر ہوتی ہے۔ میاں منٹو کے لفظوں میں سننا چاہو گے؟
“فینون نے یہ تمہارے جیسے ذہنی غلاموں کے لیے ہی لکھا تھا! آزادی کے بعد جو کالی چمڑی والے گندے بابو اقتدار پر بیٹھے اور جنہوں نے اپنے ہی لوگوں کا خون چوسا، تم ان کے فکری سہولت کار ہو۔”
جب بلوچستان، سندھ یا کشمیر کے حقوق کی بات آتی ہے، تو اینٹی سامراجی دانشور ہی اگلی صفوں میں کھڑے ہو کر ریاستی جبر کا مقابلہ کرتے ہیں اور جیلیں کاٹتے ہیں، جب کہ تم جیسے لبرل ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر ‘ریاستی بیانیے’ اور ‘ملکی مفاد’ کا لوشن لگا کر اپنی دانشوری چمکاتے ہیں۔ اور جب غزہ کی باری آئے، تو تم داخلی استعمار کا لبادہ اوڑھ کر اسرائیل کو کلین چٹ دینے نکل پڑتے ہو۔
آخری وار
چلو، قصہ مختصر کرتے ہیں۔ تم نے آخر میں کہا کہ قاسم چاہے گاؤں کا ہو یا شہر کا، وہ سوچے گا نہیں، لیبل لگائے گا۔
سچ کہا میاں! تم بھی ایک قاسم ہی ہو، مگر “نوآبادیاتی قاسم”۔ جس کے ہاتھ میں گرامشی یا سعید کی کتاب تو ہے، لیکن دل میں صیہونیت کی محبت موجزن ہے۔ تم سوچتے نہیں ہو، تم صرف اپنے آقاؤں کے اشارے پر لیبل لگاتے ہو۔ تمہارا بنیادی مقصد یہ نہیں کہ دنیا سے ظلم ختم ہو، تمہارا مقصد صرف یہ ہے کہ غاصب اگر گوری چمڑی والا ہو تو اس کے تلوے چاٹنے کو ‘لبرل ازم’ اور ‘رواداری’ کا نام دے دیا جائے۔
منٹو نے کہا تھا: “دنیا میں جتنی لعنتیں ہیں، بھوک، پیاس، افلاس، ان سب کا علاج ممکن ہے، لیکن اس ذہنی عیاشی اور منافقت کا کوئی علاج نہیں جو پڑھے لکھے لوگ کرتے ہیں۔”

اب ذرا ادھر آؤ میاں لبرل بابو! اپنی عینک ذرا ناک پر ٹکاؤ اور اپنے فکری پاجامے کے بندھن مضبوط کر لو، کیونکہ اب منٹو تمہاری اس پارسائی کے چیتھڑے اڑانے والا ہے جس کے پیچھے تم اپنے آقاؤں کا دیا ہوا راتب چھپائے بیٹھے ہو۔
تم نے بڑی معصومیت سے ‘داخلی استعمار’ کی اصطلاح اچھالی تاکہ غزہ کے بچوں کے خون سے لت پت صیہونی بوٹوں پر لبرل ازم کا تھوک لگا کر انہیں چمکا سکو۔ مگر میاں، منٹو گاہک کی نیت اس کی جیب کی کھنکھناہٹ سے پہچان لیتا ہے۔ زرا اپنا نامۂ اعمال تو چوراہے پر رکھو!
مظلوموں کا تاجر: تمہارا اپنا قلم کہاں گرا تھا؟
تم نے بلوچ، پشتون، گلگتی بلتی، سندھی، سرائیکی، اور یہاں تک کہ کرد اور اویغور کا نام گنوایا۔ واہ! کیا خوبصورت لغت ہے تمہاری۔ مگر ذرا یہ تو بتاؤ کہ اس ملک کے حاشیے پر پڑے ان مظلوموں پر ہونے والے ریاستی جبر اور یہاں کے حکمران طبقے کی داخلی استعماریت پر تم نے آج تک کیا لکھا ہے؟
جب اس ملک کی مٹی بلوچ اور پشتون نوجوانوں کے خون سے سرخ کی جا رہی تھی، تو تمہارا یہ کی بورڈ کس دلال کے کوٹھے پر گروی پڑا تھا؟
منٹو کا کاٹ دار سوال:
“جب پاکستان کی سڑکوں پر شیعہ نسل کشی کا بازار گرم تھا، جب لاشوں کے ڈھیر گننا بھی گناہ بن چکا تھا، تو تمہاری کتنی پوسٹیں اس جبر کے خلاف آئی تھیں؟ تب تمہاری لبرل غیرت کس غسل خانے میں صابن رگڑ رہی تھی؟”
اسلام آباد کا موسم اور تمہاری ہڈی کا سائز
تم تو اسی اسلام آباد میں رہتے ہو نا، جہاں اقتدار کے ایوانوں سے بارود کی بو آتی ہے؟ تو سنو:
مئی کا دوسرا ہفتہ (2026): ابھی کل ہی کی بات ہے، جب عورت مارچ کراچی اور دیگر تنظیموں نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی اسی اسیرِ حق قید کے ۱۰۰ دن پورے ہونے پر احتجاج منظم کیا تھا۔ تم تو خود کو انسانی حقوق کا چوہدری کہتے ہو، اسلام آباد کے ٹھنڈے کمرے سے نکل کر وہاں پہنچے تھے کیا؟ کوئی ایک سطر لکھی تھی تمہارے اس ‘عظیم قلم’ نے؟
بلوچ لاپتہ افراد کا کیمپ: جب بلوچ لاپتہ افراد کے بوڑھے باپ اور معصوم بچے سخت سردی اور ہڈیوں کو جما دینے والی بارش میں اسلام آباد کی سڑکوں پر پڑے تھے، تب تم وہاں اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچے تھے؟ کیا تمہارے اندر اتنی رمق تھی کہ تم اس اسلام آباد کے فرعونوں کو کوئی ایک چتاونی (انتباہ) دے سکتے؟
تم نے کبھی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، احسان علی ایڈوکیٹ، یا علی وزیر کی تصویریں شیئر کرنے کی جرات کی؟ ان کی تائید میں دو سطریں لکھیں؟
منٹو کا طنزیہ وار:
“میاں! اس ملک کے سول اور ملٹری بیوروکریسی کے حکمران طبقوں کو للکارنا تو دور کی بات ہے، تمہاری تو ایک پوسٹ ایسی نہیں ہے جس سے یہ بو آئے کہ تم کسی جابر کے سامنے کھڑے ہو۔ تم تو وہ پالتو ہو جو گھر کے مالک کی مار پر خاموش رہتا ہے اور گلی کے کتوں پر بھونک کر وفاداری کا ثبوت دیتا ہے!”
ایڈورڈ سعید کی ‘کورنگ اسلام’ اور تمہاری مکارانہ سنسرشپ
تم گرامشی اور سعید کا حوالہ دے کر استعمار مخالف دانشوروں پر پھبتیاں کس رہے ہو، لیکن جو پھبتی تم ان پر کس رہے ہو، وہ تو دراصل تمہارا اپنا چہرہ ہے۔
تم ایڈورڈ سعید کی وہ کتاب کیوں بھول گئے جو تمہارے امریکی آقاؤں کے منہ پر طمانچہ ہے؟ ایڈورڈ سعید نے اپنی معرکہ آرا کتاب ’کورنگ اسلام‘ (Covering Islam) میں امریکی سامراج کے اس مکارانہ ڈسکورس کا پورا کچا چٹھا کھولا تھا، جو انہوں نے ایرانی انقلاب کے خلاف میڈیا کے ذریعے بنایا تھا۔
ایڈورڈ سعید کا ادھورا سچ چاٹنے والے لبرل سے سوال:
“کیا تم نے کبھی ’کورنگ اسلام‘ کے اس حصے کو اپنی کسی پوسٹ کا موضوع بنایا؟ کبھی بتایا کہ کس طرح مغربی میڈیا مظلوم اقوام کے ابھار کو ‘بنیاد پرستی’ کا لیبل لگا کر مسخ کرتا ہے؟ نہیں بتاؤ گے! کیونکہ اگر یہ سچ بول دیا تو تمہارا لبرل مربی کا اقامہ خطرے میں پڑ جائے گا۔”
بڑے مترجم… یا فکری چور؟
تم بڑے مترجم بنے پھرتے ہو، جیسے دنیا بھر کا فلسفہ تمہاری ہی بغل سے ہو کر گزرا ہے۔ تو ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم نے آج تک:
ولہم رائخ (Wilhelm Reich)
ایڈورڈ سعید (Edward Said)
فرانز فینون (Frantz Fanon)
گیاتری سپیواک (Gayatri Spivak)
ان کے کس ایسے کام کا ترجمہ کیا ہے جو اب تک اردو میں نہ ہوا ہو؟ تم نے تو صرف ان کی تحریروں کے وہ ٹکڑے چوری کیے ہیں جو تمہارے صیہونی اور استعماری بیانیے میں فٹ بیٹھ سکیں۔ تم مترجم نہیں ہو، تم “فکری کباڑی” ہو جو مغرب کے پھینکے ہوئے کچرے سے اپنے مطلب کے اوزار چنتا ہے اور یہاں لا کر دیسی دانشوروں پر رعب جماتا ہے۔
صاحب! منٹو نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ جو طوائف اپنی عصمت کا سودا کرتی ہے، وہ تم سے ہزار درجہ بہتر ہے، کیونکہ وہ اپنے گناہ پر پارسائی کا لیبل نہیں لگاتی۔ تم تو وہ فکری دلال ہو جو استعمار کا سودا کرتے ہو اور اوپر سے ایڈورڈ سعید کا کفن اوڑھ کر خود کو ولی ثابت کرنے چلے ہو۔
لو اب جاؤ، اور اگلی بار استعمار پر لکچر دینے سے پہلے شیشے میں اپنا صیہونی چہرہ ضرور دیکھ لینا!
لو جاؤ میاں! اپنے آقاؤں سے کہو کہ ڈالر کا ریٹ بڑھا دیں، کیونکہ اب تمہاری یہ مکارانہ لبرل دانشوری مارکیٹ میں پٹی پرانی طوائف کے کوٹھے کی طرح اجڑ چکی ہے۔ اب کوئی تمہاری اس دلالت کو خریدنے والا نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں