ایڈورڈ سعید ، دایاں بازو، سیکولر تنقید /ناصر عباس نیّر

دوتین روز سے ، ایڈورڈ سعید نہیں، ان پر ،یا ان کے تعلق سے، اردو میں لکھنے والے زیر بحث ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے، سوشل میڈیا پر لکھنےو الوں کی اکثریت نے کتابیں پڑھنا بند کردی ہیں۔

جوکچھ سوشل میڈیا پر لکھا جاتا ہے یا انٹر نیٹ پر دستیاب ہے، اسی کو پڑھا جاتا ہے۔پڑھا بھی سرسری جاتا ہے، سمجھا کم کم جاتا ہے ،اور عجلت میں پوسٹیں لکھ دی جاتی ہیں ، جن میں الزامات ہوتے ہیں۔

ایڈورڈ سعید پر اردو میں کافی سنجیدہ تحریریں لکھی گئی ہیں۔ ا ن میں سعید کی تحریروں کا گہرا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ان کی تحریروں کو ہر زاویے سے دیکھا گیا ہے،اور ان پر سوالا ت بھی قائم کیے گئے ہیں۔ نیز سعید کو ،ان کے اپنے سیاق میں سمجھا گیا ہے۔

ایڈورڈ سعید پر اپنے ایک پرانے مضمون سے ایک اقتباس، شیئر کررہا ہوں ،جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ سعید جب مسلمانوں کا دفاع کرتا ہے تو کس بنیاد پر؟

_________________________________________________
ہمارے یہاں ایڈورڈ سعید کو دائیں بازو کے لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وجہ سادہ ہے۔وہ مغرب کی اس استعماری اور متعصبانہ روش کا کٹر نقاد ہے ،جسے اسلام کے سلسلے میں روا رکھا گیا ہے۔

وہ انگریزی وفرانسیسی آرکائیوز اور معاصر امریکی تاریخ کے مطالعے سے مغرب کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے،اور اس کے خلاف علمی اخلاقیات کی بنیاد پر ایک تفصیلی استغاثہ دائر کرتا ہے ۔

یہ بات سعید کو ان سب لوگوں کا ممدوح بناتی ہے جو مذہب کو اپنی اوّلین وحتمی شناخت سمجھتے ہیں۔ انھیں سعیدمغرب میں اپنانمائندہ نظر آتا ہے۔

نائن الیون کے بعد جب سعید نے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کی مغربی رٹ پر صاد نہیں کیا تو اسے یہودی میڈیا نے دہشت کا پروفیسر (Professor of Terror) قرار دیا ۔اس سے پہلے اسے نازی بھی قرار دیا گیا،ناراض عرب فلسطینی کہا گیااور اس کے یونیورسٹی کے دفتر کو جلادیا گیا تھا۔

وہ ایک ایسا دانش ور تھا ،جس نے جمہوری ،سیکولر مغرب کے غصے کا باقاعدہ سامنا کیا۔اہم بات یہ ہے کہ وہ خود اسی جمہوری ،سیکولر مغربی روایت کا پرودردہ ہے اور اسی کو اپنی ڈھال بناتا ہے۔

سعید نے اسلام کا دفاع مذہبی بنیاد پر نہیں، ’جمہوری سیکولر بنیاد‘ پر کیا ہے۔ اس نے ۲۰۰۰ء میں کولمبیا یونیورسٹی میں ہیومنزم پر لیکچر دیے، جو اس کے ا نتقال کے بعد Humanism and Democratic Criticismکے عنوان سے شائع ہوئے۔

ان میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ وہ گزشتہ چالیس بر س سے ایک ہیومنسٹ ،استاد، نقاد کے طور پر کام کررہا ہے۔ اگرچہ وہ امریکی ہیومنزم کو یورپی ہیومنزم سے الگ کرتا ہے ، اسے فرانسیسی ساختیات وپس ساختیات کے ’اینٹی ہیومنسٹ ‘ پہلوؤں سے جد ا کرتا ہے ،( حالاں کہ سعید ان اوّلین لوگوں میں شامل ہے جنھوں نے امریکی جامعات میں فرانسیسی نظریات متعارف کروائے)،

نیز وہ ہیومنزم کی غیر مغربی روایت کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے ،مگر وہ قطعیت کے ساتھ کہتا ہے کہ ’’میری رائے میں ،ہیومنزم کی اصل (core) یہ سیکولر تصور ہے کہ تاریخی دنیا مردوں اور عورتوں کی بنائی ہوئی ہے، خدا کی نہیں اور یہ کہ اسے عقلی طور پر ہی سمجھا جاسکتا ہے،ان اصولوں کے تحت جنھیں ویکو نے New Scienceمیں پیش کیا ہے،

نیز یہ کہ ہم حقیقی طور پر صرف اسی کو سمجھ سکتے ہیں جسے خود ہم نے بنایا ہو، یا دوسرے لفظوں میں ہم چیزوں کو انھی طریقوں سے سمجھ سکتے ہیں ، جن طریقوں سے وہ بنائی گئی ہیں‘‘۔

اسی کتاب میں وہ ایک بار پھر جارج لوکاش کی یہ رائے بھی دہراتا ہے کہ ہم ایک شکستہ دنیا کے باسی ہیں ، جسے خدا نے ترک کردیا ہے مگر اس کے ’ شرارتی معاونین‘ (acolytes) نے نہیں۔

سعید نے ۱۹۸۴ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب The World, Text and the Critic کا ابتدائیہ سیکو لر تنقید کے عنوان سے اور اختتامیہ مذہبی تنقید کے عنوان سے لکھا ہے۔

وہ قطعیت کے ساتھ سیکولر تنقید کے حق میں ہے۔ اختتامیے میں اس نے مذہب کے تعلق سے چند باتیں لکھی ہیں۔

انھیں پڑھے بغیر ، سعید کے اسلام کی دفاع کی نوعیت کو نہیں سمجھا جاسکتا۔

وہ لکھتا ہے :’’ کلچر کی مانند مذہب ہمیں اتھارٹی کا نظام اور نظم وضبط کے معیارات فراہم کرتا ہے،جس کا باقاعدہ اثر اطاعت پر مجبور کرناہے یا اپنے مقلدین پیدا کرنا ہے۔نتیجے میں ایسے منظم اجتماعی جذبات پیدا ہوتے ہیں جن کے سماجی اور دانش ورانہ اثرات تباہ کن ہوتے ہیں‘‘۔

سعید تسلیم کرتا ہے کہ مذہب کے پیدا کردہ اجتماعی جذبات کبھی مفید بھی ہوسکتے ہیں، مگر ان کے نتیجے میں تاریخ کااحساس،تاریخ کے انسانی پیداوار ہونے کا شعور اور اس صحت مند تشکیک کا خاتمہ ہوجاتا ہے جس کا رخ مقتدر باطل معبودوں کی طرف ہوتا ہے ،جنھیں کلچر اور نظام مقدس بنا کر پیش کرتے ہیں۔

وہ ایک بار پھر ویکو کا حوالہ لاتا ہے،اور انسانوں کی وضع کی ہوئی دنیا اور خداؤں سے عبارت دنیا میں فرق کرتا ہے۔ خداؤں کی مقدس دنیا کو انسانی عقل نہیں سمجھ سکتی ،کیوں کہ ’’جاننا بناناہے‘‘(Knowing is making)۔ آ پ اسی کو سمجھ سکتے ہیں، جسے آ پ نے بنایاہو۔

گویا جس سماجی دنیا کے بارے میں یہ یقین ہو کہ اسے انسانوں نے نہیں بنایا، وہ انسانی ذہن کے لیے ناقابل ِ فہم ہوگی۔ لیکن کیا واقعی ؟ سائنس ، فطرت کے قوانین کا علم حاصل کرلیتی ہے، حالاں کہ اسے سائنس نے پیدا نہیں کیا۔

سعید معاصر تنقید کی اس روش پر سخت تنقید کرتا ہے جو سری، مذہبی اصطلاحات وتلازمات کی حامل ہے۔ یہ تنقید ،دنیا کو قابل فہم انداز میں پیش نہیں کرتی۔ سعید نے اپنی کتاب Representations of Intellectualsمیں بھی اس سوال پر اظہار خیال کیا ہے۔

وہ مقدس دنیا اور الوہی صداقت رکھنے والوں کے اظہار رائے کی آزادی تسلیم کرتا ہے ، مگر وہ رائے ظاہر کرنے اور رائے مسلط کرنے میں فرق کرتا ہے۔ وہ ہر اس مرد وعورت اور اس مقتدر ہستی پر تنقید کرتا ہے جو اظہار پر تسلط اور اجارے کو فوقیت دیتی ہے۔

سعید نے مغربی بالخصوص ذرائع ابلاغ میں اسلام کی ترجمانی پر اس لیے تنقید کی کہ وہ اسلام کو بہ ظاہر’’ایک سادہ چیز سمجھتے ہیں مگر حقیقت میں وہ کچھ فکشن ہے، کچھ آئیڈیالوجیائی لیبل ہے اور کچھ مہین سا اسم ہے ،جسے مذہب اسلام کہتے ہیں۔

‘‘ اس ’’اسلام ‘‘ کا حقیقی مسلم دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ’’اسلام ‘‘ اسی طرح کی ایک تشکیل ہے، جس کی تاریخ انیسویں صدی کے مستشرقین کے یہاں ملتی ہے۔ یعنی اپنے مفاد کے لیے کوئی تصور ایجاد کرنا ، اور پھیلا نا۔ سعید اسے خود مغرب کے عوام پر ان کے حکمرانوں کی اجارہ داری کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں