بی اماں ہماری دور پرے کی رشتہ دار تھیں۔ ابا سے ان کا کیا رشتہ تھا نہ کبھی ابا نے بتایا نہ ہم نے پوچھا۔ بچپن سے اپنے گھر میں دیکھا ان کو کبھی اچار ڈالتے، کبھی لحاف سیتے، کبھی یہاں تو کبھی وہاں۔ اللہ جانے وہ تھکتی نہیں تھیں یا کیا تھا، بس کبھی ان کو فارغ نہ دیکھا۔
جاتی سردیوں کے دن تھے، میں نے پہلی دفعہ اماں بی کو خاموش اور فارغ بیٹھے دیکھا۔ جانے کیا ہوا تھا ایسا کہ آج برسوں بعد ان کو ایسے دیکھا، پر میں پوچھنے کی ہمت نہ کر سکی۔ بس پاس جا کے خاموشی سے ان کا سر دبانے لگی۔ آج تو واقعی الگ ہوا تھا کہ اماں بی نے میرے ہاتھ سر سے ہٹا کر اپنی آنکھوں پہ رکھ لیے اور سرد آہ بھر کے کہنے لگیں: بٹیا، کیا ہوتا کہ یہ روایات مرنے والوں کے ساتھ ہی دفنا دی جاتیں۔ کیا تھا کہ زندہ رہنے والوں کی زندگی مرے ہوئے لوگوں کی زبان کا پاس رکھتے نہ مُردوں سے بدتر ہوتی۔
بہت بچپن میں ہی ہمارا نام مہتاب کے نام کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ جوں جوں عمر بڑھتی گئی، تعلق گہرا ہوتا گیا کہ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ روایات کی پاسداری میں اور زبان کی لاج میں مثالی گھرانوں میں بھی بغاوت ہو سکتی ہے۔ مہتاب گھر کا بیٹا تھا، سو اعلیٰ تعلیم پہ اس کا حق تھا۔ تعلیم کی غرض سے انگلینڈ چلے گئے۔ میں بیٹی تھی، میرے لیے تعلیم سے زیادہ گھرداری کے معاملات سمجھے گئے اور ہم نے بھی جی جان لگا کر سب سیکھا۔ مرد تو باہر کا جی ہے، کمانا اس کا کام ہے، مگر گھر میں راحت تو سگھڑ عورت کے دم سے ہی ہوتی ہے۔ مگر کیا کہیں کہ معاملہ اپنے نصیب کا تھا، سو مہتاب کی نگاہوں میں نہ جچے کہ فی زمانہ سگھڑاپے سے زیادہ پڑھی لکھی عورت قابل قبول تھی، سو مسترد کر دیے گئے۔
ہماری روایات نہ تھیں کہ ایک مرد کے نام پہ زندگی کے کئی سال گزارنے والی عورت کسی دوسرے مرد کے نکاح میں دی جاتی۔ تمھارے ابا ہماری اماں کے سب سے چھوٹے چچا کے پوتے تھے۔ اللہ نے ہمارے لیے وسیلہ بنا دیے کہ اماں ابا کے بعد بھابھیوں کو ہمارا وجود گوارا نہ تھا اور تمھاری اماں کو بھی اللہ اولاد کی خوشی نصیب کرے کہ ہمیشہ بڑی بہن سا مان دیا۔
کل شب سے ہی من کچھ بےکل سا تھا کہ جیسے کچھ ہونے کو ہو۔ صبح محمود میاں بتا کے گئے تھے کہ کل شب مہتاب گزر گئے۔ ہم ان کے نکاح میں ہوتے تو ہمارا سوگ قابل قبول تھا، پر جہاں نکاح دلوں، سوچوں کے بیچ ہوا ہو کہ مہتاب نہیں تو کوئی نہیں، وہاں ہم کس حیثیت سے سوگ مناتے۔ ہم تو نہ ہوتے بھی مہتاب کی امانت رہے کہ ہماری روایات نہ تھیں کہ ایک سے منسوب رہنے کے بعد کسی اور کے نکاح میں جاتے۔ تمہی بتاؤ بٹیا، تم تو بہت پڑھی لکھی ہو، مہتاب کے گزر جانے کے بعد ہم بیوہ ہوئے ہیں یا آزاد۔۔۔؟


