کبھی کسی پارک، کسی گلی، کسی صحن یا کسی مشترکہ خاندانی تقریب میں چند لمحے خاموشی سے بیٹھ کر بچوں کو دیکھیے۔ بظاہر سب کچھ ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا برسوں پہلے تھا۔ جھولے اب بھی ہوا سے باتیں کرتے ہیں، درخت اب بھی سایہ دیتے ہیں، رنگ برنگے کھلونے بازاروں میں پہلے سے کہیں زیادہ دستیاب ہیں، مگر ایک چیز ہے جو آہستہ آہستہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو چکی ہے، اور وہ ہے۔۔۔بچپن۔ وہ بچپن جو مٹی سے دوستی کرتا تھا، تتلیوں کے پیچھے بھاگتا تھا، بارش میں بھیگ کر خوشی سے قہقہے لگاتا تھا، ماں کی لوری سن کر سو جاتا تھا اور دادا دادی کی کہانیوں میں اپنی ایک نئی دنیا آباد کر لیتا تھا۔ آج وہی بچپن چند انچ کی ایک چمکتی ہوئی موبائل اسکرین میں قید ہو چکا ہے۔ ننھے ہاتھوں میں گیند کی جگہ موبائل ہے، آنکھوں میں خوابوں کی جگہ نیلی روشنی کی چمک ہے، لبوں پر شرارت بھری مسکراہٹ کے بجائے ایک پراسرار خاموشی ہے اور معصوم ذہن حقیقی دنیا کے رنگوں کے بجائے مصنوعی تصویروں میں گم ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے بچوں کو پوری دنیا دکھانے کے لیے ایک چھوٹی سی اسکرین تو تھما دی، مگر اس کے بدلے ان سے دنیا کو محسوس کرنے، چھونے، سننے، سمجھنے اور جینے کی صلاحیت چھین لی۔ شاید ہماری تہذیب کے ماتھے پر اس سے بڑا کوئی سوالیہ نشان نہیں کہ ترقی کے سفر میں ہم نے اپنے بچوں کے بچپن کو ہی قربان کر دیا اور ترقی کے نام پر بچپن کو ڈیجیٹل قید میں دھکیل دیا ہے۔
ہر دور اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی آزمائش لے کر آتا ہے۔ کبھی بیماریوں نے انسان کو ڈرایا، کبھی جنگوں نے، کبھی غربت نے، مگر موجودہ دور کی سب سے خاموش اور خطرناک وبا وہ ہے جس کی آواز نہیں آتی۔ وہ نہ بخار بن کر ظاہر ہوتی ہے، نہ درد بن کر۔ وہ آہستہ آہستہ بچے کی شخصیت، زبان، احساس اور تعلقات کو کھا جاتی ہے۔ ماہرین اسے “ورچول اٹزم” کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک طبی اصطلاح نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا آئینہ ہے۔انسان کی شخصیت کتابوں سے کم اور تعلقات سے زیادہ بنتی ہے۔ ایک بچہ جب ماں کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتا ہے، باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتا ہے، بہن بھائیوں سے لڑتا اور پھر مان جاتا ہے، تب اس کے اندر زبان بھی جنم لیتی ہے اور احساس بھی۔ مگر جب یہی بچہ اپنی ابتدائی زندگی کا بڑا حصہ موبائل، ٹیبلٹ اور ٹی وی کے سامنے گزارنے لگے تو وہ چہروں کے بجائے تصویروں، آوازوں کے بجائے مصنوعی ساؤنڈ ایفیکٹس اور رشتوں کے بجائے الگورتھمز سے تعلق قائم کرنا شروع کر دیتا ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو بولنے میں تاخیر کا شکار ہیں، دوسروں سے نظریں نہیں ملاتے، اپنے نام پر ردعمل نہیں دیتے اور سماجی میل جول سے گریز کرتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ عام اٹزم کے برعکس ورچول اٹزم اکثر صورتوں میں وقتی کیفیت ہوتی ہے، بشرطیکہ وقت پر اس کی وجہ کو پہچان لیا جائے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ بیماری بچے میں پیدا ہوئی یا ہماری ترجیحات میں؟ہم ایک عجیب تضاد کے دور میں زندہ ہیں۔ والدین بچوں کو مہنگے سے مہنگا موبائل خرید کر دیتے ہیں مگر روزانہ آدھا گھنٹہ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا وقت نہیں نکال پاتے۔ گھر بڑے ہو گئے ہیں، کمروں کی تعداد بڑھ گئی ہے، مگر خاندان ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ پہلے ماں بچے کو لوری سناتی تھی، اب یوٹیوب سناتا ہے۔ پہلے دادا کہانیاں سناتے تھے، اب کارٹون کردار بچوں کی شخصیت تراش رہے ہیں۔ پہلے بچے صحن میں گر کر اٹھنا سیکھتے تھے، اب وہ صرف اسکرین پر جیتنا اور ہارنا سیکھ رہے ہیں۔
یہاں ایک لمحے کے لیے خود سے سوال کیجیے۔ اگر ایک دو سالہ بچہ اپنے والد کی آواز سے زیادہ موبائل کی نوٹیفکیشن پر خوش ہو جائے تو قصور کس کا ہے؟ اگر بچہ ماں کی مسکراہٹ سے زیادہ کارٹون کے رنگوں میں دلچسپی لینے لگے تو کیا واقعی مسئلہ صرف بچے کا ہے؟ یا ہم نے سہولت کے نام پر والدین ہونے کی ذمہ داری بھی ایک اسکرین کے حوالے کر دی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ موبائل نے صرف وقت نہیں چرایا، اس نے توجہ بھی چرا لی ہے اور جب توجہ چلی جائے تو تعلقات مرنے لگتے ہیں۔ انسان صرف روٹی سے زندہ نہیں رہتا، اسے محبت، لمس، گفتگو اور توجہ بھی درکار ہوتی ہے۔ ایک ننھا بچہ جب اپنی بات کہنے کی کوشش کرتا ہے اور جواب میں اسے موبائل پکڑا دیا جاتا ہے تو دراصل اس کے الفاظ کی نہیں، اس کی شخصیت کی نفی کی جا رہی ہوتی ہے۔ابتدائی پانچ برس دماغی نشوونما کے لیے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب بچہ چہروں کے تاثرات پڑھنا، لہجوں کا فرق سمجھنا، محبت اور ناراضی محسوس کرنا اور زبان سیکھنا شروع کرتا ہے۔ مگر اسکرین ایک بے جان دنیا ہے۔ وہ جواب تو دیتی ہے، مگر تعلق نہیں بناتی۔ وہ تصویر تو دکھاتی ہے، مگر احساس منتقل نہیں کرتی۔ وہ آواز تو پیدا کرتی ہے، مگر مکالمہ نہیں کرتی۔
آج کی ستم ظریفی یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو مصروف رکھنے پر فخر کرتے ہیں، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ مصروف ہیں یا محبوس۔ خاموش بچہ اب فرمانبردار سمجھا جاتا ہے، حالانکہ کبھی کبھی اس کی خاموشی اس کے اندر ٹوٹتے ہوئے رابطوں کی خبر ہوتی ہے۔ ہر وہ بچہ جو گھنٹوں موبائل کے سامنے خاموش بیٹھا رہتا ہے، ضروری نہیں کہ مطمئن ہو۔۔۔ممکن ہے وہ اپنی فطری دنیا سے کٹتا جا رہا ہو۔ہم نے سہولت کو تربیت کا متبادل بنا لیا ہے۔ بازاروں میں بچوں کے لیے کھلونے کم اور گیجٹس زیادہ فروخت ہو رہے ہیں۔ سالگرہ کے تحفوں میں کتابوں کی جگہ ٹیبلٹس نے لے لی ہے۔ گھر میں گفتگو کم اور وائی فائی کا پاس ورڈ زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ کیا یہ ترقی ہے یا انسانی تعلقات کی خاموش شکست؟یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ بچے وہ نہیں بنتے جو ہم انہیں کہتے ہیں، بلکہ وہ بنتے ہیں جو ہمیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود کھانے کی میز پر بھی موبائل میں گم ہوں، اگر ہر فارغ لمحہ اسکرین کی نذر ہو تو بچہ آخر کس سے سیکھے کہ انسان کی سب سے خوبصورت ایجاد گفتگو ہے؟کیا ہم ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت سے تو بات کر لے گی مگر اپنے والدین سے نہیں؟ جو ہزاروں ایموجیز سمجھتی ہوگی مگر ایک آنسو کا مطلب نہیں جانتی ہوگی؟ جو پوری دنیا سے آن لائن جڑی ہوگی مگر اپنے ہی گھر میں تنہا ہوگی؟
اس بیماری کی علامات ہمیں خبردار کرتی ہیں۔ بچہ نظریں نہ ملائے، نام پکارنے پر جواب نہ دے، بولنے میں تاخیر کرے، دوسروں کے ساتھ کھیلنے میں دلچسپی نہ لے، ضد اور چڑچڑے پن کا شکار ہو جائے، صرف موبائل یا کارٹون کی دنیا میں مگن رہے، تو یہ محض عادت نہیں، ایک سنجیدہ اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں والدین کو انکار کے حصار سے نکلنا ہوگا۔ مسئلہ چھپانے سے نہیں، سمجھنے سے حل ہوتا ہے۔خوش قسمتی سے ورچول اٹزم اکثر صورتوں میں قابلِ علاج ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ والدین بروقت جاگ جائیں۔ بچے کو اسکرین سے دور کریں، اس کے ساتھ کھیلیں، اس سے بات کریں، کہانیاں سنائیں، پارک لے جائیں، مٹی سے کھیلنے دیں، رنگ بھرنے دیں، سائیکل چلانے دیں، دوست بنانے دیں۔ اگر علامات برقرار رہیں تو ماہرِ اطفال یا بچوں کے ماہرِ نفسیات سے فوری رجوع کریں۔ علاج صرف دواؤں سے نہیں، تعلقات سے بھی ہوتا ہے۔
ٹیکنالوجی دشمن نہیں ہے۔ دشمن اس کا بے قابو استعمال ہے۔ موبائل ایک بہترین ایجاد ہے، مگر جب ایجاد انسان کو استعمال کرنے لگے تو خطرے کی گھنٹی بج جاتی ہے۔ مسئلہ اسکرین نہیں، اسکرین کا غلبہ ہے۔ توازن ہی ہر تہذیب کی بقا کا راز رہا ہے۔آج ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اسکول، میڈیا اور ریاست مل کر والدین میں شعور پیدا کریں۔ بچوں کے لیےموبائل اسکرین ٹائم کے واضح اصول ہوں، گھروں میں “ڈیجیٹل فری آور” جیسی روایات قائم ہوں، کھانے کی میز پر موبائل بند ہوں اور والدین یہ سمجھیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ آج بھی ماں کی گود اور باپ کی صحبت ہے، کوئی ایپ نہیں۔
آنے والے برسوں میں ہمارے بچے بہترین پروگرامر، کامیاب انجینئر، ذہین سائنس دان اور جدید ٹیکنالوجی کے ماہر تو بن جائیں، مگر انہیں کسی کی آنکھوں میں محبت پڑھنا نہ آئے، کسی کے درد پر رکنا نہ آئے، کسی بوڑھے ہاتھ کو تھامنا نہ آئے، تو کیا ہم واقعی کامیاب نسل تیار کر پائیں گے؟یاد رکھیے، قومیں صرف جدید مشینوں سے ترقی نہیں کرتیں، زندہ دل انسانوں سے ترقی کرتی ہیں۔ بچپن اگرموبائل اسکرین میں قید ہو گیا تو کل صرف بچے ہی خاموش نہیں ہوں گے، پورا معاشرہ بولنے کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت کھو دے گا۔ شاید آنے والے وقت کی سب سے خوفناک تصویر یہی ہوگی کہ گھروں میں سب موجود ہوں گے، ہر ہاتھ میں ایک موبائل اسکرین ہوگی، ہر چہرہ روشن ہوگا۔۔۔ مگر ہر دل اندھیرے میں ہوگا۔


