سب سے زیادہ خوفناک تنہائی وہ نہیں ہوتی جس میں انسان کسی ویران جزیرے پر اکیلا کھڑا ہو، بلکہ وہ ہوتی ہے جب وہ چار دیواری کے اندر لوگوں کے ہجوم میں بیٹھا ہو اور پھر بھی اسے اپنی آواز واپس آتی محسوس ہو۔ ایک ہی چھت کے نیچے کئی چہرے، کئی آوازیں، کئی مصروفیات اور کئی خواب موجود ہوں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے اتنے بڑھ جائیں کہ ایک دوسرے کی دھڑکن سنائی نہ دے۔ یہ ہمارے عہد کا عجیب المیہ ہے کہ ہم نے گھر تو بڑے بنا لیے، مگر ان گھروں میں رہنے والے دل چھوٹے ہوتے گئے۔ دیواریں اونچی ہوئیں، کمرے کشادہ ہوئے، سہولتیں بڑھیں، مگر محبت، گفتگو اور احساس کی جگہیں سکڑتی چلی گئیں۔
آج کا گھر بظاہر آباد دکھائی دیتا ہے۔ ڈرائنگ روم میں قیمتی فرنیچر، کچن میں جدید آلات، کمروں میں مہنگے موبائل فون اور ہاتھوں میں دنیا بھر کی معلومات موجود ہیں، مگر ایک سوال مسلسل دروازہ کھٹکھٹاتا ہے کہ کیا یہ گھر واقعی آباد بھی ہیں؟ کیا گھر صرف اینٹوں، سیمنٹ اور آسائشوں کا نام ہے یا ان لمحوں کا نام ہے جہاں انسان کو سنا جائے، سمجھا جائے اور محسوس کیا جائے؟ اگر ایک ماں اپنے بچے کے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ محسوس کرے کہ وہ اپنے ہی بیٹے کی دنیا سے ناواقف ہے، اگر ایک باپ اپنے گھر کے افراد سے بات کرنے کے لیے بھی پیغام رسانی کی ضرورت محسوس کرے، تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے ترقی کی ہے یا صرف فاصلے بڑھائے ہیں۔
پرانے وقتوں میں گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں ہوتے تھے بلکہ جذبات کی پناہ گاہیں ہوا کرتے تھے۔ شام کے وقت صحن میں چارپائیاں بچھتی تھیں، چائے کے کپ کے ساتھ قصے جنم لیتے تھے، بزرگوں کی باتیں نئی نسل کے لیے تجربے کا خزانہ ہوتی تھیں اور کھانے کی میز صرف کھانا کھانے کی جگہ نہیں بلکہ دِلوں کو جوڑنے کا بہانہ ہوتی تھی۔ ایک روٹی کے ساتھ کئی رشتے جڑتے تھے۔ ایک قہقہے کے ساتھ کئی تھکنیں اتر جاتی تھیں۔ مگر آج وہی کھانے کی میز خاموش ہے۔ سب کے سامنے پلیٹیں رکھی ہیں، مگر نظریں موبائل اسکرین پر جمی ہیں۔ ایک ہی میز پر بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے نہیں بلکہ دنیا کے ان لوگوں سے بات کر رہے ہوتے ہیں جنہیں شاید وہ کبھی جانتے بھی نہیں۔
یہ کیسا دور ہے کہ انسان ہزاروں لوگوں سے آن لائن جڑا ہوا ہے مگر اپنے گھر میں موجود ایک شخص کے دکھ سے بے خبر ہے؟ سوشل میڈیا نے ہمیں دنیا کے قریب کر دیا، مگر کبھی کبھی اپنوں سے دور بھی کر دیا۔ ہم نے اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات کی تصویریں تو محفوظ کر لیں، مگر ان لمحات کی اصل خوشبو کھو دی۔ ہم نے لائکس حاصل کرنے کی دوڑ میں “توجہ” دینا بھلا دیا۔ ہم نے پیغام بھیجنے کی رفتار تو بڑھا لی، مگر دل کی بات سننے کا وقت کم کر دیا۔نئی نسل کی سب سے بڑی شکایت شاید یہی ہے کہ اسے کوئی سنتا نہیں۔ نوجوانوں کے پاس باتیں بہت ہیں، سوال بہت ہیں، خوف بہت ہیں، خواب بہت ہیں، مگر سننے والے کم ہیں۔ والدین اپنی جگہ مصروف ہیں، بچے اپنی دنیا میں گم ہیں اور درمیان میں ایک خاموش دیوار کھڑی ہو گئی ہے۔ یہ وہ دیوار ہے جو اینٹوں سے نہیں بنتی بلکہ مصروفیات، غلط فہمیوں اور جذباتی فاصلے سے تعمیر ہوتی ہے۔
ہم نے بچوں کو ہر سہولت دینے کی کوشش کی۔ بہترین اسکول، مہنگے کھلونے، جدید موبائل فون، آرام دہ زندگی اور مستقبل کی منصوبہ بندی، مگر شاید ہم انہیں وہ چیز نہ دے سکے جس کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔۔۔ ہمارا وقت۔ بچے ہمیشہ چیزوں کے بھوکے نہیں ہوتے، وہ توجہ کے بھوکے ہوتے ہیں۔ انہیں نئے کپڑوں سے زیادہ والدین کی شفقت چاہیے ہوتی ہے، مہنگے کھلونوں سے زیادہ کسی کے ساتھ بیٹھ کر ہنسنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بچہ جسے والدین کی موجودگی تو مل جائے مگر ان کی توجہ نہ ملے، وہ بظاہر خوش دکھائی دے سکتا ہے لیکن اندر کہیں ایک خاموش خلا لے کر بڑا ہوتا ہے۔یہی خلا آگے چل کر نوجوانوں کی بے چینی، غصے اور تنہائی میں تبدیل ہوتا ہے۔ آج بہت سے نوجوان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں۔ ان کے پاس دوستوں کی فہرست طویل ہے مگر ایک ایسا کندھا کم ہے جس پر سر رکھ کر وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکیں۔ وہ بولنا چاہتے ہیں مگر انہیں ڈر ہوتا ہے کہ شاید کوئی سمجھے گا نہیں۔ وہ اپنی تکلیف بیان کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں خوف ہوتا ہے کہ انہیں کمزور سمجھا جائے گا۔
انسان کی سب سے بنیادی ضرورت صرف زندہ رہنا نہیں بلکہ کسی کے لیے اہم ہونا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ کوئی اس کے انتظار میں ہو، کوئی اس کی خاموشی کو سمجھے، کوئی اس کے چہرے کے پیچھے چھپے دکھ کو پڑھ سکے۔ مگر جدید زندگی نے ہمیں ایک عجیب دوڑ میں شامل کر دیا ہے جہاں ہر شخص کامیابی کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور راستے میں اپنے رشتے کہیں پیچھے چھوڑتا جا رہا ہے۔آج بوڑھے والدین بھی ایک عجیب تنہائی کا شکار ہیں۔ وہی والدین جنہوں نے اپنی جوانی اولاد کے مستقبل پر قربان کر دی، بڑھاپے میں اکثر وقت کے چند لمحوں کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس گھر ہوتا ہے، اولاد ہوتی ہے، مگر گفتگو کا ساتھی نہیں ہوتا۔ ان کے پاس یادیں ہوتی ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ شکایت بھی نہیں کرتے کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں ان کی محبت بوجھ نہ سمجھی جائے۔
خاندانی نظام کا حسن صرف اس بات میں نہیں تھا کہ لوگ ایک ساتھ رہتے تھے بلکہ اس میں تھا کہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ آج خاندان موجود ہیں مگر خاندانی پن کمزور ہو رہا ہے۔ رشتے ناموں میں باقی ہیں، جذبات میں کم ہوتے جا رہے ہیں۔ بھائی بھائی سے، والدین اولاد سے، میاں بیوی ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ سب اپنے ہیں مگر کبھی کبھی کوئی اپنا محسوس نہیں ہوتا۔یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ رشتوں کا زوال اچانک نہیں ہوتا۔ رشتوں کا جنازہ شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں نکلتا ہے۔ جب بات چیت ختم ہوتی ہے، جب ایک دوسرے کے دن کا حال پوچھنا غیر ضروری لگنے لگتا ہے، جب ایک دوسرے کے آنسو پونچھنے اور مسکراہٹوں میں شریک ہونے کا جذبہ ماند پڑ جائے تو رشتوں کی بنیادیں خاموشی سے کمزور ہونے لگتی ہیں۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو کس قسم کا مستقبل دے رہے ہیں؟ کیا صرف کامیاب انسان یا خوش انسان؟وقت ہمیں ایک عجیب سبق دے رہا ہے۔ آج انسان کے پاس سب کچھ ہے، مگر سکون کم ہے۔ رابطے بہت ہیں، مگر تعلقات کم ہیں۔ گھر آباد ہیں، مگر دل ویران ہیں۔ شاید ہمیں دوبارہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طرف لوٹنا ہوگا جو کبھی زندگی کو خوبصورت بناتی تھیں۔۔۔ ایک ساتھ بیٹھنا، ایک دوسرے کو سننا، بغیر کسی مقصد کے بات کرنا، کسی کے چہرے سے اس کا حال پڑھ لینا۔کیونکہ گھر صرف وہ جگہ نہیں جہاں لوگ رہتے ہیں، گھر وہ احساس ہے جہاں انسان خود کو محفوظ محسوس کرے۔ اگر ایک شخص اپنے ہی گھر میں اجنبی بن جائے تو اس سے بڑی محرومی اور کیا ہوگی؟ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ آنے والی نسلوں کو صرف بڑے گھر نہیں چاہئیں، انہیں ایسے گھر چاہئیں جہاں دل آباد ہوں۔ورنہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ہمارے پاس دنیا سے رابطے کے ہزاروں راستے ہوں گے، مگر اپنے ہی گھر تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا اور تب شاید ہم سمجھیں گے کہ سب سے خطرناک تنہائی کمرے میں نہیں۔۔۔ رشتوں کے درمیان پیدا ہوتی ہے۔


