امریکی معاشرہ دیگر مغربی ممالک کے مقابلہ میں کہیں زیادہ مذہبی ہے۔ امریکا کے اندر جنوبی ریاستوں میں اکثریت مذہب کو اپنی زندگی کا اہم ترین جزو قرار دیتی ہے؛ ویکی پیڈیا سے اٹھائے گئے اس جدول/table میں الاباما میں 77فیصد ، مسی سپی میں 74فیصد ، لوزیانا اور ٹینیسی میں 71فیصد اور آرکنساس میں 70فیصد لوگ مذہب کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ یہ ریاستیں مل کر ایک مخصوص جغرافیائی اور ثقافتی وحدت تشکیل دیتی ہیں جسے امریکی اصطلاح میں بائبل بیلٹ Bible Belt کہا جاتا ہے۔
اسی جدول سے معلوم ہوتا ہے کہ انہی ریاستوں میں Evangelical Protestants کی بڑی تعداد آباد ہے یعنی پورے امریکا کا نصف یہیں ہے۔ ٹینیسی میں 53% ایونجیلکل پروٹسٹنس ہیں، الاباما اور کینٹکی میں بھِی اینونجلکل مسیحی آبادی کا 49% ہیں۔اوکلاہاما میں یہ تناسب % 47 ہے۔ آرکنساس میں 46%، مسیسپی میں 41% جبکہ جارجیا میں 38%۔ مشرقی سمت میں جائیں تو دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں یہ تعداد محض 8% رہ جاتی ہے۔
اس کو دیکھ کر میرے ذہن میں مختلف باتیں یکجا ہو رہی ہیں جیسا کہ امریکی سیاست میں اٹھارویں صدی سے بیسویں صدی کے وسط تک ‘مین لائن پروٹسٹنٹ’ کا غلبہ رہا جبکہ اینوجلیکل طبقہ سیاست سے دور رہا، مگر ۱۹7۰ء کی دہائی میں جب امریکی معاشرے اور مین لائن چرچز میں اسقاط حمل، فیمینزم اور ہم جنس پرستی جیسے معاملات پر لبرل رجحانات نے زور پکڑا، ۱۹۷۳ میں امریکی سپریم کورٹ کا معروف فیصلہ Roe v. Wade آیا تو ایوینجلیکل پروٹسٹنٹس نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے ‘مورل میجورٹی’ Moral Majority جیسی تنظیموں کے پلیٹ فارم سے امریکی سیاست میں ایک دھماکے خیز انٹری کی۔ ۱۹۸۰ء میں صدر رونالڈ ریگن کو وائٹ ہاؤس پہنچانے والے یہی ایوینجلیکل ووٹرز تھے، اور ریگن کے بعد جدید دور میں ان کا دوسرا سب سے نمایاں سیاسی نمائندہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں نظر آتا ہے۔ ۲۰۲۲ء میں ٹرمپ کے مقرر کردہ قدامت پسند ججوں کی بدولت امریکی سپریم کورٹ نے اسقاطِ حمل کے نصف صدی پرانے آئینی حق Roe v. Wade والے فیصلہ کو ختم کر دیا، جو اس طبقے کی بہت بڑی سیاسی فتح ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سسرائیل کے لیے امریکی عوامی حمایت کے اسباب جہاں ایک طرف جیو پولیٹکس، سرد جنگ کی تاریخ اور امریکی مفادات سے جڑے ہیں، وہاں ایوینجلیکل مسیحی اس معاملے کو خالصتاً مذہبی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ لفظ ‘Evangelical’ یونانی لفظ ‘Euangelion’ سے نکلا ہے جس کا مطلب خوشخبری یا انجیل Gospelہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ہر سچے مسیحی کا فرض ہے کہ وہ عیسائیت کی تبلیغ کرے اور دوسروں کا مذہب تبدیل کرائے، یہی تبلیغی جوش انہیں روایتی مسیحیوں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ طبقہ بائبل کی لفظی تعبیر Literal Interpretation پر سختی سے زور دیتا ہے اور اسے ہر غلطی سے پاک کلام مانتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ڈارون کے نظریہ ارتقا کے برعکس بائبل کے تخلیقِ کائنات کے واقعے کو حرف بہ حرف سچ تسلیم کرتے ہیں۔ اپنے اسی سخت گیر اور روایتی رویے کے باعث، امریکہ کے لبرل، علمی اور ساحلی حلقوں میں انہیں اکثر فکری طور پر پسماندہ اور رجعت پسند خیال کیا جاتا ہے۔ مگر وہ اپنے آپ کو امریکی اقدار کا محافظ مانتے ہیں۔
دیگر مسیحیوں کے برعکس، ایونجیلیکلز کے نزدیک نجات کے لیے انسان کو وہ لمحہ درکار ہے جب وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا واحد نجات دہندہ قبول کرے، اسی لیے انہیں Born-Again کرسچن بھی کہتے ہیں۔
ان کے بیشتر حلقوں کا پختہ ایمان ہے کہ بائبل میں مذکور آخری زمانے کی پیش گوئیاں (End of Times / Eschatology) اسی وقت پورے ہوں گے جب یخودی ریاست اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر ہو گی۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی وجہ سے اس-رائیل کی اندھی حمایت اپنا مذہبی فرض سمجھتے ہیں۔ یہ صرف سیاسی یا خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں، ایمان کا حصہ ہے۔
نیویارک، لاس اینجلس یا سان فرانسسکو کا چمکتا دمکتا لبرل امریکا ایک بڑی حقیقت ضرور ہے، لیکن الاباما، مسیسپی، ٹینیسی اوراوکلاہوما والا قدامت پسند امریکا بھی ایک بڑی اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ جو احباب امریکا کو صرف ہالی ووڈ یا نیویارک کے ساحلی آئینے سے دیکھتے ہیں وہ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں۔ یہاں آنے سے قبل میرے ذہن میں بھی یہ اتنا واضح نہیں تھا۔ اسی سے خیال آتا ہے کہ ہمارے زیادہ تر دیسی لبرل دانشوران پاکستان کی حد تک تو شدھ لبرل ہیں مگر امریکی تناظر میں ایکسٹریم رائٹ ونگ کے بیانیے پر ایمان رکھتے ہیں۔
(موضوع اور کی ورڈز کی بنیاد پر یہ پوسٹ شاید ہی کسی تک پہنچے مگر اس پر بات ہونی اور کرنا ضروری ہے)
جاری ہے


