“صرف ایک انٹرویو… پھر تمہاری قسمت بدل جائے گی۔”وجیہہ نے موبائل اسکرین پر چمکتے ہوئے اس پیغام کو کئی بار پڑھا۔ وہ ایک قابل آئی ٹی گریجویٹ تھا۔ یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں کے ساتھ فارغ التحصیل ہونے کے باوجود دو برس سے اچھی ملازمت کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ ہر طرف سفارش، تجربے اور مہنگائی کی دیواریں تھیں۔ گھر میں بیمار والد، پریشان ماں اور چھوٹی بہن بھائیوں کی تعلیم کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر تھی۔
چند دن پہلے اسے ایک بین الاقوامی آئی ٹی کمپنی کی طرف سے ای میل موصول ہوئی تھی۔ تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے، رہائش، میڈیکل اور بیرونِ ملک ٹریننگ کی سہولت۔ انٹرویو صرف ایک نجی دفتر میں ہونا تھا۔وجیہہ کی آنکھوں میں اُمید کی کرن جاگی۔ اُسے کیا معلوم تھا کہ یہ نوکری نہیں، ایک ہنی ٹریپ کا جال تھا۔
ادھر شہر کے دوسرے کونے میں بائیس سالہ حمزہ اپنی دُنیا میں مگن تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کی دوستی “ایمی خان” نامی ایک نہایت خوبصورت پاکستانی نژاد امریکی لڑکی سے ہوئی تھی۔ ایمی خود کو گرین کارڈ ہولڈر بتاتی، محبت بھرے پیغامات بھیجتی اور کہتی، “میں پاکستان آکر صرف تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ پھر ہم دونوں امریکہ میں نئی زندگی شروع کریں گے۔”
حمزہ نے کبھی اسے حقیقت میں نہیں دیکھا تھا، صرف تصویریں اور ویڈیو کالز، جن میں کیمرہ اکثر دھندلا رہتا۔ محبت نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔
ایک دن ایمی نے بتایا کہ وہ پاکستان پہنچ چکی ہے اور ایک فارم ہاؤس میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ موجود ہے۔ اس نے حمزہ کو وہاں آنے کی دعوت دی تاکہ خاندان کے افراد سے ملاقات کے بعد نکاح کی تاریخ طے کی جا سکے۔حمزہ خوشی سے بے حال ہو گیا۔
اسی شام وجیہہ انٹرویو کے لیے شہر سے باہر ایک ویران عمارت میں پہنچا۔ اندر داخل ہوتے ہی اس کے موبائل اور شناختی کارڈ لے لیے گئے۔”سر، انٹرویو کہاں ہوگا؟”جواب میں دو مسلح افراد نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔دوسری طرف حمزہ فارم ہاؤس کے دروازے پر پہنچا تو ایک شخص نے مسکرا کر کہا، “آئیے، سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔”دروازہ بند ہوتے ہی اس کے سر پر وار ہوا اور وہ بے ہوش ہو گیا۔دونوں نوجوان ایک ہی گینگ کے قبضے میں تھے۔
تین دن بعد وجیہہ کے والد کے فون پر کال آئی۔”تمہارا بیٹا ہمارے پاس ہے۔ بیس لاکھ روپے دو، ورنہ لاش وصول کرنا۔ پولیس کو خبر دی تو انجام اور بھی برا ہوگا۔”تقریباً اسی وقت حمزہ کے گھر بھی یہی پیغام پہنچا۔”شادی کا خواب بہت مہنگا پڑ گیا۔ بیس لاکھ دو، ورنہ جنازے کی تیاری کرو۔”دونوں گھروں میں کہرام مچ گیا۔ نہ اتنی رقم تھی، نہ کوئی راستہ۔اسی دوران ایک نجی نیوز چینل پر ہنی ٹریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر خصوصی پروگرام نشر ہوا۔ اینکر نے شہر کے مختلف علاقوں میں عوامی سروے کیا۔
ایک بزرگ نے کہا، “آج کل لوگ چہرہ دیکھ کر اعتبار کر لیتے ہیں، کردار دیکھنے کی فرصت کسی کے پاس نہیں۔”ایک طالبہ بولی، “سوشل میڈیا پر ہر خوبصورت پروفائل اصلی نہیں ہوتی۔ ہمیں ڈیجیٹل تعلیم اور احتیاط دونوں کی ضرورت ہے۔”ایک رکشہ ڈرائیور نے افسوس سے کہا، “بے روزگاری نے نوجوانوں کو ایسے خواب دکھائے ہیں کہ وہ ہر جھوٹ کو سچ سمجھ لیتے ہیں۔”اسی دوران بریکنگ نیوز چلی۔”شہر میں ہنی ٹریپ گینگ سرگرم۔ دو نوجوان اغوا۔ اغوا کاروں نے دونوں خاندانوں سے بیس بیس لاکھ روپے تاوان طلب کر لیا۔ پولیس نے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی۔”
یہ خبر پورے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔گینگ کا سرغنہ ٹی وی دیکھ کر غصے سے بولا، “کسی نے پولیس کو اطلاع دی ہے۔ اب ہمیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔”وجیہہ اور حمزہ ایک ہی کمرے میں بندھے ہوئے تھے۔ پہلی بار ان کی ملاقات ہوئی۔”تمہیں کیسے پکڑا؟” وجیہہ نے آہستہ سے پوچھا۔
حمزہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔”محبت کے نام پر۔” وجیہہ نے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔”اور مجھے روزگار کے نام پر۔”دونوں خاموش ہو گئے۔ انہیں احساس ہوا کہ ان کی کہانیاں الگ ضرور تھیں، مگر دھوکے کی نوعیت ایک ہی تھی۔احمد نے کمرے کا جائزہ لیا۔ وہ آئی ٹی کا طالب علم تھا، تکنیکی چیزوں پر اس کی نظر فوراً پڑ گئی۔ اس نے دیکھا کہ اغوا کاروں کے ایک وائی فائی راؤٹر کی لائٹ مسلسل جل بجھ رہی ہے اور قریب ہی ایک پرانا لیپ ٹاپ رکھا ہے۔
رات کو جب پہرے دار سو گیا تو احمد نے بڑی مشکل سے بندھی ہوئی رسی ڈھیلی کی۔ وہ لیپ ٹاپ تک پہنچ گیا۔ اس نے ہنگامی پیغام تیار کیا اور قریبی نیٹ ورک کے ذریعے اپنا مقام ایک پرانے کلاؤڈ اکاؤنٹ میں محفوظ کر دیا، جہاں سے اس کے دوست کو خودکار اطلاع موصول ہو گئی۔صبح ہوتے ہی اس کا دوست پولیس کے سائبر کرائم ونگ تک پہنچ گیا۔ادھر گینگ نے آخری دھمکی دی۔”شام تک رقم نہ آئی تو پہلے ایک کی لاش جائے گی۔”
شام ڈھلنے سے پہلے اچانک فارم ہاؤس کے باہر پولیس کی گاڑیوں کے سائرن گونج اٹھے۔اغوا کاروں نے فائرنگ شروع کر دی۔ چند منٹ کی شدید جھڑپ کے بعد بیشتر ملزمان گرفتار ہو گئے جبکہ سرغنہ فرار ہونے کی کوشش میں زخمی ہو کر پکڑا گیا۔ وجیہہ اور حمزہ کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔
چند روز بعد میڈیا نے دوبارہ عوامی سروے نشر کیا۔ایک خاتون نے کہا، “صرف پولیس کافی نہیں، گھروں میں بھی بچوں کو آن لائن دھوکے سے بچنے کی تربیت دینی ہوگی۔”ایک نوجوان نے کہا، “ہر بڑی تنخواہ والی نوکری اور ہر خوبصورت محبت کی پیشکش حقیقت نہیں ہوتی۔ تصدیق کرنا کمزوری نہیں، عقل مندی ہے۔” وجیہہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، “ڈگری انسان کو تعلیم دیتی ہے، مگر احتیاط اسے زندگی دیتی ہے۔”حمزہ نے دھیمی آواز میں کہا، “میں نے تصویر سے محبت کی تھی، انسان سے نہیں۔ اب جان گیا ہوں کہ اعتماد ہمیشہ تحقیق کے بعد کرنا چاہیے۔”
وقت گزر گیا، مگر اس واقعے نے شہر کو ایک سبق دے دیا۔ہنی ٹریپ صرف محبت کا جال نہیں، بلکہ انسانی کمزوریوں، خوابوں اور مجبوریوں کا کاروبار ہے۔ کہیں روزگار کا لالچ شکار بناتا ہے، کہیں بیرونِ ملک زندگی اور شادی کا خواب۔ جب خواہش عقل پر غالب آ جائے تو دھوکے بازوں کے لیے راستے آسان ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ اس کہانی کا آخر نہیں …… اب بھی جانے کتنے انسانی کمزوریوں، خوابوں اور مجبوریوں کے ہاتھوں ہنی ٹریپ کا تر نوالہ بن رہے ہوں گے۔


