آج کی شاعری کے بدلتے موضوعات/قاسم یعقوب

کہتے ہیں کہ ادب کے موضوعات وہی ہیں جو صدیوں سے انسان کی فطرت کے موضوعات ہیں، تنہائی، خوف یا ڈر، محبت، نفرت ، انتظار، عشق ، جنس وغیرہ انسان کا سب کچھ تو وہی ہے ، لہٰذا شاعری میں صرف بیان بدلتا ہے باقی سب کچھ تو وہی ہے۔مگر ایسا نہیں ہے۔ ان جذباتی کیفیات کی حالتیں یک سر نہیں تو کافی حد تک بدل چکی ہیں۔ محبت، عشق، تنہائی یا جنس کا تصور وہ نہیں جو کلاسیکی عہد کے انسان کو درپیش تھا۔اگر ہم ان تصورات کو جوں کا توں سمجھ رہے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے غزل گو شعرا کا کلاسیکی تصورات کو دہرانا بھی ہے۔ آج کا انسان نئے سماج کا حصہ ہے وہ زندگی کا وہ تصور نہیں رکھتا جو آج سے صدیوں پہلے موجود تھا۔ ہمیں بظاہر لگتا ہے کہ ہمارے موضوعات آج بھی وہی ہیں جو صدیوں پہلے موجود تھے۔ حقیقت میں ایسا نہیں۔
آئیے ذرا دیکھیں کہ واقعی اس میں سچائی ہے۔
عشق کا تصور لاحاصلی سے جڑا ہوا تھا۔ یعنی عشق میں دیوانگی اور لاحاصلی ہی معراج ہے۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ محبوب ناممکن ہدف ہے جس کا نہ ملنا وحشت جنون اور سودائی پن کو پیدا کرتا ہے۔بہار محبوب سے ملنے کے امکان کا استعارہ ہے۔ جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا۔ دوسرا عشق کا تصور ’’انکارِ زات‘‘ تھا۔ اپنی ذات کی نفی کرو۔ عشق میں اپنا تسور ختم کرنا عشق کی معراج تھی۔ اب یہ دونوں تصورات ختم ہو چکے ہیں۔ محبوب ناممکن ہدف نہیں۔ بلکہ محبوب کے ساتھ یا حاصل کرکے، اس کے وجود سے منسلک جذبہ، ابدی اور ازلی کیفیات کو تخلیق کرتا ہے۔ محبوب کی عدم دستیابی ہی ازلی و ابدی کیفیات کا مرقع نہیں۔اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا، والا خیال اب نہیں ہے۔ دوسرا خیال یہ کہ عشق اپنی نفی کی بجائے اب توسیعِ زات چاہتا۔ اپنی ذات کو مٹاتا نہیں بلکہ اپنی ذات کی توسیع کرتا ہے۔ عشق کا تصور اب محبوب سے اشتراک کرتا ہے۔ اپنا وجود بھی برقرار رکھتا ہے اور دوسرے کے ساتھ ملنا بھی چاہتا ہے۔ مل کر ایک نیا بننا چاہتا ہے۔ خود کو مٹاتا نہیں۔’ ترے ملنے سے بہتر ہو گیا ہوں۔ ‘
ثنا للہ ظہیر کا شعر ہے
تُو ملا ہے کہ مری عمر پلٹ آئی ہے
کتنا لڑکا سا میں اندر سے نکل آیا ہوں
اب محبت کی سن لیں۔ محبت کا تصور پہلے ایسے تصور سے قائم تھا جو موجود ہی نہیں، جسے کہیں تلاش کرنا ہے یا جس کو حاصل کرنا ہی اس کا ہدف ہے اصل محبت ہے ۔ اس لیے پوری کلاسیکی شاعری محبوب کو تلاش کر رہی ہے۔ اگر مل گیا تو اس کی کمر غائب ہے، منہ اتنا چھوٹا ہے کہ مل ہی نہیں رہا چہرے پر ، وغیرہ وغرہ۔ ایک موہوم یا ماورائی سا تصور تھا محبوب کا۔ پھر جدید سماج نے محبوب کو پا لیا اور اس کے ساتھ جذباتی کیفیات کو بیان کیا۔ آج کا سماج اس سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ وہ محبوب کے تسور سے اُکتا گیا ہے۔ محبوب کے قُرب کی فراوانی نے محبوب سے بیزاری کو جنم دیا ہے۔ مقصود وفا کا ایک شعر سنئیے:
تجھ سے اب درد کا رشتہ بھی نہیں چاہئے ہے
جا مجھے تیری تمنا بھی نہیں چاہئے ہے
اسی طرح تنہائی کا تصور بھی بدلا ہے۔ پہلے تنہائی کا مطلب سماجی بائیکاٹ یا کسی کا نہ ہونا تھا۔یہ بہت پرانا تصور ہے۔ آج کی تنہائی ہجوم میں تنہائی ہے۔سب کچھ ، ہر چیز پاس ہے۔ سب کے درمیان ہیں مگر تنہا ہیں۔ سعید شارق نے اپنی کتاب کوہِ ملال میں بہت شاندار شعر کہے ہیں اس ضمن میں۔ان کے ہاں تنہائی کا تصور ایک نئے اور آج کے انسان کا تصور بن کے سامنے آیا ہے۔
انجم سلیمی کے ہاں بھی ایک نیا تصور ہے تنہائی کا ، ذرا دیکھئے؛
اکتا گیا ہوں خود سے اگر میں تو کیا ہوا
یہ بھی تو دیکھیے،مُجھے تنہائی چائیے
کچھ غم کشید کرنے ہیں اپنے وجود سے
جا غم کی ساتھئیے،مُجھے تنہائی چاہئیے

عابد سیال کے ہاں دیکھیے:
سراب خواہش آسودگی مگر کوئی شے
ملی نہیں ہے طبیعت سے میل کھاتی ہوئی
یہ اکتاہٹ یا ہر چیز سے عدم اطمینانی ہی تنہائی کا موجب ہے۔
اب ڈر یا خوف کو لیجیے۔ پہلے ڈر ایسا نہیں تھا جیسا آج ہے۔ ڈرنا کسی بیرونی عوام سے ڈرنا تھا۔ موت کا خوف، جنگ ، بھوک کا خوف، وغیرہ مگر آج کا خوف یا ڈر اندرونی ہے۔ دوسرے لفظوں میں آج کا شاعر اپنے آپ سے ڈرا ہوا ہے۔
پہلے ایک دوسرے سے خوف زدہ تھا۔ اج اسے اپنے آپ سے خوف ہے۔ اپنے اندر سے خوف۔ آج کا انسان اپنے جذبات کے ہاتھوں اس قدر بے ہنگمی کا شکار ہے کہ اسے ہر طرح کی آسائش یا سہولت بھی دے دی جائے یا ہر طرح کا بیرونی خوف ختم بھی کر دیا جائے تو وہ اپنے اندر کے ہاتھوں پھر وہی کا وہیں رہتا ہے۔ تو کیوں نہ پھر اندر کو پہلے حل کیا جائے۔ یا دوسرے لفظوں میں باہر تو مسئلہ ہے ہی نہیں، اصل چیز اندر کو قابو پانا ہے۔ پہلے بندہ یہ سوچ کے خوف زدہ رہتا تھا کہ لوگ یا باہر کی دنیا مجھے مار دے گی۔ اب سوچتا ہے کہ میں اندر کے ہاتھوں نہ مر جاوں۔ لہذا یہ مکمل طور پر خیال کی شفٹنگ ہے۔ذرا اکبر معصوم کو سنئیے:
خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرا
میری سوچیں ہیں گھنی، خوف ہے گنجان مرا
جنس یا سیکس کا تصور بھی بدل گیا ہے۔ یہ منٹو والی یا امرائو جان والی طوائف اب نہیں ملتی۔ اب ہر جنس کا روایتی تصور ختم ہو چکا ہے۔ طوائف پارٹنر ہے۔ وہ سیکس ماڈل ہے۔ پہلے صرف عورت طوائف تھی اب مردبھی عورت کے لیے طوائف کے روپ میں سامنے ایا ہے۔ پہلے صرف مرد جنسی عمل میں شریک ہوتا تھا اب عورت مکمل جیتا جاگتا وجود سامنے لائی ہے۔ عورت نے جنس کو ایک کموڈیٹی کی بجائے پارٹنر کے طور پر قبول کروایا ہے۔ جھروکے، بالکونیاں، ساقی کے جام کی گردش، شاہی بازار وغیرہ کے تصورات اب یک سر بدل چکے ہیں۔
ایک بہت اہم طاقت ور استعارہ ’ماں ‘ کا بھی دہرایا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سورس آف انسپریشن اب ماورائی حوالے نہیں رہے، اب ماں کے فطری وجود نے رہنمائی سنبھال لی ہے۔
ماں کا تصور آج کے جدید انسان کو بہت ’ہانٹ‘ کر رہا ہے۔ آج کا انسان ماں کو خدا کا بھی متبادل ماننے کو تیار نہیں
’ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں۔‘ اکبر معصوم کا شعر ہے:
ماں کہتی تھی دکھ تو رہے گا دنیا میں
جیسے سب رہتے ہیں ، میرے لعل ، رہو
دنیا کو ، وجود کو، ازلی ابدی سوالوں کو، سمجھنے کا سورس ’ماں‘ کا تصور بن گیا ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ وہ آرکی ٹائپل تصور نہیں جو صدیوں سے انسان کے حافظے میں موجود ہے۔ آخر ماں ہے وہ تو رہے گا مگر میں یہاں اسے ایک نئے معنوں میں کہہ رہا ہوں۔ ماں کے معنی نے مکالمے، وجود سے مکالمے کا راستہ کھولا ہے۔ خیر یہ لمبا اور الگ موضوع ہے۔

گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان کا پوری کائنات کا تصور ہوبہو اسی طرح نہیں جس طرح ہماری اردو کلاسیکی شاعری میں دکھائی دیتا ہے۔ ہم کلاسیکی شاعری کے تصورِ انسان کو آج کے انسان کی نفسیات سے نہیں دیکھ سکتے۔ آج کا شاعر بلاوجہ ہر سانحہ پر رونا نہیں چاہتا، کیوں کہ سانحہ اور دکھ کا معیار وہ نہیں ہے جو کبھی انسان کو درپیش تھا:

یوں دھند میں اشکوں کی تو کھویا نہیں جاتا
ہر سانحے پر ٹوٹ کے رویا نہیں جاتا
(سعید احمد)

اپنا تبصرہ لکھیں