بے وفائی کی کہانیاں/ مہ ناز رحمٰن

کتابیں اکثر آئینہ ہوتی ہیں، مگر بعض اوقات وہ ایسی کھڑکیاں بھی بن جاتی ہیں جن سے ہم اپنی ہی زندگی کو نئے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ میرے لیے یہ کتاب Unholy Alliances-Sagas of Betrayal بھی ایسی ہی ایک کھڑکی ثابت ہوئی۔
اس کتاب پر گفتگو کرنے سے پہلے، میں آپ کو مختصراً پاکستان کی قانونی تاریخ کے ایک اہم باب کی طرف لے جانا چاہوں گی۔

ہم میں سے اکثر لوگ 1961ء کے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس سے تو واقف ہیں، مگر بہت کم لوگ اس کے پس منظر سے آگاہ ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دورِ حکومت میں جب محمد علی بوگرہ نے اپنی پہلی بیوی کی موجودگی میں اپنی سیکریٹری سے شادی کی تو ملک بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ خصوصاً آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (APWA) سے وابستہ خواتین سڑکوں پر نکل آئیں، انہوں نے پہلی بیوی کے حق میں احتجاج کیا اور خواتین کے لیے قانونی تحفظات کا مطالبہ کیا۔ انہی عوامی مطالبات اور بحث و مباحثے کے نتیجے میں مسلم عائلی قوانین میں ایسی اصلاحات کی گئیں جن کے تحت دوسری شادی کے لیے بعض قانونی پابندیاں عائد کی گئیں اور پہلی بیوی کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاندانی قوانین محض قانونی دستاویزات نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے حقیقی انسانوں کا دکھ، کرب اور جدوجہد ہوتی ہے۔

جب میں نے اس کتاب کی پہلی کہانی پڑھنی شروع کی تو میں اندر تک ہل گئی۔ اس کی ہیروئن کے ساتھ ہونے والی بے وفائی اور اس کا دکھ مجھے کسی افسانے کا حصہ نہیں لگا، بلکہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اپنی ہی ماں کی داستان پڑھ رہی ہوں۔

میری والدہ نے بھی اپنی زندگی کے اس اذیت ناک دور کی ایک ڈائری لکھی تھی۔ اس کتاب کی ہیروئن کی طرح وہ بھی اس شخص کے ہاتھوں دھوکا کھا گئی تھیں جس پر انہوں نے پوری زندگی اعتماد کیا تھا۔ جیسے جیسے میں کتاب پڑھتی گئی، یہ صرف دوسروں کی کہانیاں نہیں رہیں، بلکہ میری اپنی ماں کی زندگی کی داستان بن گئیں۔

وہ ماں… جس نے مجھے دنیا میں سب سے زیادہ محبت دی، اور شاید انجانے میں مجھے ایک فیمنسٹ بھی بنایا۔

خوش قسمتی سے میرے والدین ان چند خوش نصیب جوڑوں میں شامل تھے جنہوں نے بے وفائی کے اس شدید صدمے کے بعد اپنے رشتے کو دوبارہ تعمیر کیا۔ یہ سفر ہرگز آسان نہیں تھا۔ معافی نے زخم تو نہیں مٹائے، مگر دونوں نے اعتماد کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ ایسے واقعات کم دیکھنے کو ملتے ہیں، اور شاید اسی لیے انہیں یاد رکھا جانا چاہیے۔

بچپن میں ہم سب نے پریوں کی کہانیاں پڑھیں جن کا اختتام ہمیشہ ایک ہی جملے پر ہوتا تھا: “شہزادے اور شہزادی کی شادی ہوگئی اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔”

لیکن حقیقی زندگی پریوں کی کہانی نہیں ہوتی۔

یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شادی کسی کہانی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی، کہیں زیادہ پیچیدہ کہانی کا آغاز ہوتی ہے۔ محبت کے ساتھ عدم تحفظ بھی ہوتا ہے۔ وفاداری آزمائش میں پڑ سکتی ہے۔ اور ایک بار ٹوٹ جانے والا اعتماد دوبارہ قائم ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ممنوعہ محبت کو رومانوی رنگ نہیں دیتی بلکہ اس کے جذباتی، نفسیاتی اور سماجی نتائج کو بے لاگ انداز میں سامنے لاتی ہے۔ یہ صرف میاں بیوی ہی نہیں بلکہ بچوں اور خود اس تعلق میں شامل افراد کی زندگیوں پر بھی اس کے اثرات کو دکھاتی ہے۔

آخر لوگ ازدواجی تعلق سے باہر محبت یا تعلقات کیوں قائم کرتے ہیں؟

اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں۔

کبھی اس کی وجہ جذباتی تنہائی ہوتی ہے، کبھی نئی کشش، کبھی ازدواجی زندگی میں جذباتی یا جسمانی خلا، کبھی اختیار، انا یا یہ خوش فہمی کہ “اس بار مجھے حقیقی محبت مل گئی ہے۔” آج کے دور میں دفاتر، سوشل میڈیا اور مسلسل رابطوں نے ازدواجی تعلق سے باہر جذباتی قربت کے امکانات کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔

کچھ لوگ ناخوشگوار شادی سے فرار چاہتے ہیں، جبکہ کچھ اپنی ازدواجی زندگی سے ناخوش بھی نہیں ہوتے، مگر انہیں راز داری اور ممنوعہ تعلق کا سنسنی خیز احساس اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ ممنوعہ تعلقات بعض اوقات صرف اس لیے زیادہ پُرکشش محسوس ہوتے ہیں کہ وہ ممنوع ہوتے ہیں۔ لیکن شدتِ جذبات کو ہمیشہ پائیدار محبت نہیں سمجھنا چاہیے۔

تاریخ، سیاست، ادب اور مقبول ثقافت ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں مشہور شخصیات کی نجی زندگی عوامی اسکینڈل بن گئی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ شہرت، طاقت یا کامیابی کسی کو بھی محبت، خواہش اور بے وفائی کی پیچیدگیوں سے محفوظ نہیں بنا سکتی۔

مصنفہ نے اپنی کتاب میں ٹیلی ویژن ڈراموں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس حوالے سے مجھے بھارتی اداکارہ نینا گپتا کی ایک بات یاد آتی ہے۔ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربے کی بنیاد پر نوجوان لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ کبھی کسی شادی شدہ مرد، خصوصاً بچوں والے مرد سے محبت نہ کریں، کیونکہ اکثر ایسے مرد اپنی بیوی اور بچوں کو نہیں چھوڑتے۔ یہ ان کا ذاتی تجربہ ہے۔ لیکن زندگی ہمیشہ اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ کچھ مرد اپنی پہلی بیوی اور خاندان کو چھوڑ بھی دیتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ایک نئی اذیت جنم لیتی ہے۔

ہم نے اپنے شوبز میں بھی ایسی مثالیں دیکھی ہیں کہ دوسری شادی کرنے والی خاتون بعد میں اسی کرب سے گزری جب اس کے شوہر نے کسی اور عورت میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دوسروں کے دکھ پر تعمیر ہونے والی خوشیاں ہمیشہ پائیدار نہیں ہوتیں۔

میرے خیال میں ہمیں ایک اور سماجی حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ بہت سی تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور پیشہ ور خواتین اور مرد چالیس سال کی عمر کے قریب پہنچ کر بھی موزوں شریکِ حیات نہیں ڈھونڈ پاتے۔ خاندان کا دباؤ، تنہائی اور غیر شادی شدہ رہ جانے کا خوف بعض اوقات انہیں ایسے رشتے قبول کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے جن سے وہ عام حالات میں گریز کرتے، خواہ وہ کسی شادی شدہ شخص سے تعلق ہی کیوں نہ ہو۔ اس حقیقت کو بیان کرنے کا مقصد ایسے تعلقات کا جواز پیش کرنا نہیں بلکہ ان کے پس منظر کو سمجھنا ہے۔

یہ کتاب ایک نہایت اہم کام کرتی ہے۔ یہ ہمیں صرف فیصلہ سنانے کے بجائے سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔ سمجھنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم غلط عمل کی تائید کریں، بلکہ یہ کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ ہر بے وفائی کے پیچھے جذبات، فیصلے، ذمہ داریاں اور ان کے دور رس نتائج ہوتے ہیں۔

اگر میں آج کے سامعین، خصوصاً نوجوانوں کو ایک پیغام دینا چاہوں تو وہ یہ ہوگا:

محبت اپنی ذات میں کافی نہیں ہوتی۔

دیانت کے بغیر محبت دھوکہ بن جاتی ہے۔

ذمہ داری کے بغیر محبت استحصال بن جاتی ہے۔

اور وہ محبت جو اعتماد کو توڑ دے، اس کے زخم صرف دو افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچوں اور پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

اگر آپ شادی شدہ ہیں تو اپنے رشتے کی حفاظت کیجیے، اس سے پہلے کہ جذباتی فاصلے مستقل شکل اختیار کر لیں۔

اور اگر آپ غیر شادی شدہ ہیں تو یاد رکھیے کہ کسی دوسرے کے ازدواجی رشتے کو اپنی خوشی کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔

اگر بے وفائی ہو چکی ہے تو ہر خاندان کو اپنے حالات کے مطابق فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ کچھ رشتے ختم ہو جاتے ہیں، کچھ قائم رہتے ہیں، اور کچھ، میرے والدین کی طرح، بے حد تکلیف دہ سفر کے بعد دوبارہ تعمیر ہو جاتے ہیں۔ ہر خاندان کا راستہ مختلف ہو سکتا ہے، لیکن دیانت، ذمہ داری اور ہمدردی ہر راستے کی بنیادی شرط ہے۔

آخر میں، میں اس کتاب کی مصنفہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے اتنی حساس اور ذاتی نوعیت کی کہانیوں کو نہایت جرأت اور دیانت داری سے قلم بند کیا۔

یہ صرف ممنوعہ محبت کی کہانیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ اعتماد، تنہائی، امید، پشیمانی، حوصلے اور انسانی فیصلوں کی قیمت کی کہانیاں ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں