“عظیم قومیں صرف ترقی یافتہ معیشت سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے جذبۂ خدمت سے پہچانی جاتی ہیں۔ جب ایک انسان اپنا کچھ وقت، اپنی صلاحیت یا اپنی مسکراہٹ دوسروں کی بھلائی کے لیے وقف کرتا ہے تو وہ معاشرے میں امید کا چراغ روشن کرتا ہے۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی پوری زندگی اسی چراغ کو روشن رکھنے کی جدوجہد کی۔”
نیلسن منڈیلا کے کئی اقوال آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کا مشہور قول ہے:
“تعلیم سب سے طاقتور ہتھیار ہے جس کے ذریعے دنیا کو بدلا جا سکتا ہے۔”
ایک اور موقع پر انہوں نے کہا:
“ہر کام اس وقت تک ناممکن محسوس ہوتا ہے جب تک وہ مکمل نہ ہو جائے۔”
یہ اقوال صرف الفاظ نہیں بلکہ امید، عزم اور مستقل مزاجی کا پیغام ہیں۔
ہر سال 18 جولائی کو دنیا بھر میں نیلسن منڈیلا انٹرنیشنل ڈے منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 2009ء میں اس دن کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ دنیا نیلسن منڈیلا کی جدوجہد، امن، مساوات، انسانی وقار اور خدمتِ خلق کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کر سکے۔ اس دن دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ 67 منٹ انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کریں۔ یہ 67 منٹ، منڈیلا کی ان 67 برسوں کی جدوجہد کی علامت ہیں جو انہوں نے نسل پرستی، ناانصافی اور انسانی حقوق کے لیے وقف کیے۔
نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی میں جوانی کے تقریباً 27 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن آزادی کے بعد انہوں نے انتقام کے بجائے مفاہمت، برداشت اور قومی اتحاد کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ وصف تھا جس نے انہیں صرف جنوبی افریقہ کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا رہنما بنا دیا۔
ہمارا مذہب اسلام اور قرآنِ مجید انسانیت کی خدمت اور نیکی کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ”
(نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔)
(سورۃ المائدہ: 2)
ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔”
(سورۃ المائدہ: 32) مندرجہ بالا آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ انسانیت کی خدمت کسی مذہب، نسل یا زبان کی قید سے بالاتر ایک عظیم فریضہ ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے بھی خدمتِ خلق کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا:
“لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔”
(المعجم الاوسط، طبرانی)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
یہ تعلیمات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دوسروں کی خدمت محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت بھی ہے۔
67 منٹ کی مہم دراصل ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ معاشرے میں تبدیلی کے لیے ہمیشہ بڑے وسائل درکار نہیں ہوتے۔ صرف انسانیت کے لیے احساس ہونا ضروری ہے ۔اگر کوئی طالب علم کسی غریب بچے کو پڑھا دے، کوئی نوجوان خون کا عطیہ دے، کوئی شہری درخت لگا دے، کسی بیمار کی عیادت کر لے، کسی بزرگ کی مدد کر دے یا اپنے محلے کی صفائی میں حصہ لے لے تو یہی 67 منٹ معاشرے میں مثبت انقلاب لا سکتے ہیں۔
تاہم پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس تصور کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہم غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، ماحولیاتی آلودگی اور سماجی عدم برداشت جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر ہم نیلسن منڈیلا کے فلسفۂ خدمت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو یقیناً بہت سے مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں، کاروباری اداروں اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ رضاکارانہ خدمات کی ثقافت کو فروغ دیں تاکہ خدمتِ خلق ایک قومی رویہ بن سکے۔
مزید برآں نیلسن منڈیلا کی زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ حقیقی قیادت نفرت کو بڑھانے میں نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے میں ہے۔ انہوں نے معافی، برداشت اور مکالمے کے ذریعے دنیا کو بتایا کہ دیرپا امن صرف انصاف اور احترامِ انسانیت سے ہی ممکن ہے۔
آج جب دنیا جنگوں، نفرت، عدم برداشت، غربت اور ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے تو نیلسن منڈیلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہر فرد سال میں صرف 67 منٹ بھی دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر دے تو یہ چند لمحے لاکھوں زندگیوں میں خوشی، امید اور آسانی لا سکتے ہیں۔ یہی منڈیلا کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر کی جانب عملی قدم ہے۔ نتیجتااب وقت آ گیا ہے کہ ہم خدمت کو شعار، برداشت کو مزاج اور انسانیت کو اپنی سب سے بڑی پہچان بنائیں۔کیونکہ انسانیت ہی انسان کی سب سے بڑی عبادت ہے ۔


