فلم ستلج کے منظرِ عام پر آنے کے بعد جسونت سنگھ خالڑا کی جدوجہد اور پنجاب میں مبینہ غیرقانونی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور آخری رسومات جیسے حساس موضوعات دوبارہ عوامی بحث کا حصہ بنے۔ تاہم اس پر ایک اہم تنقید بھی سامنے آئی: کیا فلم نے ریاستی ت ش دد کو اس کے اصل سیاسی اور ادارہ جاتی تناظر سے الگ کر کے پیش کیا؟
بعض مؤرخین اور ناقدین کے مطابق فلم کا فوکس زیادہ تر مقامی پولیس اور چند افسروں پر رہتا ہے، جبکہ وہ وسیع ریاستی ڈھانچہ پس منظر میں چلا جاتا ہے جس کے اندر یہ پالیسیاں تشکیل پائیں۔ اگر ایک ناظر اس دور کی تاریخ سے واقف نہ ہو تو وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ چند مقامی افسروں کی زیادتیاں تھیں، حالانکہ پنجاب کا بحران صرف ایک صوبائی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس میں مرکزی حکومت، وزارتِ داخلہ، وفاقی سکیورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کے فیصلوں کا بھی اہم کردار تھا۔
فلم بنیادی طور پر ہندی میں بنائی گئی، بظاہر اس لیے کہ یہ کہانی قومی سطح پر زیادہ سے زیادہ ناظرین تک پہنچ سکے۔ تاہم بعض ناقدین کے نزدیک زبان کا یہ انتخاب پنجاب کی مقامی تاریخ اور ثقافتی تناظر کو ایک وسیع قومی بیانیے میں جذب کر دیتا ہے۔
اسی تناظر میں ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر آپریشن بلیو اسٹار، آپریشن ووڈ روز، 1984 کے سکھ مخالف فسادات، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی حکومتوں کی پالیسیاں، اور مرکز کی انسدادِ شورش کی حکمتِ عملی کو مناسب تاریخی تناظر میں نہ دکھایا جائے تو پورا بحران محض “پنجابی بمقابلہ پنجابی” یا “سکھ بمقابلہ سکھ” کے تصادم میں سمٹ سکتا ہے، اور یوں ریاستی کردار نسبتاً دھندلا پڑ جاتا ہے۔
اسی طرح کے۔ پی۔ ایس۔ گل کو صرف ایک طاقتور پولیس افسر کے طور پر دیکھنا بھی مکمل تصویر نہیں دیتا۔ وہ پنجاب پولیس کے سربراہ ضرور تھے، مگر ان کی حکمتِ عملی ایک وسیع ریاستی پالیسی کے دائرے میں نافذ ہوئی اور بعد میں انہیں مرکزی سطح پر اعزازات بھی ملے، جسے بعض مبصرین ریاستی تائید کی علامت سمجھتے ہیں۔
اس کے برعکس 2021 کی تامل فلم جے بھیم، جو آدیواسی برادری کے ایک حقیقی مقدمے پر مبنی ہے، پولیس ت ش د د کو چند اہلکاروں کی انفرادی زیادتی نہیں بلکہ ایک وسیع ادارہ جاتی مسئلہ قرار دیتی ہے۔ اس میں سوال صرف چند افسروں کا نہیں بلکہ اس ریاستی نظام کا ہے جو ایسے ت ش دد کو ممکن بناتا اور برقرار رکھتا ہے۔
یہ بحران بھی صرف پنجاب تک محدود نہیں تھا۔ 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں دہلی سمیت کئی شہروں میں سکھ برادری کو بڑے پیمانے پر ت ش د د کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پنجاب میں بعد کے برسوں کی انسدادِ شورش کی کارروائیاں اسی وسیع سیاسی بحران کا ایک اور باب بن گئیں۔
یہیں سے بحث پنجاب سے نکل کر پورے برصغیر کے نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے تک پہنچتی ہے۔ پولیس ایکٹ 1861، جو 1857 کے بعد برطانوی حکومت نے عوامی خدمت نہیں بلکہ ریاستی کنٹرول، نگرانی اور بغاوتوں کو دبانے کے لیے بنایا تھا، آزادی کے بعد بھی بڑی حد تک برقرار رہا۔ اسی لیے پولیس کو صرف ایک مقامی ادارہ سمجھنا درست نہیں۔۔۔ وہ قانونی، انتظامی اور سیاسی طور پر ریاستی طاقت کے وسیع ڈھانچے کا حصہ ہوتی ہے۔
اصل بحث کسی ایک خطے کی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ت ش دد (institutionalised violence) کی ہے۔ جب طاقت چند افراد کی غلطی کے بجائے اداروں، قوانین اور پالیسیوں میں رچ بس جائے تو ت ش دد ایک استثنا نہیں بلکہ حکمرانی کا طریقۂ کار بن جاتا ہے۔ یہی وہ تسلسل ہے جسے متعدد پوسٹ کولونیل مفکرین نوآبادیاتی ورثے کی بقا قرار دیتے ہیں۔
فرانز فینن نے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ نوآبادیات صرف زمین پر قبضہ نہیں کرتیں، بلکہ طاقت کے ایسے ادارے بھی چھوڑ جاتی ہیں جو آزادی کے بعد بھی اسی منطق کے تحت کام کرتے رہتے ہیں۔ چہرے بدل جاتے ہیں، جھنڈے بدل جاتے ہیں، مگر اگر ادارے، قوانین اور طاقت کا تصور وہی رہے تو عوام کے لیے ریاست کے تجربے میں بہت کم تبدیلی آتی ہے
شاید اسی لیے ہمیں برصغیر کے مختلف خطوں میں ایک مانوس منظر بار بار دکھائی دیتا ہے۔ کہیں پنجاب میں انسدادِ شورش، کہیں دلتوں اور آدیواسیوں پر پولیس تشدد، کہیں کشمیر، بلوچستان، گلگت یا دیگر شورش زدہ علاقوں میں ریاستی طاقت اور شہری آزادیوں کی کشمکش۔ ہر خطے کی اپنی الگ تاریخ اور پیچیدگیاں ہیں، مگر ایک سوال مشترک ہے: کیا نوآبادیاتی دور میں قائم ہونے والے ریاستی ادارے آج بھی عوام کو بنیادی طور پر “قابلِ نگرانی آبادی” کے طور پر دیکھتے ہیں؟
نوآبادیات نے ہمیں صرف سرحدوں میں تقسیم نہیں کیا، بلکہ ہمارے دکھ بھی ایک دوسرے سے الگ کر دیے۔ ہم پنجابی، کشمیری، بلوچ، دلت اور آدیواسی تو بن گئے، مگر شاید یہ نہ پہچان سکے کہ طاقت کا ڈھانچہ اکثر ایک ہی منطق کے ساتھ ہم سب پر نافذ ہوتا رہا۔ جب تک ہم ہر خطے کے درد کو صرف ایک مقامی تنازع سمجھتے رہیں گے، ادارہ جاتی ت ش دد کا اصل چہرہ ہماری نگاہوں سے اوجھل رہے گا۔


