میرے عزیز،
میں آج کی شام شہر کی ہنگامہ خیزی سے دور، کھیتوں کے درمیان ایک گھنے درخت کے نیچے پناہ لیے بیٹھا ہوں- یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت نے مجھے چند لمحوں کے لیے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا ہو۔ ہوا میں فصلوں کی مہک رچی ہوئی ہے۔ دور کہیں مویشی اپنے باڑوں کی طرف لوٹ رہے ہیں، پرندے اپنے گھونسلوں میں سمٹ چکے ہیں، اور کچھ فاصلے پر مسجد کے مینار سے بلند ہوتی اذانِ مغرب شام کی خاموشی کو ایک عجیب سا تقدس عطا کر رہی ہے۔ ایسے میں، نجانے کیوں، تم بہت یاد آئے- شاید اس لیے کہ بعض لوگ انسان کی زندگی میں افراد نہیں ہوتے، ٹھہراؤ ہوتے ہیں۔ وہ فاصلے میں بھی قریب رہتے ہیں اور خاموشی میں بھی سنائی دیتے ہیں۔
جانتے ہو، خط لکھنا بھی عجیب راحت افزا کیفیت ہے- مگر کسی نے کہا تھا کہ، “خط جب ایک دفعہ پڑھا گیا تو پھر سمجھو وہ ناکارہ ہوگیا۔ پھر وہ گزرے ہوئے زمانے کی بات بن گیا۔ پھر وہ کسی کو کچھ نہیں کہتا۔ جیسے آدمی مر جائے۔ پتہ ہے مردہ آدمی اور خط میں بہت تھوڑا فرق ہے۔ دونوں گزرے ہوئے وقت کی چیزیں ہیں۔ پرانے خط پڑھنا اور مردے پر رونا وقت ضائع کرنے کے برابر ہے۔” تمہیں کیا محسوس ہوتا ہے؟ کیا واقعی ایک دفعہ پڑھے جانے والا خط دوبارہ پڑھنے کے قابل نہیں رہتا؟
میں سمجھتا ہوں کہ خط محض ابلاغ کا وسیلہ نہیں ہوتا بلکہ انسانی تجربے، جذبات، تہذیبی حافظے اور اجتماعی شعور کی دستاویز بھی ہوتا ہے۔ اس کی معنویت پہلی قرأت پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ ہر نئی قرأت کے ساتھ نئے معانی اور نئے زاویے آشکار ہوتے ہیں۔ ویسے بھی غم، یاد اور نوسٹالجیا انسانی وجود کے فطری عناصر ہیں۔ اگر یہ انسان کو حال سے بےگانہ نہ کریں تو یہی یادیں اس کی شخصیت کو گہرائی، تعلقات کو معنویت اور زندگی کو تسلسل عطا کرتی ہیں۔ ماضی سے مکمل انقطاع اتنا ہی غیر فطری ہے جتنا ماضی میں مکمل اسیری۔
خیر بات کہیں سے کہیں اور چل نکلی- تم نے پوچھا تھا کہ زندگی کیسی گزر رہی ہے؟ اگر اس سوال کا جواب ایک لفظ میں دینا ہو تو شاید میں کہوں؛ “مشکل”۔ لیکن اگر چند لفظوں کی اجازت ہو تو میں کہوں گا کہ زندگی کٹھن ضرور ہے، مگر ناقابلِ عبور نہیں۔
دن ذمہ داریوں کے بوجھ تلے گزرتے ہیں اور راتیں سوالوں کی رفاقت میں۔ کچھ خواب تھے جو راستوں میں کہیں بچھڑ گئے، اور کچھ خواہشیں تھیں جو وقت کی گرد میں دب گئیں- کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان اپنی زندگی خود نہیں جیتا بلکہ اسے نبھاتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود، میں ناامید نہیں ہوں۔ اب بھی یقین ہے کہ رات جتنی بھی طویل ہو، صبح اس سے زیادہ صابر ہوتی ہے-
کبھی کبھی میں خود سے پوچھتا ہوں کہ آخر میں کیا ہوں؟ کہیں میں وہ خواب تو نہیں، جو آنکھوں میں جاگتا رہے مگر تقدیر کے اوراق پر کبھی ثبت نہ ہو سکے۔ وہ خیال، جو دل میں جنم لے مگر آواز بننے سے پہلے ہی خاموش ہو جائے- اس کتاب کی مانند تو نہیں ہوں جس کے اوراق وقت کی گرد اوڑھ لیں اور جسے پڑھنے والی کوئی نگاہ میسر نہ آئے۔ ایسے بے شمار خیال مجھے آن گھیرتے ہیں اور میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ آخر میں کیا ہوں؟
اور پھر کہیں سے آواز گونجتی کہ شاید میں وہ سب کچھ ہوں، جسے ابھی لفظوں نے پہچاننا اور معنی نے نام دینا نہیں سیکھا۔
میرے اندر کہیں ایک ننھا سا چراغ اب بھی روشن ہے۔ وہ چراغ جو ہر آندھی کے بعد دوبارہ سنبھل کر جلنے لگتا ہے۔ وہ چراغ جو مجھے بتاتا ہے کہ شکست اور اختتام ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ وہ چراغ جو سرگوشی کرتا ہے کہ راستے کھو بھی جائیں تو مسافر ختم نہیں ہوتے۔ شاید اسی چراغ کا نام امید ہے۔
رات کا اندھیرا اپنے پر پھیلا چکا ہے- ہوا میں خنکی اتر آئی ہے اور آسمان پر پہلا ستارہ بھی نمودار ہو چکا ہے۔ میں اس ستارے کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ اندھیرا کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو، روشنی کو زندہ رہنے کے لیے صرف ایک نقطہ کافی ہوتا ہے۔
اگر کبھی تمہیں بھی زندگی کے راستے تھکا دیں تو اس شام کو یاد کر لینا؛ ایک گاؤں، ایک گھنا درخت، ایک خاموش شخص اور اس کے دل میں جلتا ہوا امید کا ایک چھوٹا سا چراغ۔
تمہارا اپنا۔۔۔
عبداللہ


