تہذیبوں کے فاصلے اور قربتیں، ایک تجزیہ/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن حکیم میں جامع دینی مسائل کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ کے آخری نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی پوری زندگی میں سنت مطہرہ اور احادیث مبارکہ کے ذریعے اچھے اور برے اعمال کی نشاندہی فرمائی ہے۔ ان وسیلوں سے انسان میں اچھائی اور برائی کی پہچان اور نیکی و بدی کے راستے پہ چلنے کے نتائج وعواقب کا فہم دیا ہے۔ انسان کے اطوار اور اعمال مفاد پرستی اور مطلب برآری پر مبنی ہوں تو اسے معاشرے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور اگر اس میں انسانی ہمدردی، خوش اخلاقی اور باہمی محبت و بھائی چارے کے خواص موجود ہوں تو اس کی قدر دانی اور پذیرائی بھی کی جاتی ہے۔ کون دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے؟ اور کس کی فطرت محض غفلت، عدم برداشت اورغیر ہمدردانہ روئیے والی ہوتی ہے؟ اور کس کی خصلت، نیکی اور شرافت والے کردار کی حامل ہوتی ہے؟ اس کا انحصار معاشرے میں موجود عمومی رجحان یا طرزعمل پر ہوتا ہے۔ اگر لوگوں میں سے ذیادہ تر افراد نیک طینت، متحمل مزاج اور خوش خلقی کے اوصاف سے متصف ہونگے تو ان کی آل اولاد کی پرورش اور تربیت پر بھی ان کی جھلک نظر آۓ گی اسی طرح جہاں دوسروں کے لئے تکلیف دہی، ایذا اور زحمت رسانی کا رویہ غالب ہوگا وہاں کی نئی نسل میں بھی اسی نوع کے اثرات و عادات کا موجود ہونا کچھ عجب نہیں ہوتا۔
کبھی ہم دوسروں کے ساتھ اپنے معاملات میں قصدآ تواضع، اعانت اور اعلیٰ ظرفی سے مفر اختیار کرتے ہیں اور کبھی کھل کر دوسروں کے لئے قباحتوں کے انبار کھڑے کر دیتے ہیں۔ انہیں شائد اسی رجحان میں لطف و کیف محسوس ہوتا ہے۔ وہ ذمے داری اور برد باری کا مظاہرہ کرتے ہیں, اور نہ ہی سستی، کاہلی اور نا موزوں طور طریقے ترک کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان رجحانات کے بہاؤ کا بنیادی سبب اچھی تعلیم و تربیت کا فقدان یا عمل ناقص ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کے معاشرے میں بد دلی اور کسی حد تک نفرت کے احساسات پائے جاتے ہیں۔ ان میں پچاس فیصد وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو پچاس کی عمر تک پہنچنے کے بعد سمجھ داری اور رواداری کو غنیمت سمجھتے ہیں۔ تاہم بیس تا پچیس سال کی عمر کے افراد کا تعلق زیادہ تر اس دور جدید کی پیداوار سے ہوتا ہے۔ اس دور کی خوبصورتی اور چکاچوند نسل تازہ کے لئے عقل و خرد کو صحیح و غلط کی پہچان اور پرکھنے کی آنکھوں کی بصارت کو کمزور کر دیا ہے۔
کہنے کو یہ ذہین، ہونہار، اور قابل و ہوشیار ہیں، مگر ان کے انداز اور برتاؤ میں عجب طرح کی بیباکی اور غلط یا صحیح، اور بلا کی خود اعتمادی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ کسی کے ہوگئے تو ہو گئے۔ وہ کسی کی عیب جوئی کرتے یا تہمت لگاتے ہیں۔ وہ کسی کو برے ناموں سے پکارے یا کسی کو نام رکھے۔ اس کا کردار اخلاق سے گرا ہو یا وہ دین کے معاملے میں بلا وجہ ٹانگ اڑاتا ہو، بس کہہ دیا تو کہہ دیا، وہی بہترین ہے۔ وہ سب سے اچھا ہے۔ اس جیسا کوئی نہیں۔ اس کے منہ سے نکلا ہر لفظ نقرئی اور اس کی ہر بات سونے میں تولنے والی۔ یہاں آج کا نوجوان جوسوشل میڈیا پہ بیٹھ کر دیوانہ وار نئی جہتوں کو اپناتا ہے۔ وہ اسے پہلے پرکشش اور بعد میں بیکار لگتی ہیں۔ یہی سمجھ کا فتور بن جاتی ہے۔
یہ نسل ذیادہ تر ایسے کھلنڈرے پن کے شوقین نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو کرکٹ کھیلتے ہیں نہ ہاکی، جو فٹ بال کھیلنا جانتے ہیں نہ اسکواش، نہ انہیں اسکول و کالجز کی ان ڈور گیمز سے دل چسپی اور رغبت ہوتی ہے۔ ان کی تربیت میں والدین کا کوئی کردار ہوتا ہے نہ اساتذہ کی تعلیم کا، اگر ہوتا بھی ہے تو انتہائی محدود۔ کیونکہ ان کے دلوں میں اپنے متقدمین کی طرح اپنے والدین کا ادب احترام ہوتا ہے اور نہ اساتذہ کی کسی بات کو بلا حجت تسلیم کرنے کا مادہ۔ وہ تذبذب اور حیرانگی میں مبتلا رہ کر خود کونئی سوچ اور نئی فکر میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کتابیں ان کے لئے محض ردی کے کاغذ بن جاتی ہیں۔ موبائل، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ علوم و فنون کے گہوارے بن جاتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کے تناظر میں پرانے زمانے، پرانے لوگ اور پرانی باتیں قصہ پارینہ بن جاتی ہیں۔ نئی اور پرانی نسلوں کے بیچ فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ کبھی لباس پر بحٹ، کبھی روایات سے نفرت، کبھی محبتوں سے باغی، کبھی خود سری سے رغبت۔ قدریں بدل گئیں خیالات بدل گئے۔ جذبات بدل گئے۔ مگر معلومات کے خزائن کے وارث، روزگار کے تنوع کے رہین، خود اعتمادی اور محنت پر یقین کرنے والے سرعت سے ترقی کی منزلیں طے کرتے آگے نکل گئے تو تنقید کرنے والوں کو بھلے لگنے لگے۔ گھر بیٹھے دنیا بھر کی اطلاعات اور خبروں سے استفادہ آسان ہو گیا۔ پرانی نسل قائل ہونے لگی کہ مینؤل کام کے مقابلے میں نئی ٹیکنالوجی نے ہمارے معمولات اور رفتار میں انقلاب بپا کر دیا پے۔ اس قبولیت کے باوجود نئی اور پرانی تہذیب کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی وجوہ پر غور کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں ممکن ہے مزید ایڈوانسڈ ثیکنا لوجی حالیہ انقلاب کو پرانی تہذیب گرداننے لگے۔ اب تک یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو جو نئے اور پرانے ادوار ایک دوسرے کی مخالف سمت میں چلنے کی بجاۓ آپس میں ہم آہنگ ہو کر رہیں۔ یوں فاصلے کم رہیں گے، تو قربتیں قائم ہونگی اور قربتیں ہمیشہ بہت خوش کن ہوتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں