ایلافِ قریش: موسموں کی تبدیلی اور ان سے لڑنے کا قرآنی اصول/سلیم زمان خان

مکہ کی وادی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب موسموں کی شدت اور قحط نے زندگی کا توازن بگاڑ دیا۔ قحط کا یہ عالم تھا کہ عربوں میں “اعتزال” (بے بسی اور مایوسی کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر الگ ہو جانا) کا ایک برا رواج پڑ گیا؛ لوگ بھوک سے تنگ آ کر ویرانوں میں خیمے لگا کر بیٹھ جاتے اور موت کا انتظار کرتے۔ ایسے میں 480ء کی دہائی کے قریب مکہ کے سردار، حضرت ہاشم بن عبد مناف نے “ایلاف”(باہمی اتحاد اور معاہدہ) کا وہ تاریخی نظام بنایا جو انسانی بقا کا پہلا باضابطہ اور عملی لائحہ عمل تھا۔
ایلاف محض ایک معاہدہ نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹیجک انتظامی ماڈل تھا جو دو سطحوں پر کام کرتا تھا: پہلی سطح پر عرب قبیلوں نے اپنے وسائل (پانی، خوراک) کو ایک دوسرے سے جوڑا، اور دوسری سطح پر روم اور ایران جیسی بڑی طاقتوں سے تجارتی معاہدے کیے تاکہ قافلے ہر حال میں محفوظ رہیں۔
یہ نظام دراصل “آفات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی” (Disaster Management) کی ایک قدیم شکل تھا۔ حضرت ہاشم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ موسم کی سختی کا مقابلہ گھر بیٹھ کر نہیں بلکہ بروقت انتظامی فیصلوں سے ہوتا ہے۔ عربوں کے پاس یہ مہارت قدرت کی طرف سے ایک تحفہ تھی جسے آج کی سائنسی زبان میں “ملانکووچ سائیکلز” (Milankovitch Cycles) یعنی زمین کی گردش میں آنے والی تبدیلیوں کے اثرات کہا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے سورہ قریش میں اسی ایلاف کی تعریف کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں موسموں کو سمجھنے اور ان کے مطابق انتظام کرنے کی توفیق دی۔ نبی کریمﷺ نے بھی زراعت اور موسموں کی حکمت کو اہمیت دی، جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث (نمبر 1489) میں آتا ہے کہ آپﷺ نے ثریا ستارے کے طلوع ہونے کو پھلوں کی آفات (عاہہ) سے بچاؤ کا ایک معیار قرار دیا، جو دراصل بدلتے ہوئے موسموں کو بروقت سمجھنے کا ایک سائنسی طریقہ تھا۔
آج موسموں میں شدت آ چکی ہے اور ایک ماہ کا فرق واضح ہے۔ ایلاف کا حقیقی مفہوم ہی یہی ہے کہ موسموں کی نوعیت کو سمجھا جائے اور ان کے آنے سے پہلے ان سے بچاؤ اور حفاظتی انتظام (Protective Arrangement) کیا جائے۔ ہم سورہ قریش پر اسی وقت عملی طور پر عمل کر سکتے ہیں جب ہم اس “ایلاف” کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں:
• ذاتی اور خاندانی منصوبہ بندی:ہمیں ہر سہ ماہی (تین مہینے) اور شش ماہی (چھ مہینے) کی بنیاد پر اپنی خوراک اور ضروری اشیاء کے گوداموں کو مینج (انتظام) کرنا چاہیے۔ ایلاف کا تقاضا ہے کہ ہم سالانہ بنیادوں پر اپنے وسائل کا جائزہ لیں اور موسم کی تبدیلی سے قبل خود کو خود کفیل بنائیں۔
• محلے اور انفراسٹرکچر کا انتظام: ایلاف کی روح یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے نظام کو وقت آنے سے پہلے ٹھیک کریں۔ اپنے گھروں اور محلوں کے نکاسی آب (ڈرینج) کے نظام کو صاف کرنا، پانی کے بہاؤ کے راستوں کو وقت سے پہلے کلیئر کرنا، اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی ڈھانچے بنانا، یہ سب ایلاف کے جدید تقاضے ہیں۔
• بروقت پیشگی اقدام: ایلاف کا اصل فلسفہ یہی ہے کہ طوفان آنے کا انتظار نہ کیا جائے، بلکہ طوفان سے پہلے وہ تمام تکنیکی رکاوٹیں دور کر دی جائیں جو ہمارے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔
آج پاکستان جس موسمیاتی صورتحال سے دوچار ہے، وہ ہمارے لیے ایک بڑی تنبیہ ہے۔ ہر سال مون سون کی شدید بارشیں، غیر متوقع سیلابی ریلے، شدید برفباری اور تپتی گرمی ہماری معیشت اور جان و مال کا بھاری نقصان کر رہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے دریائی راستوں اور قدرتی ندی نالوں کے دہانوں پر غیر قانونی تعمیرات کر لی ہیں، جس نے “اربن فلڈنگ” (شہری علاقوں میں سیلاب) کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ مزید برآں، ہم نے اپنے نکاسی آب کے نظام (ڈرینج سسٹم) اور برساتی نالوں کو کچرے سے بند کر رکھا ہے، جس کے باعث معمولی بارش بھی تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ مون سون کا سیزن سر پر ہے، اور اگر ہم نے ابھی سے اپنے گھروں، گوداموں اور ندی نالوں کے بہاؤ کو صاف اور محفوظ نہیں بنایا، تو ہماری جمع پونجی اور تمام تر وسائل پانی کی نظر ہو سکتے ہیں۔ ایلاف کا تقاضا ہے کہ ہم ماضی کی غفلت کو چھوڑ کر آج ہی اپنی حفاظت کا انتظام کریں، کیونکہ بروقت تیاری ہی آفات سے بچاؤ کی واحد ضمانت ہے۔
اگر آج سے 1600 سال قبل ایک صحرائی معاشرہ ایک معاہدے کے تحت پوری دنیا کا مرکز تجارت بن سکتا ہے۔۔ تو ہم کیا کر رہے ہیں۔۔ اتنی بے کار زندگی کہ ہم اپنے ماہ و سال کو بھی ٹھیک سے پلان نہیں کر پا رہے۔۔ اور ہر سال اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ہزاروں زندگیاں اور اربوں روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔
سقراط نے کہا تھا۔۔
The unexamined life is not worth living.۔

اپنا تبصرہ لکھیں