عام آدمی کا کراچی اور پیرس کراچی/ شیر علی انجم

کراچی قیامِ پاکستان سے لے کر 1959 تک مملکتِ پاکستان کا دارالحکومت تھا۔ اس وقت کراچی کا شمار دنیا کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے شہروں میں ہوتا تھا۔ اس شہر میں آباد مندر، مسجد، میخانے، پارسی عبادت خانے، کلیسا، یہاں تک کہ یہودی عبادت خانے بھی موجود تھے۔ شہر بھر میں ایرانی کیفے تھے جہاں بغیر کسی رنگ، نسل یا مذہب کے لوگ بیٹھ کر چائے کی ہر سپ کے ساتھ عالمی اور ملکی حالات پر کھل کر گفتگو کرتے تھے۔ یہ اس شہر کی اصل پہچان تھی۔
لوگ بغیر کسی رنگ، نسل یا مذہب کا سوال کیے اس شہر کی ترقی اور تعمیر میں ہاتھ بٹاتے اور رزق کماتے تھے۔ شہر کی ٹرام سروس، انٹر سٹی ریلوے سروس اور بندر روڈ کی روزانہ صبح سویرے دھلائی اس شہر کے روشن مستقبل کی مثال تھی۔
پھر ایسا ہوا کہ ملک میں 1958 میں جنرل ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو معزول کر کے مارشل لا نافذ کر دیا اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اس قبضے کے نتیجے میں مادرِ ملت فاطمہ جناح جیسی عظیم خواتین پر نہ صرف غداری کے الزامات لگے بلکہ باقاعدہ کردار کشی کی گئی۔
ملک میں جہاں جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا، وہیں جنرل ایوب کو لگا کہ کراچی پورٹ اور انڈسٹریل شہر ہونے کے ناطے دارالحکومت کے لیے موزوں نہیں ہے۔ انہوں نے اس وقت کے جنگل نما علاقے اسلام آباد کو دارالحکومت کا انتخاب کیا اور 1960 میں دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا۔
کراچی کی سیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ ایوب خان نے نہ صرف کراچی سے دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیا بلکہ کراچی میں پشتون آبادی بڑھانے کے لیے بھی بیک چینل کے ذریعے کام کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قبائلی علاقوں اور علاقہ غیر سے لوگوں نے جوق در جوق کراچی کی طرف ہجرت کی۔ اس کی بنیادی وجہ اردو بولنے والوں (مہاجروں) کی آبادی کا تناسب کم کرنا بتایا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ نتیجتاً شہر کے تمام پہاڑی علاقوں پر قبضہ ہو گیا، کچی آبادیوں میں لاتعداد اضافہ ہوا، مگر حکومت سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔
اس دور میں جنرل ایوب کی پالیسی نے کراچی کو شدید نقصان پہنچایا تو ذوالفقار علی بھٹو کی صنعتوں کی قومی کاری (Nationalization) کی پالیسی نے اس کی کسر نکال لی۔ کراچی ترقی یافتہ شہر سے قابلِ توجہ شہر بن گیا۔ مگر پھر پیپلز پارٹی کی اٹھارہ سالہ حکومت نے کراچی کے انفراسٹرکچر کو اس قدر تباہ کر دیا کہ یہ شہر آج مافیاز کی جنت بن چکا ہے۔
اس شہر کے عوام سے گیس، بجلی اور سڑکوں کی سہولیات چھین لی گئیں۔ لینڈ مافیا، پتھر مافیا، اسٹریٹ کرائم مافیا اس شہر کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہاں قومیت اور لسانیت میں لوگ اس قدر غرق ہو گئے ہیں کہ ان تمام مسائل پر سڑکوں پر نکلنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
اس شہر کی تاریخ میں دو اچھے میئرز کو سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا: ایک جماعتِ اسلامی کے مرحوم نعمت اللہ خان صاحب اور دوسرے ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال۔ دونوں نے بغیر کسی رنگ، نسل اور مذہب کے فرق کے شہر کی ترقی اور تعمیر کے لیے کام کیا۔ آج کراچی ان دونوں ادوار سے آگے نہیں بڑھ پایا ہے۔ شہری حکومت فلج الحال ہے۔
ایک کراچی کے اندر کئی کراچی آباد ہیں۔ عام آدمی کا کراچی وہ ہے جس کے بارے میں Economist Intelligence Unit کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 173 بدترین شہروں میں کراچی 170ویں نمبر پر ہے۔
جبکہ دوسرا “پیرس کراچی” وہ ہے جس کے بارے میں پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کہتی ہیں کہ کراچی پیرس لگتا ہے۔ یعنی وہ علاقے جہاں نہ پانی کا مسئلہ ہے، نہ گیس اور بجلی جاتی ہے، نہ صفائی کا مسئلہ ہے اور نہ سیکورٹی کا۔ یہ اشرافیہ کا کراچی ہے جہاں عام آدمی کے لیے بغیر سیکورٹی چیک پوسٹ پر شناخت کے گزرنا بھی ممکن نہیں۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کی بحالی کیلئے وفاقی سطح عملی اقدامات کیا جایے ورنہ کراچی آنے والے وقتوں میں مزید بدحال ہوسکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں