رویے حقیقی زندگی کے علمبردار / ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

اگر فطری طور پر دیکھا جائے تو انسان کی ذات کا اصل پرتو اس کا رویہ ہے جو اسے مقبول یا نامقبول بناتا ہے۔تجربات و مشاہدات کسی بھی معاشرے کی کھلی تصویر ہوتے ہیں۔انھیں دیکھ کر اس بات کا حقیقی ادراک مل جاتا ہے کہ کوئی معاشرہ سماجی، مذہبی اور روحانی طور پر کتنا مضبوط ہے؟ ان سب باتوں کی جان کاری رویوں کی بدولت معلوم کی جا سکتی ہے۔کوئی شخص اپنے آپ کو خواہ کتنا ہی بڑا روحانی سوداگر کیوں نہ ظاہر کرے لیکن اگر اس کا رویہ درست نہیں تو وہ روحانیت محض لفظوں کا لباس پہنے ہوئے ہے۔حقیقت سے بہت دور ہے۔رویہ بہت سی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے۔مثلا ملنے جلنے سے، بات چیت سے ، کام اور سفر کے دوران ، گھریلو زندگی میں ، ملازمت کے دوران اور دیگر روز مرہ کے معاملات میں۔انسان اکثر روز مرہ کے معمولات سرانجام دیتا ہے۔اسے اپنے ارد گرد کے ماحول میں بہت سے لوگوں سے بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر واسطہ پڑتا ہے۔ان میں سے ہو سکتا ہے اسے کچھ اچھے لوگ میسر آئے ہوں اور بعضوں کا سماجی رویہ نا خوشگوار اثرات کا حامل ہو۔ملنے والے کو فوری طور پر سمجھ آ جاتی ہے کہ میں اس شخص کی نظر میں اچھا ہوں یا برا۔رویے کا سایہ یا دھوپ اس وقت معلوم ہوتی ہے جب کوئی اس ماحول میں سانس لیتا ہے۔پھر ماحولیاتی الودگی سے لے کر معاشرتی رویوں کی مکمل طور پر حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
انسان جس بھی ماحول اور معاشرے میں رہتا ہے۔وہ اس کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔وہاں کے سارے رسم و رواج ، اقدار و روایات اس کی فطرت کے ساتھ نتھی ہو جاتے ہیں۔وہ جیسے جیسے زندگی کے دن پورے کرتا ہے۔اپنی شخصیت کے ساتھ غیر متوازن رویوں کا بوجھ بھی اٹھاتا ہے۔اسے ذہنی کرب کے ساتھ ساتھ جسمانی دکھ بھی سہنا پڑتا ہے۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ جسم و روح کا ایک رشتہ ہے۔اگر جسم تکلیف اٹھاتا ہے تو روح کو بھی وہ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔اسی طرح اگر روح بے چین ہوتی ہے تو جسم بھی اس دکھ کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔
کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہمارے رویوں سے کتنے لوگ دل برداشتہ ہوئے اور کتنے ہمارے اخلاق سے متاثر ہوئے؟ شاید روزمرہ زندگی میں ہم نے کبھی اس بات کا جائزہ نہ لیا ہو۔لیکن حقیقت اس وقت زیادہ تلخ ہو جاتی ہے جب انسان اکیلا رہ جائے۔اس کے بیوی بچے ، رشتے دار ، گلی محلے والے اور معاشرہ اس سے منہ موڑ لے۔یہ ایک ایسے شخص کی تصویر ہے جس کے چہرے پر داغوں کی نمائش ہے، کردار سوالیہ نشان ہے، روحانیت کا دھوکہ ہے اور خود فریبی کا جال ہے۔اس جال میں پھنستے پھنستے کچھ عرصہ لگتا ہے۔پھر چہرہ داغوں سے بھرنے لگتا ہے اور کچھ ہی مدت بعد اس کے کردار کا ڈھول بجنے لگتا ہے۔جب لوگوں کے سامنے اس کا اصلی چہرہ آتا ہے تو لوگ دور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔کترا کر گزر جاتے ہیں ، بات چیت سے گریز کرتے ہیں۔
ہم سب کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ معاشرے کی پگ ڈنڈیوں پر چلنے کے لیے چہرے پر مسکراہٹ ، زبان میں قول و فعل کا توازن ، ہونٹوں پہ تالہ ، گفت و شنید میں احتیاط ، کسی کو دیکھتے ہوئے آنکھوں شرم و حیا کا سرمہ ضرور ہونا چاہیے تاکہ زندگی کا سفر خوش گوار گزرے۔کسی کی دل آزاری نہ ہو ، کسی کو ٹھیس نہ لگے۔بلکہ ہمارے ہر عمل اور رویے سے زندگی کا حقیقی عکس نظر آئے۔
اگرچہ رویہ ہر شخص کی نجی زندگی کا معاملہ ہے البتہ اسے بروئے کار لانے والے عزت و وقار کی دولت سے مالا مال ہو جاتے ہیں اور غافل رہنے والے نفرت کی خاک کو دعوت دیتے ہیں۔اگرچہ ہر انسان میں طرح طرح کی کمزوری پائی جاتی ہے۔کوئی جسمانی طور پر کمزور ہے ، کوئی روحانی طور پر ، کوئی جذباتی طور پر ، کوئی نفسیاتی طور پر ، کوئی مالی طور پر اور کوئی اپنے رویوں کی بدولت کمزور ہے۔لیکن اس کمزوری کو سالوں کا ہم سفر نہیں بنانا چاہیے۔بلکہ جلد از جلد ترک کر کے روح پرور ماحول کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ہمارے رویے ایک ایسی سمت پر حرکت کریں جہاں توازن بھی برقرار رہے اور کسی کو اذیت بھی نہ پہنچے۔یہی حسن زندگی اور حسن معاشرت ہے۔
دنیا میں کوئی بھی شخص کامل نہیں ہے۔اسے جسمانی اخلاقی اور روحانی تربیت کی ضرورت ہے۔اگر وہ ضرورت سے زیادہ اپنی عقل پر ناز کر لے تو وہ دھوکہ کھا جاتا ہے۔وہ اپنے عیبوں سے روح پوش ہو جاتا ہے۔خود کو درست سمجھنے لگتا ہے۔یہی اس کی غلطی اسے محرم سے مجرم بنا دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں