انسانیت نے رسول اکرمﷺ سے بہتر انسان نہ پیدا کیا ہے نہ رہتی دنیا تک پیدا کر سکتی ہے۔اس حقیقت کو اخلاقیات سے سماجیات تک کسی بھی کسوٹی کے لحاظ سے پرکھاجائےتو اسکی سچائی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ رسول اکرم ﷺ کی سیرت پر لکھا گیا ہے۔ لکھی جانے والی ہزاروں کتابیں، لاکھوں مضامین اور بے شمار خطبات اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔ مگر ہم اکثر سیرتِ نبوی ﷺ کو غزوات، ہجرت، فتح مکہ اور حجۃ الوداع جیسے بڑے بڑے واقعات کےتناظرمیں دیکھتے ہیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے اخلاقی پہلو، جنہوں نے ایک منتشر قبائلی معاشرے کو تاریخ کی ایک مہذب، منصف اور باکردار امت بنا دیا، اکثر ہماری توجہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بڑے تاریخی واقعات بیان کرنا نسبتاً آسان ہے- یہ قاری کی توجہ جلد کھینچ لیتےہیں۔جبکہ روزمرہ زندگی میں اعلیٰ اخلاق کے وہ پہلو جو اصل میں عرب معاشرے میں انقلاب کی وجہ بنے۔انکو اپنانا ہمیں مشکل لگتا ہے۔ حالانکہ قومیں صرف جنگیں جیت کر عظیم نہیں بنتیں بلکہ اپنے کردار، رویوں اوراقدار سے تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ اور سیرت نبوی ﷺ اسکی بہترین مثال ہے۔
الغرض حقیقت یہ ہے کہ سیرتِ طیبہ کے بعض ایسے پہلو بھی ہیں جن پر نسبتاً کم لکھا گیا ہے- حالانکہ انہیں سمجھ کر اپنی زندگی پر لاگو کیا جائے تو وہ ہمارے انفرادی کردار، سماجی رویوں اور قومی مزاج میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
آج دنیا کی معروف جامعات، کاروباری ادارے اور تربیتی مراکز ایموشنل انٹیلیجنس، ایکٹو لسنگ (Active Listening)، ہمدرد قیادت (Compassionate Leadership) اور تنازعات کے پرامن حل (Conflict Resolution) کو کامیاب اور مہذب معاشروں کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ جدید علوم نے یہ تصورات براہِ راست کہاں سے اخذ کیے ہیں، لیکن یہ حقیقت ضرور ہے کہ جن اخلاقی اصولوں کو آج جدید علوم مؤثر قیادت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں، ان کی بہترین عملی مثال رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں چودہ سو برس سے پہلے موجود تھی۔
سیرت رسول اللہ ﷺ کی ایک انقلابی خصوصیت سننے کا فن تھی۔ آپ ﷺ کسی کی بات پوری توجہ سے سنتے، اس کی طرف متوجہ رہتے اور اسے یہ احساس دلاتے کہ وہ اہم ہے۔ آج کے دور میں، جہاں ہر شخص اپنی بات منوانا چاہتا ہے مگر دوسروں کو سننے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے- اگر ہم صرف یہ ایک سنت اپنا لیں تو گھروں کے اختلافات، دفاتر کی کشیدگی اور معاشرتی تفاوت نمایاں حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح آپ ﷺ کا طرز قیادت ہمدردانہ تھا- وہ مدینہ کی ریاست تھی یا آپکا گھر۔ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ گھر کے کاموں میں اہلِ خانہ کی مدد فرمایا کرتے تھے۔ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے آپ نے کبھی خود کو کسی کام سے مبرا قرارنہیں دیا تھا۔ آج بھی اگر سربراہِ خاندان، ادارے یا ریاست خدمت اور ہمدردی کو قیادت کی بنیاد بنا لیں تو اعتماد، احترام اور محبت کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک اور انقلابی پہلو لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو جتنا حصہ ڈال سکتا ہے آسانی سے ڈال دے۔ کسی پر کوئی قدغن نہ تھی۔ بدقسمتی سے آج ہم اکثر مذہب، تعلیم، سرکاری دفاتر اور حتیٰ کہ گھریلو معاملات میں بھی دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کو اختیار یا برتری کی علامت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایک استاد اگر طالب علم کے لیے، ایک افسر شہری کے لیے اور ایک تاجر اپنے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرے تو یہی عمل معاشرے میں اعتماد اور خیرخواہی کو فروغ دے سکتا ہے۔
سیرت کا ایک روشن مگر انقلابی پہلو اختلاف کا ادب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مخالفین کے ساتھ بھی انصاف، شائستگی اور وقار کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں اختلافِ رائے چند لمحوں میں نفرت اور کردار کشی میں بدل جاتا ہے۔ اگر ہم یہ سیکھ لیں کہ دلیل دی جا سکتی ہے مگر تذلیل نہیں، تو معاشرتی ہم آہنگی کی ایک نئی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے خواتین کو بھی مشورے اور رائے کا حق دیا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت ام سلمہؓ کے دانشمندانہ مشورے پر عمل اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ایک کامیاب معاشرہ صلاحیت کو صنف کے پیمانے سے نہیں ناپتا۔ اسی طرح آپ ﷺ بچوں سے محبت کرتے، انہیں سلام کرتے، ان کے ساتھ کھیلتے اور ان کی نفسیات کا خیال رکھتے تھے۔ آج کے مصروف دور میں یہ طرزِ عمل تمام والدین کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
ماحولیات کے حوالے سے بھی سیرتِ نبوی ﷺ ہمارے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے جانوروں پر رحم کرنے کی تعلیم دی، بے وجہ درخت کاٹنے سے منع فرمایا اور درخت لگانے کی ترغیب دی۔ دریا کے کنارے بیٹھ کر بھی پانی کے بے دریغ استعمال سے منع فرمایا۔آج جب موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے تو یہ تعلیمات محض مذہبی نہیں بلکہ انسانی بقا انہیں سے وابستہ ہیں۔
رسول اللہ ﷺ خوش مزاج تھے۔ آپ ﷺ مسکراتے تھے، خوش طبعی بھی فرماتے تھے، مگر کبھی جھوٹ یا کسی کی تحقیر پر مبنی مزاح نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے غصے کو طاقت نہیں بلکہ کمزوری قرار دیا اور فرمایا کہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ اگر یہ ایک تعلیم ہی ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں اور سیاسی حلقوں میں زندہ ہو جائے تو شاید بہت سے تنازعات پیدا ہونےسے پہلے ہی ختم ہو جائیں۔
نبوت سے پہلے بھی اہلِ مکہ آپ ﷺ کو الصادق اور الامین کے لقب سے پکارتے تھے۔ سچائی، وعدے کی پابندی اور امانت داری وہ اوصاف تھے جنہوں نے آپ ﷺ کو لوگوں کے دلوں میں جگہ دی۔ اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر، جب انتقام لینا ممکن تھا، آپ ﷺ نے عام معافی کا اعلان کر کے یہ ثابت کیا کہ دلوں کو فتح کرنے کا راستہ انتقام نہیں بلکہ عفو و درگزر ہے۔ آج اگر ہم صرف سچائی، امانت، وعدے کی پابندی اور معاف کرنے کی قوت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہمارے معاشرے کے بے شمار اخلاقی اور سماجی مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔
ہم مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انقلاب اور سائنسی ترقی کے دور میں جی رہے ہیں، مگر انسان کے بنیادی اخلاقی مسائل آج بھی وہی ہیں: بے اعتمادی، عدم برداشت، خود غرضی، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، ذہنی تنہائی اور سماجی تقسیم۔ ان مسائل کا حل صرف نئی ٹیکنالوجی یا نئے قوانین میں نہیں بلکہ ایسے کردار کی تعمیر میں ہے جو دوسروں کو عزت دے، آسانی پیدا کرے، اختلاف میں شائستگی اختیار کرے، خواتین اور بچوں کا احترام کرے، ماحول کی حفاظت کرے، سچ بولے، وعدہ نبھائے اور معاف کرنا جانتا ہو۔
شاید یہی سیرتِ نبوی ﷺ کےوہ پہلو ہیں جن پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت صرف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ان کے اخلاق کو اپنی زندگی میں زندہ کرنے کا نام ہے۔ جب ایسا ہوگا تو سیررتِ نبوی ﷺ کتابوں میں نہیں، ہمارے کردار، ہمارے گھروں، ہمارے اداروں اور ہمارے معاشرے میں بھی نظر آئے گی، اور یہی کسی بھی امت کی حقیقی کامیابی ہے۔


