پانچ وارڈ کی ادبی بیٹھک/ آغر ندیم سحر

منڈی بہائوالدین کی شعری فضا میں حکیم افتخار فخر اور حکیم ربط عثمانی کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا رہے گا۔گوکہ اخیر عمر میں ان دونوں ہستیوں کے آپس میں اختلاف پیدا ہوئے مگر دونوں نے اپنے تئیں اس شہر کی ادبی فضا کو خاصی رونق بخشی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ۲۰۰۸ء کا کوئی گرم دن تھا جب پیارے وحید گجن کے توسط سے حکیم صاحب سے ملاقات ہوئی اور میں ان کی ادبی بیٹھک کا ممبر بن گیا۔ پانچ وارڈ کی اس ’’ادبی بیٹھک ‘‘کا منظر بھی کیا عجیب تھا ‘ ایک فرسودہ کمرہ ‘ایک ٹوٹا ہوا لکڑی کا ٹیبل جس پر سینکڑوں نسخے‘پھکیوں اور معجونوں کی ڈبیاں‘ایک ٹوٹا ہوا کپ جو ’’ایش ٹرے‘‘ کا کام کرتا تھا‘جگ کی جگہ ایک خالی بوتل جس میں وہ ساتھ والے فلٹریشن پلانٹ سے پانی منگوا کر رکھ لیتے تاکہ وقتاً فوقتاً پینے کے کام آتا رہے۔دو چارپائیاں ہوتی تھیں ‘ایک اپنے لیے اور ایک مہمان داری کے لیے۔ایک ٹوٹی ہوئی کرسی بھی ہوتی تھی‘اور ہاں ہر چیز پر اتنی مٹی جمی رہتی کہ جوبھی دوست آتا پہلے جھاڑ کر اپنی جگہ صاف کرتا اور پھر بیٹھتا‘کئی دفعہ رمضان اور میں مل کر دونوں صفائی بھی کر دیا کرتے مگر حکیم جی منع ہی کرتے رہتے کہ ’’یار رہنے دو میری طبیعت سنبھل جائے میں خود ہی کر لوں گا‘‘۔ان دنوں میں ایک علاقائی اخبار میں مستقل کالم لکھتا تھا‘میں نے وہ اخبار حکیم صاحب کے لیے ایک اعزازی کاپی(جو میرے حصے کی ہوتی تھی) بھی لگوا دی۔جس دن میرا کالم ہوتا ‘میرے جانے سے پہلے میرا کالم پڑھ کے میرے انتظار میں ہوتے اور جب ملتے تو پہلے کالم پر خوب بحث کرتے ‘جب بحث سے تھک جاتے تو یہ کہہ کر مسکرا دیتے کہ’’ویسے کالم اچھا تھا‘‘۔

مجھ سے بے تحاشا محبت کرتے تھے‘میری نوکری سے لے کر میری پڑھائی تک ہر چیز کی فکر کرتے اور روزانہ مجھ سے پوچھتے کہ’’نوکری کیسی جا رہی ہے‘کوئی تنخواہ بڑھانے کی بات کی کہ نہیں‘یار تم اتنی محنت کرتے ہو تمہیں اس کا معاوضہ تو اچھا ملنا چاہیے‘اچھا پڑھائی کیسی جا رہی ہے‘آج کل تم پڑھائی پر توجہ نہیں دے رہے‘دیکھو آغر میاں شاعری تو چلتی ہی رہے گی اپنی پڑھائی پہلے رکھو وغیرہ وغیرہ۔۔۔‘‘یہ وہ سوالات تھے جن کا مجھے روزانہ نہیں تو ہردوسرے دن لازمی جواب دینا ہوتا اور اگر کوئی جواب میں گول مول کرتا تومحبت بھرا غصہ کرتے کہ ’’یار آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو‘سچ بتائو کیا بات ہے ‘‘ اور محبت کی انتہا دیکھیں کہ کبھی میں پریشان ہوتا تو جاتے ہی پہچان جاتے اور پوچھنے لگ جاتے اورجب تک پریشانی کی وجہ نہ بتاتا پوچھتے رہتے۔مجھے یاد ہے جب میرے والد کی وفات ہوئی تو کچھ دن بعد جب ان کے مطب پہ گیا تو مجھے گلے لگا کے رو پڑے اور خوب روئے اور ساتھ ساتھ کہتے رہے ’’دیکھو وہ کمی تو پوری کوئی نہیں کر سکتا مگر جہاں تک مجھ سے ہو سکی میں ہر طرح سے تمہاری مدد کروں گا‘ جہاں میری ضرورت ہوئی بتانا اور جھجکنا مت۔۔۔۔‘‘اور بہت ساری باتیں کیں جو اب لکھ نہیں پا رہا۔

حکیم صاحب کہا کرتے کہ مجھے غفور کی اور تمہاری بہت فکر رہتی ہے (عبد الغفور ان کا منہ بولا بیٹا جس کے ساتھ عمر کے آخری تیس سال گزارے)۔ایک دن کہنے لگے کہ میں نے عبد المجید چراغؔ کے بیٹے کو کہا ہے کہ آپ دونوں کے ویزے کا کوئی بندوبست کرے‘میں پیسوں کا کچھ کر ہی لوں گا‘میں چاہتا ہوں آپ دونوں جلدی کامیاب ہو جائو۔ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل ہی ان سے رابطہ کم ہو گیا تھا‘ لاہور آیا ملاقاتیں بھی ختم ہو کر رہ گئی‘آخری ملاقات (ان کی وفات سے) چار ماہ قبل ہوئی تھی جس میں انہیں کچھ تازہ کلام سنایا اور اپنی لاہور کی زندگی کے بارے بتایا۔مگر اس ملاقات میں ان کا چہرہ بہت مرجھایا ہوا تھا‘میں نے پوچھا بھی کہ سر طبیعت زیادہ تو نہیں خراب رہتی تو ہنس کے کہنے پڑے ’’یارمیں تو ہمیشہ سے ہی ایسا ہوں‘‘۔‘قیاس کہہ رہا تھا کہ جب میں آخری دفعہ ان سے ملا تو کہنے لگے کہ’’ قیاس مجھے لگتا ہے کہ وقت ختم ہو گیا ہے‘‘۔میری بھی ان سے آخری کال پر بات ان کی وفات سے بارہ دن قبل ہوئی تھی‘مجھے کہنے لگے’’آغر واپس کب آئو گے‘میں نے کہا سر بس ایک ماہ تک‘کہنے لگے پھر تو ہماری ملاقات نہیں ہو سکے گی‘چلو دعائوں میں یاد رکھنا اور دل لگا کر پڑھائی کرو۔۔۔‘‘مجھے لگا کہ پہلے کی طرح ہی تھوڑے بہت بیمار ہیں ‘ٹھیک ہو جائیں گے مگر مجھے کیا پتا تھا کہ واقعی دوبارہ ملاقات روزِ محشر میں ہی ہو گی۔

کئی موقعوں پر میرے ان سے اختلاف بھی رہے اور ناراضیاں بھی چلتی رہتیں مگر یہ سب وقتی ہوتا تھا‘دل سے کبھی نہ میں ان سے ناراض ہوا ور نہ کبھی انہوں نے دل میں کدورت رکھی۔ان کے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ استاد روحانی باپ ہوتا ہے جیسا کہ وہ میرے لیے تھے‘شاعری سے لے کر دنیا داری تک بہت ساری باتیں انہوں نے مجھے سکھائیں۔زندگی کے بہت سارے معاملات میں میری راہنمائی کی اور مجھے حوصلہ دیا۔سردیوں میں حکیم جی ادبی بیٹھک میںبہت کم بیٹھتے تھے‘میں جاتا تو ہم دونوں بیٹھک بند کر کے ریلوے لائن پہ ٹریک کے ساتھ بنے گرائونڈ میں بیٹھ جاتے اور گھنٹوں وہاں بیٹھے رہتے‘میری کئی غزلوں کی اصلاح منڈی بہائوالدین کے ریلوے اسٹیشن اور ٹریک کے ساتھ بنے گرائونڈ میں ہوئی۔۵ اگست ۲۰۱۶ء کو یہ عظیم شاعر‘دوستوں کا دوست اور انتہائی شفیق استاد اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا اور اپنے پیچھے ایک نا ختم ہونے والی داستاں چھوڑ گیا جسے زمانہ مدتوں پڑھتا رہے گا۔میں آج سات برس گزرنے کے بعد بھی انہیں شدت سے یاد کرتا ہوں،اب منڈی بہاء الدین میں میرے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں جہاں وقت گزاروں،پانچ وارڈ کی ادبی بیٹھک بھی بند ہو چکی اور اب وہاں خاموشی ہے،مکمل خاموشی۔

آخر میں حکیم صاحب کا ہی شعر ملاحظہ کریں:
امیرِ شہر کی تدفین پہ جمِ غفیر آیا
نہیں ملتا کسی کو وقت گر مفلس کا دم ٹوٹے

اپنا تبصرہ لکھیں