خدا کی تلاش میں اٹلی کا سفر/محمود اصغر چوہدری

بعض پانیوں میں وفاداری کی تاثیر ہوتی ہے اور کچھ خطوں کی مٹی کا اپنا ہی اثر ہوتا ہے۔ کچھ ثقافتوں کا خمیر محبت، خلوص اور دوستی سے اٹھایا جاتا ہے۔اٹلی بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری سے جب بھی ملنا ہوا، بالکل وہی احساس بیدار ہوا جو بچوں کو اپنے ننھیال جا کر ہوتا ہے۔
میں اپنے دوست چودھری شفاقت علی اور راجہ عامر مقصورد کے ہمراہ اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے لیے جب مانچسٹر سے اٹلی پہنچا تو میزبانی کرنے والے مخلص دوستوں کے فون اور میسجز کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وقت کی کمی اور مصروفیت کے باعث بہت سے احباب کو ناراض بھی کرنا پڑا، لیکن کیا کرتے… وقت کم تھا اور مقابلہ سخت! مجھے اپنی کتاب کی رونمائی کرنی تھی۔ مقصد بڑا تھا اور اس کے لیے محنت بھی شرط تھی۔
اس سلسلے میں جہاں مجھےایک جانب اپنے عزیز دوست محمد انور کی معاونت حاصل تھی، تووہیں دوسری جانب تقریب کے منتظم اور سماجی شخصیت عمران روم نے بھی دن رات ایک کر رکھا تھا۔ اٹلی کے ہر شہر اور علاقے سے آئے ہوئے مہمانوں کو علاقے کے بہترین اور شاندار ہال میں بٹھانا اور ان کے لیے پرکشش ضیافت کا اہتمام کرنا اپنے آپ میں ایک صبر آزما اور عظیم کام تھا۔
پہلے دن کا آغاز مجھے اس مسجد سے کرنے کی سعادت ملی جو ہم نے بحیثیتِ پاکستانی برادری، مقامی بلدیہ سے حاصل کی تھی۔ اس وقت میں پاکستانی برادری کا صدر تھا۔ اپنے ہی ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودے کے سایہ تلے بیٹھ کر جو قلبی سکون ملتا ہے، وہی بے ساختہ احساس مجھے بھی ہوا؛ اور یہ جان کر مزید مسرت ہوئی کہ اس کی تزئین و آرائش میں کوریجو کی برادری حافظ محمد آصف کی سربراہی میں مزید فعال کردار ادا کر رہی ہے
سہ پہر کو حافظ آصف اور احمدمغل کے ساتھ ملاقات ایک غیر معمولی، حیرت انگیز اور خوشگوار تجربہ رہی۔ حافظ آصف صاحب کا اس کتاب کی تیاری سے لے کر تکمیل تک بہت بڑا ہاتھ ہے۔ شام کو چوہدری مختار بدھووال نے ایک پرشکوہ اور پرخلوص رات کے کھانے کا اہتمام کیا جس میں پرانی یادیں تازہ ہوئیں۔ اس موقع پر اطالوی ثقافت اور ان کے روایتی کھانے کا ایک منفرد انداز بھی سامنے آیا؛ جب شیف نے مچھلی پکانے سے قبل باقاعدہ تازہ مچھلی دکھائی کہ وہ اسے تیار کرنے جا رہا ہے۔ اسی ضیافت میں قیصر ندیم سے ملاقات ہوئی جو اٹلی میں ڈیجیٹیل فوٹو گرافی اور آرٹ کے میدان میں اپنا نام بنا رہے ہیں۔ عمران یوسف جیسے متحرک نوجوان اور مختار بدھووال کے صاحبزادے سے بھی گفتگو رہی جو نہایت خوشگوار اور باہم مسرت کا باعث تھی۔
دوسرے دن، ‘پاکستان پریس کلب آف اٹلی’ کے سرپرستِ اعلیٰ محمد الیاس قادری نے “دورِ جدید میں صحافت کو درپیش مسائل” کے موضوع پر ایک خصوصی نشست اور دوپہر کے کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اس نشست میں اٹلی کے ممتاز صحافیوں صدر پر یس کلب تنویر ارشاد، زاہد زمان، عارف علی عارف اور راجہ عبدالغفار سمیت چوہدری امجد رولیہ (چیئرمین پاک فیڈریشن اٹلی) اور جرمنی سے خصوصاً تشریف لائے ہوئے میرے استاد اور صدر ‘پاکستان اوورسیز الائنس فورم’ اعجاز حسین پیارا نے خصوصی شرکت کی۔
کتاب کی تقریبِ رونمائی کے ہال میں داخل ہوا تو ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ حسین بھٹی کی محبتوں کا اعجاز تھا کہ وہاں اطالوی شہریوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ وہاں موجود پاکستانیوں پر نظر ڈالی تو ہر چہرے کو دیکھ کر وہی بے ساختہ خوشی حاصل ہوئی جو کسی بچھڑے ہوئے دیرینہ دوست سے مل کر ہوتی ہے۔ شفیق بٹ، میاں آفتاب احمد، سید سجاد حسین بخاری، چوہدری اجمل گوٹریالہ، ملک تنویر، ثاقب منظور، سجاد بھٹی، عامر گوندل ،احسان الہی پیارا، چوہدری گلزار احمد دوچھہ ۔، چودھری خالد غازی پور ،تنویر اصغر سمیت اٹلی کے گوشے گوشے سے جیسے معززین اکٹھا ہو چکے تھے ۔تقریب میں قونصل جنرل مراد بصیر خصوصاً اپنا قیمتی وقت نکال کر تشریف لائے۔ ایک ایک لمحہ اور ایک ایک شخصیت سے مل کر بے پناہ مسرت حاصل ہوئی۔اسد تارڑ نے اردو میں جس طرح کمپئیرنگ کی اور حسنین بھٹی نے جس طرح اطالوی تقریب کا سنبھالا وہ کمال تھا
میرے پرانے دوست چوہدری شہزاد امرہ نے اپنے شہر روینا میں ایک خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیا۔ ہر بار کی طرح وہی خلوص، وہی محبت اور وہی چاشنی نظر آئی جو ان کی انسان دوستی کا طرۂ امتیاز ہے۔ ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور حسنِ اخلاق ان کی سچی شناخت ہے۔ شام کو چیئرمین پاک فیڈریشن اٹلی امجد رولیہ اور صدر آصف رضا نے بولونیا میں خصوصی ضیافت کا اہتمام کیا۔ ان کے ساتھ ملاقات میں ماضی کے قصے چھڑے تو ایک ایسا انوکھا اور سحر انگیز احساس بیدار ہوا جسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔
رات ایک بجے جب ہم کارپی پہنچے تو منہاج القرآن کے مہتمم رئیس صاحب نے اس وقت مرکز کا دروازہ کھولا اور میری کتاب کے حوالے سے جن تاثرات کا اظہار کیا اور ویڈیو ریکارڈ کروائی، وہ میرے لیے کسی اثاثے سے کم نہیں۔علمائے کرام کی پذیرائی اور راہنمائی مجھے اس حساس موضوع پر لکھتے ہوئے ہمیشہ ہی درکار رہے گی ۔ اللہ کرے یہ کتاب جس کا عنوان ہی خدا کی تلاش میں ہے ۔اٹلی میں مسلمانوں کے خلاف بغض میں کمی کا باعث بنے
اس کتاب کو جو پذیرائی اور محبت مل رہی ہے، اس کا نتیجہ ہے کہ اس کے نسخے نایاب ہو چکے ہیں۔ اسی لیے اب میں اسے ایمزون پرائم پر آن لائین بھی شائع کرنے جا رہا ہوں تاکہ یہ ہر گھر، ہر محلے اور ہمارے تمام اطالوی دوستوں تک آسانی سے پہنچ سکے۔
آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس کتاب کو اٹلی کے ہر ایک شہری تک پہنچایا جائے، اور یہ اب ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیونکہ نفرتوں، تفریق اور تقسیم کے اس پُرفتن دور میں صرف دوستی، باہمی احترام اور پرامن مکالمہ ہی تمام مسائل کا حقیقی اور پائیدار حل ہیں
#محموداصغرچودھری

اپنا تبصرہ لکھیں