الفت لب گور/عمران الرحمن خان

زندگی کی ڈھلتی ہوئی شام میں جب سائے طویل ہونے لگتے ہیں اور انسان اپنی تھکن سمیٹ کر خاموشی کی طرف مائل ہوتا ہے، تو اچانک کسی دستک کا سنائی دینا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب زندگی کے بیشتر ہنگامے دم توڑ چکے ہوتے ہیں اور دل کی بنجر زمین کسی ایسی نمی کی طلبگار ہوتی ہے جو اسے دوبارہ سے زندہ محسوس کروا سکے۔ اس عمر میں ہونے والی محبت جوانی کی دیوانگی جیسی نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک گہرا ٹھہراؤ، ایک خاموش ہمدردی اور ایک ایسا لمس ہوتی ہے جو روح کے ان حصوں کو چھو لیتا ہے جہاں برسوں کی گرد جمی ہوتی ہے۔ یہ وہ محبت ہے جس میں ہم کسی کا چہرہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ گزرنے والے پلوں میں سکون تلاش کرتے ہیں۔

لیکن جب اسی ڈھلتی شام میں وہ سہارا بھی ہاتھ سے چھوٹ جائے، تو دکھ کی شدت ناقابلِ بیان ہوتی ہے۔ جوانی میں بچھڑنا ایک نئی شروعات کی امید رکھتا ہے، مگر ڈھلتی عمر کا بچھڑنا ایک ابدی تنہائی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے چراغِ سحر بجھ گیا ہو اور اب باقی ماندہ سفر صرف اندھیروں اور یادوں کے بوجھ تلے ہی کٹنا ہے۔ یہ دکھ صرف ایک انسان کو کھو دینے کا نہیں ہوتا، بلکہ اس آخری امید کے ٹوٹنے کا ہوتا ہے جو ہمیں بتاتی تھی کہ ہم ابھی باقی ہیں۔ اس محرومی میں ایک عجیب سی بے بسی ہوتی ہے، کیونکہ اب نہ تو وقت کے پاس واپس مڑنے کا راستہ ہوتا ہے اور نہ ہی دل میں کسی نئے مسافر کی گنجائش بچتی ہے۔

زندگی کی یہ شام پھر ایک طویل انتظار کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جہاں ہر گزرتی گھڑی اس کھوئی ہوئی محبت کی بازگشت بن جاتی ہے۔ یہ دکھ انسان کو اندر سے بالکل خاموش کر دیتا ہے، کیونکہ اب کہنے کو کچھ باقی نہیں رہتا اور سننے والا اب کسی اور راہ کا مسافر بن چکا ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر تنہائی صرف کمرے کی خاموشی نہیں ہوتی، بلکہ وہ سناٹا ہوتا ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ کو معلوم ہو کہ اب کوئی آپ کا حال پوچھنے نہیں آئے گا۔ محبت کا مل کر کھو جانا، ڈھلتی عمر کے اس دور میں ایک ایسی کسک چھوڑ جاتا ہے جو آخری سانس تک رگ و پے میں سرایت کیئے رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں