ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کا مسئلہ ہر سال نئی شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ احتجاج ہوتے ہیں، سیاسی بیانات دیے جاتے ہیں، ایک دوسرے پر الزام تراشی کی جاتی ہے اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر فلاں جماعت اقتدار میں نہ ہوتی یا فلاں رہنما نے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا تو آج ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتا۔ مگر جب جذبات سے ہٹ کر تاریخ، آئین، پارلیمانی کارروائی اور قانونی حقائق کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سیاسی نعروں اور وقتی بیانات کے شور میں مسلسل دھندلا دیا جاتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ملاکنڈ ڈویژن کا ٹیکس استثنا نہ کسی ایک حکومت کی عطا تھا اور نہ ہی کسی ایک سیاسی جماعت نے اسے ختم کیا۔ اس کی بنیاد اس تاریخی اور آئینی حیثیت میں پیوست تھی جو ریاستِ سوات، دیر اور چترال کے پاکستان میں انضمام کے بعد اس خطے کو حاصل رہی۔ درحقیقت ان ریاستوں میں پاکستان کے موجودہ مالیاتی نظام سے مختلف اپنا الگ ٹیکس اور انتظامی ڈھانچہ رائج تھا، اسی لیے وفاقی ٹیکس قوانین یہاں نافذ نہیں ہوتے تھے۔ 1969 میں ان ریاستوں کے پاکستان میں انضمام کے بعد بھی یہ خصوصی حیثیت برقرار رہی اور بعد ازاں 1973 کے آئین میں پاٹا (PATA) کی آئینی حیثیت نے اس خصوصی مالیاتی نظام کو مزید آئینی تحفظ فراہم کیا۔
یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ 2018 پہلی مرتبہ نہیں تھا جب اس استثنا کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سے قبل بھی مختلف ادوار میں ایسے اقدامات کیے گئے، مگر سیاسی حالات، قانونی پیچیدگیوں اور عوامی ردعمل کے باعث وہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ اسی لیے ملاکنڈ ڈویژن بدستور ٹیکس سے مستثنیٰ رہا۔
اس ضمن میں ملاکنڈ کے عوام، تاجروں اور مختلف سیاسی شخصیات کا ایک مستقل مؤقف بھی موجود ہے کہ ریاستوں کے انضمام کے وقت ہونے والے معاہدے کے تحت اس علاقے کو خصوصی آئینی و انتظامی حیثیت اور ٹیکس استثنا حاصل ہے۔ اس مؤقف کی تاریخی اور قانونی بنیادوں پر میں اپنی سابقہ تحریر “قبائلی علاقوں کا ٹیکس استثنا: اصل حقائق” میں تفصیل سے مدلل گفتگو کر چکا ہوں، اس لیے یہاں اس بحث کو دہرانے کے بجائے صرف اتنا عرض کرنا کافی ہے کہ اس دعوے کو سمجھے بغیر موجودہ صورتِ حال کو مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔
البتہ ایک حقیقت ایسی ہے جس سے اب اختلاف ممکن نہیں۔ ٹیکس استثنا کا آئینی یعنی de jure خاتمہ 2018 میں ہو چکا ہے۔ یہی اس پورے معاملے کا بنیادی نکتہ ہے جسے سیاسی مباحث میں اکثر دانستہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ آج مختلف جماعتیں ایک دوسرے پر الزام عائد کرتی ہیں، مگر بہت کم لوگ یہ بتاتے ہیں کہ آخر وہ مرحلہ کون سا تھا جس نے پہلی مرتبہ ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس استثنا کی قانونی بنیاد کو ختم کیا، اور اس وقت پارلیمان میں بیٹھے ہوئے منتخب نمائندوں نے اس تاریخی تبدیلی کے دوران کیا کردار ادا کیا۔
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ضروری ہے کہ 24 مئی 2018 کی پارلیمانی کارروائی کو جذبات کے بجائے سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اسی روز قومی اسمبلی میں اس وقت کے وفاقی وزیرِ قانون و انصاف چوہدری محمود بشیر ورک نے آئین میں ترمیم کا وہ بل پیش کیا جس پر کافی عرصے سے کام جاری تھا۔ یہی بل بعد ازاں پچیسویں آئینی ترمیم کی صورت میں منظور ہوا اور فاٹا کے انضمام کے ساتھ ساتھ پاٹا، بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن، کی آئینی حیثیت میں بھی بنیادی تبدیلی کا باعث بنا۔
بل پیش ہونے کے بعد اس پر تفصیلی بحث ہوئی۔ نعیمہ کشور خان، بلال الرحمٰن، انجینئر داور خان کنڈی، محمد جمال الدین، نسیمہ حفیظ پانیزئی، شاہدہ اختر علی، عبدالقہار خان ودان اور فاروق ستار نے اظہارِ خیال کیا۔ ہر رکن نے اپنی سیاسی سوچ اور آئینی فہم کے مطابق ترمیم کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ کسی نے انتظامی مسائل کی نشاندہی کی، کسی نے آئینی نکات اٹھائے اور کسی نے مستقبل میں پیدا ہونے والے چیلنجز کی طرف توجہ دلائی، لیکن حیرت انگیز طور پر ملاکنڈ ڈویژن پر اس ترمیم کے ممکنہ آئینی، مالیاتی اور معاشی اثرات، خصوصاً ٹیکس استثنا کے خاتمے، پر وہ توجہ دکھائی نہیں دی جس کی اس مرحلے پر شدید ضرورت تھی۔
بحث مکمل ہوئی تو رائے شماری کا مرحلہ آیا۔ ووٹنگ سے قبل حکومتی اتحادی جماعتیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی، احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر گئیں۔ اس کے بعد 342 رکنی قومی اسمبلی میں بل پر ووٹنگ ہوئی، جس میں 229 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ آیا۔ یہ ووٹ انجینئر داور خان کنڈی کا تھا، جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا، تاہم انہوں نے اپنی جماعت کے فیصلے کے برعکس اس آئینی ترمیم کی مخالفت کی۔ اسمبلی کی کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ اس ترمیم کے خلاف مؤثر مزاحمت عملاً موجود نہیں تھی۔
بل کی منظوری کے بعد پوائنٹ آف آرڈر پر اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، عمران خان، شاہ محمود قریشی، سید نوید قمر، سید خورشید شاہ، نواب یوسف تالپور اور صاحبزادہ طارق اللہ نے اظہارِ خیال کیا۔ ان تقاریر میں آئینی ترمیم کے مختلف پہلو زیرِ بحث آئے، تاہم ملاکنڈ ڈویژن کے تناظر میں صاحبزادہ طارق اللہ کی تقریر خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ قومی اسمبلی کی کارروائی مورخہ 24 مئی 2018 کے صفحہ 136 کے آخری پیراگراف سے لے کر صفحہ 138 کے پہلے پیراگراف تک ان کی تقریر درج ہے۔ انہوں نے فاٹا کی طرح پاٹا کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیجز اور مراعات کی ضرورت پر زور دیا، مگر ٹیکس استثنا کے خاتمے کو ایک بنیادی آئینی مسئلے کے طور پر نمایاں نہیں کیا۔
اس موقع پر ملاکنڈ ڈویژن کی پارلیمانی نمائندگی پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اُس وقت کی حلقہ بندی کے مطابق بونیر سے شیر اکبر خان، دیر بالا سے صاحبزادہ طارق اللہ، دیر پائین سے صاحبزادہ محمد یعقوب، سوات ون سے مراد سعید، سوات ٹو سے سلیم رحمان، ملاکنڈ سے جنید اکبر، شانگلہ سے عباد اللہ اور چترال سے افتخار الدین قومی اسمبلی کے ارکان تھے۔ یہی وہ منتخب نمائندے تھے جن پر اپنے علاقے کے آئینی، معاشی اور قانونی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
24 مئی 2018 کی حاضری فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبزادہ محمد یعقوب کے علاوہ ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ارکان اجلاس میں موجود تھے۔ گویا نمائندگی موجود تھی، لیکن اس نمائندگی کی آواز اس شدت سے سنائی نہیں دی جس کی جتنی ضرورت تھی۔ نہ کسی نے ٹیکس استثنا کے ممکنہ خاتمے کے اثرات کو پوری قوت سے اجاگر کیا، نہ اس حوالے سے کوئی واضح آئینی ضمانت طلب کی اور نہ ہی کارروائی کا ایسا مضبوط حصہ بن سکے جسے بعد میں ملاکنڈ کے عوام اپنے مؤقف کی تائید میں بطور بنیاد پیش کر سکتے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں تاریخ ایک اہم سوال اٹھاتی ہے۔ اگر اس وقت منتخب نمائندے اس معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے، پارلیمنٹ کے فلور پر اس پر تفصیلی بحث کرتے، اپنے تحفظات واضح انداز میں ریکارڈ کراتے یا کم از کم ملاکنڈ کی خصوصی آئینی حیثیت کے تحفظ کے لیے واضح ضمانت کا مطالبہ کرتے تو شاید آج اس بحث کی نوعیت مختلف ہوتی۔ مگر دستیاب پارلیمانی کارروائی اس حوالے سے خاموش ہے، اور بعض اوقات تاریخ میں خاموشی بھی ایک مؤقف تصور کی جاتی ہے۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے اگلے ہی روز، یعنی 25 مئی 2018 کو یہی آئینی ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا۔ وہاں بھی اس پر تفصیلی بحث ہوئی اور متعدد سینیٹرز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ محمد عثمان خان کاکڑ، میاں رضا ربانی، محمد اعظم خان سواتی، محمد علی خان سیف، ستارہ ایاز، شیری رحمان، مولانا عبدالغفور حیدری اور سراج الحق ان نمایاں مقررین میں شامل تھے جنہوں نے ترمیم کے مختلف آئینی، سیاسی اور انتظامی پہلوؤں پر گفتگو کی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چند تحفظات کے باوجود اکثریت نے اس آئینی ترمیم کی حمایت کی اور اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔
ملاکنڈ ڈویژن کے حوالے سے سینیٹر سراج الحق کی تقریر خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ترمیم کی اصولی حمایت کرتے ہوئے اختتام پر حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی مراعات اور رعایتوں کو برقرار رکھا جائے۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ اہم تھا، تاہم سینیٹ کی کارروائی سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ٹیکس استثنا کو مستقل آئینی تحفظ دینے کا کوئی دوٹوک مطالبہ پیش کیا گیا ہو۔
بحث کے اختتام پر 104 رکنی سینیٹ میں رائے شماری ہوئی۔ بل کے حق میں 71 ووٹ آئے، جبکہ مخالفت میں صرف 5 ارکان نے ووٹ دیا۔ قومی اسمبلی کی طرح یہاں بھی جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ یوں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے مطلوبہ آئینی اکثریت سے اس ترمیم کی توثیق کر دی۔
تاہم آئینی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ چونکہ اس ترمیم کے نتیجے میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حدود میں تبدیلی واقع ہو رہی تھی، اس لیے آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت خیبر پختونخوا اسمبلی سے بھی اس کی منظوری ناگزیر تھی۔ اس وقت صوبے میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مشترکہ حکومت قائم تھی، جبکہ اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے باعث 31 مئی 2018 کو تحلیل ہونے والی تھی۔ وقت کی کمی کے پیشِ نظر غیر معمولی عجلت میں یہ ترمیم صوبائی اسمبلی سے بھی منظور کرائی گئی اور بعد ازاں صدرِ مملکت کی توثیق کے ساتھ پچیسویں آئینی ترمیم، آئین کا باقاعدہ حصہ بن گئی۔
اسی مرحلے پر ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس استثنا سے متعلق سب سے بنیادی آئینی تبدیلی رونما ہوئی۔ پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد پاٹا کی وہ آئینی بنیاد، جس کے سہارے اس علاقے کی خصوصی انتظامی اور مالیاتی حیثیت قائم تھی، ختم ہو گئی۔ دوسرے لفظوں میں، ٹیکس استثنا کی قانونی (de jure) بنیاد باقی نہیں رہی۔ اس کے بعد اگر کسی قسم کی رعایت یا استثنا برقرار رہا تو وہ آئینی حق کے طور پر نہیں بلکہ حکومت کی انتظامی پالیسی اور عارضی قانونی اقدامات کے نتیجے میں رہا۔
اسی وجہ سے 2018 کے بعد عوامی احتجاج، تاجروں کے تحفظات، سیاسی دباؤ اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے مختلف نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے ٹیکس کے نفاذ کو مؤخر کیا یا محدود مدت کے لیے رعایتیں فراہم کیں۔ ہر سال یہ امید پیدا ہوتی رہی کہ شاید اس مرتبہ بھی استثنا برقرار رہے گا، مگر حقیقت یہ تھی کہ یہ رعایتیں مستقل آئینی تحفظ نہیں بلکہ عارضی انتظامی فیصلے تھے۔ ان کی قانونی حیثیت کسی دائمی استثنا کی نہیں تھی، اس لیے حکومت انہیں اپنی پالیسی کے مطابق جاری بھی رکھ سکتی تھی اور واپس بھی لے سکتی تھی۔
اس حقیقت کی مزید تائید فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 2 اگست 2025 کے سرکلر نمبر C. No. 2/1-STB/2025 سے بھی ہوتی ہے۔ اس سرکلر کے پیرا نمبر 29 میں پاٹا میں سیلز ٹیکس کے مرحلہ وار نفاذ کا باقاعدہ طریقۂ کار وضع کیا گیا۔ اس کے مطابق مالی سال 2025-26 میں 10 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیا جانا تھا، جس کے بعد ہر سال تدریجی اضافہ کرتے ہوئے 2029 تک ان علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح مکمل 18 فیصد سیلز ٹیکس کے نظام میں شامل کیا جانا تھا۔ اس سے یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ حکومتی پالیسی کا مقصد مستقل استثنا برقرار رکھنا نہیں بلکہ ایک مقررہ مدت کے دوران بتدریج مکمل نفاذ کی طرف جانا تھا۔
بالآخر ٹیکس کے باقاعدہ نفاذ کی صورتِ حال سامنے آ گئی۔ اس پر اختلافِ رائے ہو سکتا ہے کہ حکومت نے وقت کا درست انتخاب کیا یا نہیں، عوامی تحفظات کو مطلوبہ اہمیت دی یا نہیں، یا نفاذ سے قبل متبادل معاشی پیکیج فراہم کیا جانا چاہیے تھا یا نہیں۔ یہ تمام سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جس آئینی بنیاد پر استثنا قائم تھا، وہ 2018 میں ختم ہو چکی۔ اسی لیے موجودہ نفاذ کسی نئے آئینی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ 2018 میں ہونے والی آئینی تبدیلی کا عملی اور انتظامی تسلسل ہے۔
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملاکنڈ ڈویژن کو دوبارہ وہی آئینی حیثیت یا مکمل ٹیکس استثنا حاصل ہو سکتا ہے جو 2018 سے پہلے موجود تھا؟ قانونی نقطۂ نظر سے اس کا جواب آسان نہیں۔ جب کسی حق یا استثنا کی آئینی بنیاد ختم ہو جائے تو اسے سابقہ شکل میں بحال کرنے کے لیے بھی اسی درجے کا آئینی اقدام درکار ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی حکومت یا ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب نمائندے اس علاقے کو دوبارہ سابقہ آئینی حیثیت دینا چاہیں تو محض ایک نوٹیفکیشن یا ایس آر او کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے آئین میں ترمیم ناگزیر ہوگی، اور موجودہ سیاسی حالات میں ایسی آئینی ترمیم کا امکان نہایت محدود دکھائی دیتا ہے۔
البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ وفاقی حکومت اپنی مالیاتی پالیسی کے تحت مخصوص مدت یا مخصوص حالات کے لیے ٹیکس میں رعایت یا جزوی استثنا دے۔ تاہم ایسی رعایت کی حیثیت آئینی نہیں بلکہ انتظامی ہوگی، اور اس کی مدت، حدود اور شرائط حکومت کی پالیسی کے تابع ہوں گی، نہ کہ کسی مستقل آئینی ضمانت کے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ اس پوری صورتِ حال کا ذمہ دار کس کو قرار دیا جائے؟ کیا تمام ذمہ داری صرف اُس وقت کی وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے؟ کیا کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک شخصیت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ یا پھر اس کی ذمہ داری اُن تمام آئینی اداروں اور منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اس پورے قانون سازی کے عمل میں اپنا کردار ادا کیا؟ ان سوالات کے جوابات سیاسی نعروں میں نہیں بلکہ آئینی حقائق، پارلیمانی کارروائی اور دستاویزی شواہد میں موجود ہیں۔
قانونی اور آئینی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پہلی اور براہِ راست ذمہ داری اُن منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے جو اُس وقت قومی اسمبلی، سینیٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں ملاکنڈ ڈویژن کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انہی کے سپرد یہ ذمہ داری تھی کہ وہ قانون سازی کے ہر مرحلے پر اپنے علاقے کے آئینی، معاشی اور مالیاتی مفادات کا تحفظ کرتے۔ اگر انہیں یہ احساس تھا کہ اس آئینی ترمیم سے ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس استثنا، خصوصی حیثیت یا دیگر مراعات متاثر ہو سکتی ہیں تو ان پر لازم تھا کہ وہ اس مسئلے کو دونوں ایوانوں اور صوبائی اسمبلی میں پوری قوت کے ساتھ اٹھاتے، اس کے ممکنہ نتائج پر جامع بحث کرتے، آئینی ضمانتوں کا مطالبہ کرتے یا کم از کم اپنے تحفظات اس انداز میں سرکاری کارروائی کا حصہ بناتے کہ بعد میں یہ کہا جا سکتا کہ ملاکنڈ کے نمائندوں نے اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی کوشش کی تھی۔
اس کے ساتھ یہ کہنا بھی قرینِ انصاف نہیں ہوگا کہ پورے معاملے کی ذمہ داری صرف ایک جماعت یا ایک شخصیت پر ڈال دی جائے۔ دستیاب ریکارڈ واضح کرتا ہے کہ پچیسویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی، سینیٹ اور بعد ازاں خیبر پختونخوا اسمبلی سے آئینی تقاضوں کے مطابق منظور ہوئی۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی، بعض نے واک آؤٹ کیا، چند ارکان نے تحفظات کا اظہار بھی کیا، مگر مجموعی طور پر ترمیم مطلوبہ اکثریت سے منظور ہو گئی۔ اس لیے تاریخ کو صرف سیاسی نعروں یا انتخابی بیانیوں کی بنیاد پر بیان کرنا حقیقت کا مکمل عکس پیش نہیں کرتا۔
تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب نمائندے اس موقع پر وہ مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکے جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔ دستیاب کارروائی سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ قومی اسمبلی، سینیٹ یا صوبائی اسمبلی میں ملاکنڈ کے ٹیکس استثنا کو ایک بنیادی آئینی مسئلے کے طور پر پوری قوت سے اٹھایا گیا ہو یا اس کے تحفظ کے لیے ایسی منظم پارلیمانی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہو جو بعد میں عوام کے مؤقف کی مضبوط قانونی بنیاد بن سکتی۔
لیکن اگر جمہوریت کے بنیادی اصول کو سامنے رکھا جائے تو ذمہ داری کا دائرہ صرف منتخب نمائندوں تک محدود نہیں رہتا۔ جمہوری نظام میں عوام صرف حکومتی فیصلوں کے اثرات نہیں بھگتتے بلکہ انہی فیصلوں کے ذمہ دار نمائندوں کا انتخاب بھی خود کرتے ہیں۔ اسی لیے بالواسطہ ذمہ داری ملاکنڈ ڈویژن کے عوام پر بھی عائد ہوتی ہے، کیونکہ انہی کے ووٹ نے ان نمائندوں کو قانون سازی کے ایوانوں تک پہنچایا۔ اگر عوام ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں جو قانون سازی کے عمل سے پوری طرح آگاہ نہ ہوں، اپنے علاقے کے آئینی حقوق کا مؤثر دفاع نہ کر سکیں یا جماعتی وابستگی کو عوامی مفاد پر ترجیح دیں تو اس کے نتائج بالآخر پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
شاید یہی اس پورے معاملے کا سب سے بڑا سبق بھی ہے۔ احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن، مگر کسی آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد محض احتجاج تاریخ کا رخ تبدیل نہیں کر سکتا۔ حقوق کا سب سے مؤثر تحفظ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بروقت قانون سازی، مؤثر نمائندگی اور آئینی بصیرت کے ذریعے ہوتا ہے۔ جب یہ موقع گزر جائے تو بعد کی سیاسی کشمکش زیادہ تر نقصان کے ازالے کی کوشش بن جاتی ہے، نہ کہ اصل مسئلے کا حل۔
ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کی پوری بحث بھی دراصل یہی سبق دیتی ہے کہ کسی بھی علاقے کے حقوق سڑکوں سے پہلے پارلیمنٹ میں محفوظ کیے جاتے ہیں۔ اگر وہاں خاموشی اختیار کی جائے یا مسئلے کی سنگینی کو بروقت محسوس نہ کیا جائے تو بعد میں بلند ہونے والی آوازیں بھی اکثر تاریخ کا فیصلہ تبدیل نہیں کر سکتیں۔ اس لیے آج ضرورت صرف یہ جاننے کی نہیں کہ ماضی میں غلطی کہاں ہوئی، بلکہ اس سے سبق سیکھنے کی بھی ہے۔ جب تک عوام اپنے ووٹ کی طاقت، اپنے نمائندوں کی پارلیمانی کارکردگی اور قانون سازی کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے، تب تک تاریخ خود کو دہراتی رہے گی۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ کردار بدل جائیں گے، مگر نتائج وہی رہیں گے۔


