تقریب کے اختتام پر اچھی خاصی بدمزگی ہو گئی۔ادھر مہمانِ خصوصی خطاب کے لیے اٹھے ادھر نوجوانوں کی ایک ٹولی نے ان کو ہار پہنانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔کسی کو کیا اعتراض ہونا تھا۔نوجوانوں سے گزارش کی گئی کہ وہ سٹیج پر آئیں اور اپنے پسندیدہ لیڈر کو ہار پہنائیں۔نوجوانوں کی ٹولی سٹیج کی طرف بڑھی تو تالیوں کا شور بلند ہوا جوں جوں نوجوان سٹیج کی طرف آ رہے تھے توں توں تالیوں کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔لیڈر پھولے نہیں سما رہا تھا۔پہلے بھی کئی لیڈر تقاریر کر چکے تھے مگر یہ کوئی خاص تکریم ہونے جا رہی تھی۔لیڈر جو مہمان خصوصی بھی تھے ہلکے ہلکے مسکرا رہے تھے۔ایک دو دفعہ انہوں نے حاضرین کے جم ِغفیر کو جانب دیکھا تو شکریے کے لیے ہاتھ ہلایا۔ بعد میں دونوں ہاتھ باندھ کر عوم کا شکریہ ادا کیا۔وہ عوام کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے کچھ کہنا چاہتے تھے مگر نوجوانوں کی ٹولی سٹیج پر پہنچ چکی تھی۔ایک لڑکے کے ہاتھ میں ایک بند ڈبہ تھا جس میں ہار تھا باقی لڑکے بالے اس نوجوان کے پیچھے کھڑے تھے۔سٹیج پر اعلان ہوا کہ نوجوانوں سے گزارش کی جاتی ہے وہ اپنے محبوب لیڈر کے گلے میں ہار ڈالیں۔نوجوان نے ڈبہ کھولا اس ہار پر رنگ برنگے کاغذات چمک رہے تھے اور ان کاغذوں کے نیچے بھی کوئی شے تھی جو نظر نہیں آ رہی تھی۔لیڈر اپنی جگہ پر کھڑے مسکرا رہے تھے ادھر انہوں نے ہار ڈلوانے کے لیے گردن جھکائی ادھر نوجوان نے ان کے گلے میں ہار ڈال دیا۔ہار ڈلنے کی دیر تھی سٹیج پر بیٹھے لوگ اور عوام کو سانپ سونگھ گیا۔یہ ہار پھولوں وغیرہ کا نہیں تھا یہ تو جوتوں کا ہار تھا۔
کسی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کب یہ ہار لیڈر کے گلے کی زینت بن گیا۔اسی پر بس نہیں موبائل کیمرہ بردار برادران نے اس لمحے کو غنیمت جانا اور ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔ایک نہیں درجنوں نہیں سینکڑوں موبائل فونوں کی سکرینیں چمکیں اور یہ لمحہ ریکارڈ ہو گیا۔صرف جوتوں کے ہار پہنانے اور پہننے تک ہی معاملہ رہتا تو خیر تھی اس تصویر میں تو لیڈر مسکرا رہے تھے۔یعنی اس تصویر سے پیغام یہ جا رہا تھا کہ لیڈر اس پذیرئی پر بہت خوش ہیں۔جلسے کے منتظمین پر گھڑوں پانی پڑا ہوا تھا۔جو تالیاں پیٹی جا رہی تھیں وہ تو تھمنی ہی تھیں یہاں تو جس شخص کا ہاتھ تھا وہیں جم گیا تھا۔اب معاملہ یہاں کیسے رکنا تھا یہ کلپ اسی لمحے فارورڈ بھی ہو گئے۔اب وہ زمانہ تو ہے نہیں کہ ایک فون پر خبر بھی ڈھیر ہو جائے اور خبر دار بھی۔پہلے ایک بھلا سا محمکہ ہوتا تھا اور ایک اس کا دارالمہام وہی اخبارات کا کرتا دھرتا ہوا تھا۔کون سی خبر کہاں لگانی ہے اور کون سی خبر سینسر کر دہنی ہے۔سنسر کا اصل مطلب یہ ہوتا تھا گویا واقعہ ہوا ہی نہیں ہے۔لے دے کے پرنٹ میڈیا ہوتا تھا اس میں کچھ سر پھرے دانے ہوتے تھے وہ کہیں پچھلے صفحے پر چھوٹی سی خبر لگا دیتے۔اللہ اللہ خیر سلا۔رات گئی بات گئی والا معاملہ ہو جاتا تھا۔اس محکمے نے اخبارات کو اشتہارات بھی دینے ہوتے تھے لہذا زیادہ تر دانے بہت سیانے ہوتے تھے۔وہ از خود بھی ایسی خبر ٹھکانے لگانے کے فن سے بخوبی آشنا تھے۔وہ ایک آدھ جملے کی ضد کی مار ہوتے تھے۔پہلے نہ جی نہ جی کہتے اور کہتے کہ صحافی کا ایمان ہی خبر ہے باقی سب جھوٹ ہے افسانہ ہے۔مگر قومی مفاد اور ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کے بعد ان کا دل پسیج جاتا اور وہ ہارے ہوئے فوجی کمانڈر کی طرح بوٹ کے تسمے کھول دیتے۔پھر اخبار خواہ ڈمی نکلے یا کچھ اور جیب بھاری ہو جاتی۔خبر فنا ہو جاتی اور کسی اندھے کنوئیں کی تہہ میں جا ٹکتی۔لوگوں کو کہاں معلوم ہونا ہوتا تھا۔چوبیس گھنٹوں کے بعد اخبار نکلتا تب تک وہ خبر ماضی کا قصہ بن چکی ہوتی۔رہ گیا الیکٹرانک میڈیا وہاں تو قوالی پروگرام ہی چلنے ہوتے تھے۔مگر اب تو بھائی ایلون مسک آ گئے تھے۔ان کا کہنا تھا باقی سب خبریں جھوٹی ہیں سچی خبر وہ ہے جس کا سورس آپ خود ہو۔اپنی خبر بناؤ میرے ایکس پر آؤ۔پوسٹ کرو ایک ملک کیا ایک براعظم کیا ساتوں کے ساتوں بر اعظموں تک پلک جھپکنے میں آپ کی خبر پہنچ جائے گی۔مصیبت یہ تھی کہ نوجوان ٹولے کو اسی ایکس اور اس جیسی اور ہزاروں خرافات کا علم تھا۔اور تو اور ان کو علم تھا کہ ایسے پلیٹ فارمز کو مائیکرو بلاگنگ اور ٹیکسٹ بیسڈ سوشل پلیٹ فارمز کہا جاتا ہے۔صرف ایکس ہی نہیں بلیو سکائی، مسٹوڈن، ریڈٹ، امریکا کا ٹروتھ سوشل، چین کا ویبو اور صرف صحافیوں کے لیے پوسٹ نیوز بھی اسی میدان میں موجود ہیں۔مگر یہ ایکس سے بہت پیچھے ہیں۔اس کے اکسٹھ کروڑ فالورز ہیں۔یہ سب کچھ لیڈر کو بھی تو معلوم تھا مگر وہ اب بھی ویسے ہی مسکرا رہا تھا۔منتظمین کے دل حلق میں اٹکے ہوئے تھے۔لیڈر کو اس مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ کر ان میں حوصلہ ہوا۔وہ بھی اسی لیڈر کی تقلید میں مسکرانے لگے۔تالیوں کا شور تھم گیا تھا۔اب کسی میں ہمت ہی نہیں تھی کہ جلسے کو وہیں سے شروع کیا جائے جہاں سے ختم ہوا تھا۔آخر کار لیڈر کی اسی جان لیوا مسکراہٹ کا سہارا لے کر منتظمین نے اعلان کیا کہ اب آپ کے محبوب لیڈر آپ سے خطاب کریں گے۔یوں تو انہیں معلوم تھا کہ آخری مقرر سے پہلے کچھ ضروری جملے بھی آدابِ محفل ہوتے ہیں جیسے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں آ گیا اور وہ شاہکار جس کا انتظار تھا وغیرہ وغیرہ۔مگر یہاں وہ الفاظ اور جملے ادا کرنے کا کسی کو یارا ہی نہیں تھا۔سب ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی صورت بنے ہوئے تھے۔بہر حال اعلان ہوا اور محبوب لیڈر خراماں خراماں ڈائس کی طرف چل پڑے۔لوگوں کے منہ حیرت سے کھلے تھے کیونکہ وہ جوتوں کا ہار ابھی تک ان کے گلے کی زینت بنا ہوا تھا۔ان کا سیکرٹری ان کے قریب آیا اور عرض کی کہ سرکار یہ ہار جوتوں کا ہار ہے اسے اتار دیجیے۔لیڈر نے ہاتھ ہلا ہلا کر مجمع کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں۔ آپ نے میری عزت افزائی ہے پچھلے شہر والوں نے میری جوتوں سے پٹائی بھی کی تھی۔


