راولہ کوٹ میں ایک نوجوان ٹیچر کی تعیناتی ہوئی۔ اس سے پہلے وہ اسلام آباد میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھاتا تھا۔ مجھے اساتذہ بہت پسند ہیں۔ پرائمری اسکول کےٹیچر ہوں یا کسی یونیورسٹی میں تعلیمی شعبے کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ، میرے دل کے بہت نزدیک ہوتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی بات ہے۔ شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ میرے والد محترم بھی ٹیچر تھے۔ میرے دادا اور نانا بھی ٹیچر تھے۔ میرے چچا تایا بھی تعلیمی شعبے سے تعلق رکھتے تھے۔ معلّمی کو پیشہِ پیغمبری کہا گیا ہے۔ ولی وارثِ پیغامِ پیغمبر ہوتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ بھی تعلیمی شعبے سے وابستہ تھے۔ آپؒ نے لاہور انگلش کالج کے نام سے نابھہ روڈ انارکلی میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طالبعلموں کو انگریزی پڑھانے کے لیے ایک اکیڈمی قائم کی۔ یہ اکیڈمی ایک روحانی نشست گاہ بھی تھی۔ دن کی روشنی میں یہاں انگریزی پڑھائی جاتی اور رات بھیگنے پر یہ فقیری کی درس گاہ بن جاتی۔ آپؒ کلاسیکل انگلش پڑھانے میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ آپؒ کے پرانے طلباء بتاتے ہیں کہ ولیم شیکسپیئر اور جان کیٹس کے پورے پورے صفحات آپؒ کو اَز بَر تھے ۔ آج کل ہم آپؒ کی اُردو کتاب “کرن کرن سورج” کے انگریزی ترجمے کی تدوینِ نَو کا کام کر رہے ہیں۔ یہ انگریزی ترجمہ آپؒ نے خود ہی کیا تھا۔ کیا خوب فصاحت سے بھرپور ، تحیر انگیز انگریزی تحریر ہے آپؒ کی۔ بعض اوقات کسی جملے پر گرامر کی غلطی کا شائبہ ہوتا ہے، ڈکشنری سے رجوع کرنے پر یہ آشکار ہوتا ہے کہ کلاسیکی انگریزی میں یہ محاورہ یوں ہی درست ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر آپؒ نے اپنے ہی لکھے ہوئے اُردو جملے کی تصریح بھی کی ہے، جس سے جملے کا لطف اور اِبلاغ دونوں دو چند ہو جاتے ہیں۔ مترجم یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔
آمدم برسرِ موضوع ،راولا کوٹ سے ابرار اپنے معاملات میں مشاورت کرتا رہتا ہے۔ چند دن قبل اُس کی طرف سے ایک برقیا نہ ( واٹس ایپ پیغام) موصول ہوا۔ اس کا متن کچھ ایسا درد مندانہ تھا کہ مِنّ و عَن قارئین کے گوش گذار کیے بغیر گذارا نہیں۔ لکھتے ہیں: سر جی !میری جاب کی شروعات 15 اپریل سے ہوئی اور 20 مئی کو گورنمنٹ نے تمام ملازمین کو عید پرسیلری دینے کا فیصلہ کیا۔ پہلی سیلری اور 15 دن کا بل اگر ادارے میں کلرک نہ ہو تو خود بنوانا پڑتا ہے اور ساتھ AG آفس میں کلرک کی جیب بھی گرم کرنی پڑتی ہے جو مجھ سے نہ ہوسکا۔ بڑے پڑھے لکھے لوگوں نے مجھ سے بحث کی، کسی نے کہا کہ سسٹم کے ساتھ چلنا پڑتا ہے، کسی کا کہنا تھا کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ میں نے کہا کہ جی بالکل، سسٹم کے ساتھ چلنا ہے، لیکن کون سے سسٹم کے ساتھ؟ جو دین نے بتایا ہے یا جو لوگوں نے بنایا ہے؟ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے، لیکن کیا کھویا کیا پایا، اِس پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔شاید میرا یہ دعویٰ میری آزمائش بن گیا، مجھے ابھی تک سیلری نہیں ملی۔ بس ایک دلی سکون ہے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ لیکن قرضہ اتنا چڑھ گیا ہے کہ ڈر لگنے لگا ہے۔ لگتا ہے کہ اگر سسٹم کے ساتھ نہیں چلنا، تو پھر طرزِ زندگی بھی بدلنا پڑے گا، ورنہ کہیں میں بھی اسی سسٹم کا حصہ نہ بن جاؤں۔آج آپ کا کالم پڑھا “طاقت اور قانون” کے متعلق، ذہن میں ایک سوال اٹھا کہ شاید طاقت اور قانون سے ہٹ کر بھی کچھ ہے، شاید وہ اسی کا حصہ ہے۔ آپ میری رہنمائی کیجیے گا۔ دیکھا جائے تو قانون موجود ہے کہ آپ اپنے یہ یہ ڈاکومنٹ مکمل کریں اور محکمہ حساب میں جمع کروائیں، آپ کی سیلری چل پڑے گی، لیکن ہم نے ایک نظام سیٹ کر دیا کہ چار پیسے ساتھ دینے شروع کر دیے کلرک کو، اپنا کام جلدی کروانے کے لیے۔ یہ ایک سسٹم بنا دیا جو رائج ہوگیا ہے۔ اب ہر نئے آنے والے بندے سے وہ کلرک یہ توقع کرنے لگا کہ جیسے یہ اس کا حق ہے، اور اگر اس سسٹم کے ساتھ کوئی نہیں چلتا تو پھر اسے ذلیل کیا جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اسی وجہ سے ہم ایک اچھا معاشرہ بنانے میں ناکام ہیں۔ افسوس ہوتا ہے جب ایک ٹیچر یہ بات کرے کہ سسٹم کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کسی کو رشوت دے کر پھر ہم بچوں کو کیسے پڑھائیں گے کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں”۔ اس نوجوان کا یہ جملہ کئی کالموں پر بھاری ہے: “میں سوچتا ہوں کہ کسی کو رشوت دے کر پھر ہم بچوں کو کیسے پڑھائیں گے کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں”۔
قول و فعل کے تضاد کے متعلق کوئی جس قدر زیادہ حساس ہے، راہِ حق میں وہ اتنا ہی بیش قیمت انسان ہے۔ دراصل جسے تزکیہِ نفس کی فکر لاحق ہو جائے، وہی اپنے قول و فعل میں تضاد کے متعلق فکر مند ہوتا ہے۔ میں اسے یہ پیغام دینا چاہتاہوں: بیٹا! شاباش! ہمیں آپ پر فخر ہے۔ آپ نے ٹیچر ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ اب یہ ” حرفِ انکار” ادا کر دیا ہے تو اِس پر جمے ر ہو، اسی پر ڈٹے رہو۔ تنخواہ کیا، اگر اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے نوکری بھی چھوڑنی پڑے تو یہ سودا گھاٹے کا نہیں۔ رزق کی خاطر اگر مسلمہ دینی اصول پر سمجھوتا کرنا پڑ گیا تو سمجھو انسان خسارے میں رہ گیا۔ برخوردار! آپ خسارے سے بچ گئے ہو۔
پچھلے دنوں والد مرحوم کی پنشن والدہ کے نام کروانے کے سلسلے میں اسی قسم کی دِقّت کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ ماہ گذر گئے۔ بالآخر خدا خدا کر کے، کچھ حوالوں سے وہ کام ہوا، جو پہلے دن سے ہمارا حق تھا۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا قول یاد آیا: ” اگرحقوق کے حصول کے لیے صرف دُعا کا سہارا ہی باقی رہ جائے تو اُسے ظلم کا زمانہ کہتے ہیں “۔ ایک قریبی عزیز کی طرف سے آواز آئی کہ کلرک بادشاہ سے پیسوں کی بات ہو گئی تھی، اس نے ایک ہفتے میں کیس مکمل کر دینا تھا۔ یہ کام کروانے کے لیے آپ کو کتنے ہی لوگوں سے کہنا پڑا۔ میں نے کہا: “ذراسوچو! اگر ابّو جی اِس جگہ ہوتے تو وہ کیا کرتے؟ وہ پیسے دیتے یا اپنے تعلقات سے کام نکلواتے؟ اللہ اور رسولؐ کے حکم کے بعد میرے لیے میرے نیک سیرت باپ کا نقشِ قدم حجّت ہے۔ میرے والد نے ساری عمر بڑی محنت سے اپنے بیوی بچوں کے لیے رزقِ حلال کا اہتمام کیا ہے۔ اب اُن کی روح کو کتنی تکلیف ہو گی، اگر میں اُن کی باقی ماندہ کمائی کو رشوت کے پیسوں سے آلودہ کر دوں”۔ لوگ صبر سے کام نہیں لیتے، جلد بازی کرتے ہیں اور حلال اور حرام کے فرق کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ اِس سے اُن کی روحانی یادداشت بھی گڈ مڈ ہو جاتی ہے۔ بس یہی فرق ہے دین داری اور دنیا داری کے بیچ۔ دین داری ماتھے پر محراب ڈالنے کا نام نہیں، کسی خانقاہ و مدرسہ میں قیام وطعام اور انتظام و انصرام کا نام نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے معاملات کو دین کے طے شدہ اصولوں کے تحت طے کرنے کا نام ہے۔
ابھی کل ہی اِس نوجوان کی طرف سے ایک اچھی خبر ملی۔ اِس کا صبر کام آگیا۔ اس نے بتایا کہ اِس کے ہیڈماسٹر صاحب نے اپنی جیب سے اِس کے لیے پچاس ہزار کابندوبست کیا، کہ ابھی اپنی ضرورت پوری کرو، اور پھر اے جی آفس میں اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر اِس کی تنخواہ جاری کروا دی۔ ہیڈماسٹر صاحب کو ہمارا غائبانہ سلام ۔ انہوں نے گویا قرآن کے اس حکم کی تعمیل کی : “وتعاونو علی البرّ والتقویٰ ولا تعاونو علی الاثم والعدوان” — “اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، اور برائی اور حکم عدولی( حدود کی پامالی) میں تعاون مت کرو”۔
زندگی صرف حاصل اور وصول کا نام نہیں، اِس میں دینی، اخلاقی، روحانی اور انسانی قدریں بھی شامل ہیں۔ اگر اِن قدروں کی نفی کر دی جائے تو انسان روحِ حیات سے محروم رہتا ہے— وہ کامیاب ہو کر بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ جب ہم نیکی میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں تو دراصل نیک قدروں میں اضافہ کرتے ہیں، اور نیکی پر قائم رہنے کی جستجو کرنے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ شائد ابرار کے علم میں ہو کہ “ابرار” کے لفظی معنی “نیکیاں” ہیں، سو! آج کا کالم اسی “ابرار” کی حوصلہ افزائی کے نام!
بشکریہ روزنامہ “نئی بات”


