تعلیم دشمنی کی آخری حد/ محمد ذیشان بٹ

ہمارے عزیز دوست، ماہرِ تعلیم فیصل جنجوعہ (پرنسپل پنجاب گرامر سکول) کے کالم پڑھ کر قلم کو حرکت دینے کی جسارت کی ہے۔ موصوف ان دنوں تعلیم کے موضوع پر مسلسل لکھ کر قوم کو سوچنے اور بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہماری مہربان حکومت نے سکول بند کر کے اساتذہ کو خاصی فرصت عطا کر دی ہے۔ بندۂ ناچیز نے بھی اسی سلسلے میں چند گزارشات قلم بند کرنے کی جسارت کی ہے۔
ہمارے ملک میں شاید صرف تعلیم ہی ایک ایسی چیز ہے جسے ہر مسئلے کا آسان حل سمجھ لیا گیا ہے۔ کبھی گرمی زیادہ ہو جائے تو سکول بند، کبھی بارش ہو جائے تو سکول بند، کبھی سڑکیں بند ہوں تو سکول بند، کبھی احتجاج ہو تو سکول بند۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورے نظام کی بنیاد ہی اس اصول پر رکھی گئی ہو کہ باقی سب کچھ چلتا رہے، بس تعلیم رک جانی چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بازار کھلے رہتے ہیں، شادی ہال آباد رہتے ہیں، پارکوں میں رش ہوتا ہے، شاپنگ مالز میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی، سیاحتی مقامات پر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں، مگر جیسے ہی سکول کھولنے کی بات آتی ہے تو اچانک موسم، حالات اور خطرات سب کو یاد آ جاتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر تعلیم کی اہمیت کو ابھی تک پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکا۔ ہم عمارتوں کو ترقی سمجھتے ہیں، مگر ذہنوں کی تعمیر کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سکول بند ہونے پر سب سے کم آواز اسی معاشرے سے اٹھتی ہے جس کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوتا ہے۔
ایسے ماحول میں ایک تنظیم مسلسل اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ *ایپسما* ابرار صاحب کی قیادت میں ہر ممکن دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ کبھی متعلقہ محکموں سے مذاکرات، کبھی صوبائی حکومت سے رابطے، کبھی وفاقی حکومت سے اپیل اور ضرورت پڑنے پر عدالتوں سے رجوع بھی کیا جاتا ہے۔ ان کا ایک ہی مؤقف ہوتا ہے کہ خدا کے لیے سکول کھول دیجیے۔ تعلیم کو سیاست، بیوروکریسی اور بے حسی کی نذر نہ کیجیے۔ آخر اس ملک دشمنی میں حد سے آگے کیوں بڑھا جا رہا ہے؟
سکول صرف چار دیواری کا نام نہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قوم کا مستقبل تشکیل پاتا ہے۔ جب ایک دن کی تعلیم ضائع ہوتی ہے تو اس کا نقصان صرف ایک سبق کا نہیں بلکہ بچوں کی عادت، نظم و ضبط، کردار اور تعلیمی تسلسل کا بھی ہوتا ہے۔ مہینوں تک سکول بند رکھنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ بند ہونے والے دروازے صرف کلاس روم کے نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں خوابوں کے بھی ہوتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جب بچے گھر میں زیادہ دن رہنے لگتے ہیں تو وہی لوگ جو چھٹیوں پر خوش ہوتے ہیں، چند دن بعد کہنا شروع کر دیتے ہیں: “بھائی، سکول آخر کب کھلیں گے؟” والدین پریشان، دادا دادی پریشان، نانا نانی پریشان، اور آخرکار خود بچے بھی پریشان۔ تب احساس ہوتا ہے کہ استاد کی ڈانٹ اور ہوم ورک اتنا بھی برا نہیں تھا۔
نجی تعلیمی اداروں کی مشکلات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سکول بند ہوں تو فیسیں رک جاتی ہیں، اساتذہ کی تنخواہیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں، کرائے اور دیگر اخراجات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر وہ استاد ہوتا ہے جو پہلے ہی محدود آمدنی پر اپنے گھر کا نظام چلا رہا ہوتا ہے۔
حکومتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سکول بند کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نئے مسئلے کی ابتدا ہے۔ اگر کسی علاقے میں واقعی موسمی یا انتظامی صورتحال مختلف ہے تو فیصلے بھی ضلع یا شہر کی سطح پر ہونے چاہییں، پورے صوبے یا ملک کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہیے۔
تعلیم کے معاملے میں تاخیر دراصل قوم کی ترقی میں تاخیر ہے۔ جو معاشرہ سکولوں کو ترجیح نہیں دیتا، وہ تحقیق، معیشت، ٹیکنالوجی اور تہذیب میں بھی پیچھے رہ جاتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے سکولوں کو آخری آپشن کے طور پر بند کیا، جبکہ ہم نے انہیں پہلا آپشن بنا لیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، متعلقہ ادارے اور معاشرہ سب مل کر یہ طے کریں کہ سکولوں کا دروازہ بند کرنا معمول نہیں بلکہ انتہائی مجبوری ہونا چاہیے۔ کیونکہ قومیں سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ کھلے سکولوں، باشعور اساتذہ اور تعلیم یافتہ بچوں سے بنتی ہیں۔
سوچنے کی بات صرف اتنی ہے کہ اگر سکول ہی بند رہیں گے تو پھر مستقبل کھلے گا کیسے؟

اپنا تبصرہ لکھیں