افراتفری کے اس دور میں ایک ظلم جو پاکستانیوں پر ہوا ہے وہ محبت سے بیزاری ۔ ہم روزمرہ کے کاموں میں اتنا الجھ چکے ہیں کہ محبت کرنا بھول چکے ہیں ۔ کسی نے خوب کہا تھا کہ ہم نفرت کے اظہار میں منہ پھٹ جبکہ محبت کے اظہار میں گونگے پیدا ہوئے ہیں ۔ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے من پسندیدہ شخص کی تعریف بھی کر سکتے ۔
آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کہ اس نے اپنے من پسندیدہ شخص سے آخری بار کب کہا تھا کہ آپ آج بہت اچھے لگے رہے ہیں؟ کب اس کی آخری بار تعریف کی تھی؟ کب اسکے unexpected گفٹ لیا تھا؟ کب بنا کوئی پلان کئے باہر گھومنے گئے تھے؟ زیادہ تر کا جواب نفی میں ہو گا۔
ایک اور اہم بات،ہم expressive ہونا بھی بھول گئے ہیں، کوئی شخص پسند آیا،ہم اس سے اظہار محبت نہیں کرتے، اور یوں ہماری خاموشی کی وجہ سے وہ شخص ہم سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہ کہنا کتنا کو مشکل ہے کہ آج آپ نے بڑا خوبصورت سوٹ پہنا ہے۔ آپ کے بالوں کا ہیر کلر آپ بر بڑا جچ رہا ہے، آپ پر کھلے بال اچھے لگتے ہیں،انہیں باندھا مت کریں، آپ کے جوتے سوٹ کیساتھ بڑے میچ رہے ہیں ۔ آپ بولتے بڑی اچھی لگتی ہیں،ایسے ہی بولا کریں. آپ ہنستی ہوئے خوبصورت لگتی ہیں ۔ کل جو آپ نے فیسبوک پر پوسٹ لگائی تھی وہ بڑی اچھی تھی ۔ آپ کی باتیں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں۔ آج آپ نے جو کوکنگ کی ہے،کمال کی ہے ۔۔ یہ کہنے میں کتنی دیر لگے گی؟؟ ایک منٹ ۔۔۔ لیکن اس کے اثرات تاحیات رہیں گے۔
من پسندیدہ شخص کو بتائیں کہ وہ خوبصورت ہے، آپ اسکو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں،وہ آپکی خوشی کی وجہ ہے۔ آپ کی خوشیاں اسکے ہونے سے ہیں ۔
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں،تعریفیں آپکا رشتہ مضبوط کریں گی۔ دنیا حیسن ہے،اگر آپکے پاس کوئی من پسندیدہ شخص ہے،تو اس کی موجودگی سے آپکی زندگی مزید خوبصورت ہو گی۔ دنیا کو حیسن رہنے دیں۔ محبت کریں، من پسندیدہ شخص کی خوب تعریف کریں، محبت کا اظہار کریں اور اپنی زندگی کو مزید حیسن بنائیں ۔ دل میں باتیں مت رہنے دیں۔ ڈریں مت ، اظہار محبت کریں۔ آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے اور زندگی مزید خوبصورت لگنا شروع ہو جائے گی۔


