انسان جیسے بھی حالات میں رہ رہا ہو، کسی بھی کیفیت سے گزر رہا ہو،امیرہو یا غریب معذور و مریض ہویا صحتمند، خوب صورت ہو یا بد شکل، حالات و آزمائش سے کتنا بھی تنگ کیوں نہ ہو اسے اپنی زندگی اتنی عزیز ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا رسک نہیں لیتا ہے، وہ زندہ رہنا چاہتا ہے، کیونکہ مزید جینے کی آرزو اسے زندگی سے پیار پہ مجبور کرتی ہے۔ وہ آخری سانسوں تک پر سکون اور آرام دہ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس کے لئے اس کی زندگی اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن وہ اپنی زندگی سے پیار کرنے کے باوجود دوسرے انسان کی زندگی کو ملیا میٹ کرنے کو برا نہیں سمجھتا۔ یہاں انسان خود غرضی اور مفاد پرستی کا شکار ہوتا ہے۔ وہ کسی مد مقابل کو جینے کا حق دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ اسے اپنی غرض پوری کرنی ہو تو دشمنی یا غصے میں آکر دوسرے کو زیرکرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ بلکہ اسے راہ سے ہٹان کی منصوبہ بندی کرنے لگتا ہے
دوسروں کو برداشت نہ کرنے کی یہ وجہ دنیا کے کم و بیش ہر معاشرے میں قتل و غارت گری عام دکھائی دیتی ہے۔ اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگرچہ اس دنیا کی تباہی اور خاتمے کا ایک نامعلوم وقت معین ہے لیکن انسانوں نے اس دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی پوری تیاری کی ہوئی ہے۔
آج دنیا کے بیشتر ممالک دوسرے ملکوں کے ساتھ محاذ آرائی، کشمکش، لڑائی اور جنگ و جدل میں مبتلا ہیں۔ ماضی میں سربیا نے بوسنیا کے مسلمانوں کا جس بیدردی سے قتل عام کیا، اسکے دکھ اب تک سوہان روح بنےہوۓ ہیں۔ افغانستان میں پہلے سوویت یونین اور بعد میں امریکہ اور نیٹو نے جو سفاکانہ بمباری کر کے ہزاروں افغانیوں کی زندگیوں کو تہہ و تیغ کیا۔ عراق، سوریا، لیبیا، لبنان میں حکومتوں کو گرانے یا مہلک ہتھیاروں کی تلاش کے بہانے بمباریوں کے ذریعے جو تباہی مچائی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں اور حماس پر ناصرف عرصہ حیات تنگ کیا بلکہ تقریبا اڑتالیس ہزار مردوں عورتوں اور معصوم بچوں کو شہید کیا۔ انکے گھروں، دکانوں اور کیمپوں کو جلا کر راکھ کر دیا اور انکی امداد کو پہنچنے والے سامان اور فلاحی کارکنوں کو زبردستی روکے رکھا۔ روس اور یوکرین کے درمیان لڑائی کبھی شدت اختیار کر لیتی ہے اور کبھی سست روی سے امن کو تباہ کرتی رہتی ہے۔ کوئت اور ایران کی لڑائی اور کوئت پرعراق کے قبضے نے بھی امن و امان کو تہہ و بالا کیا۔ ہندوستان، بالخصوص انڈین گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام، غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر وحشیانہ بمباری اور قتال، مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی اور اب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ محاربے میں انسانوں کی زندگیوں کا اتلاف۔ یہ وہ سب انسانیت کے خلاف جنگی جرائم اور طاقتوروں کی طرف سے کمزوروں کو جینے دینے کا حق چھیننے کے حربے تھے، جن سے بے دوچار ہو کر یہ دنیا سمٹتی چلی گئی اور ابھی تک یہ سلسلہ کسی نہ کسی ملک یا علاقے میں جاری و ساری ہے۔ علاوہ ازیں کچھ ممالک میں آبادی کے گروہوں کے درمیان فسادات، و بغاوتیں سر اٹھاتی رہتی ہیں۔ پاکستان سمیت کچھ ممالک میں دشمنان کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں سیکیوریٹی فورسز کی شہادتوں سے اندرون ملک بے چینی اور غم و غصّے کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اور حملہ آور عسکریت پسند بھی اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔
عالمی امن کو سبوتاژ کرتی ریاستوں کی لڑائی میں تنازعہ محض ایک دو ممالک کے درمیان محدود نہیں رہتا بلکہ دیگر متعدد ممالک اور ادارے بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ لا علمی میں یا ارادی طور پر اس کرہ ارض پر بسنے والے اس دنیا کے تعاقب ہے کہ اس جلد سے جلد گنا کر دیا جاۓ، کیونکہ جس طرح ہم جارحیت اور دشمنی میں حدیں پار کر جاتے ہیں اسی طرح خدانخوستہ کل کوئی طاقتور ایٹمی ہتھیاروں پہ طبع آزمائی کر بیٹھے اورسب اس دنیا سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ ذرا سوچیں کیا قیامت خیز انجام ہوگا، جس کے ذمے دار یہی غیر ذمے دار ظالم حکمران ہونگے جو اخیر کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔


