بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟ – علی عباس کاظمی

انسان نے تاریخ کے ہر دور میں خدا کو تلاش کیا، مگر عجیب المیہ یہ ہے کہ خدا کو تلاش کرتے کرتے اکثر اپنے اندر چھپے ہوئے بتوں کو بھول گیا۔ کبھی پتھر کے مجسمے انسان کی کمزوریوں کی علامت تھے، آج وہی بت خواہشات، تعصبات، مفادات اور انا کی شکل میں دل کے اندر نصب ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بت نظر آتے تھے، اب وہ مقدس الفاظ کے پردے میں چھپ جاتے ہیں۔توحید کا تصور محض ایک نظریہ نہیں بلکہ انسان کی مکمل فکری اور اخلاقی آزادی کا اعلان ہے۔ یہ اعلان ہے کہ انسان کسی مادی طاقت، کسی دنیاوی جاہ و جلال، کسی گروہی تعصب یا اپنے نفس کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے توحید کو صرف زبان کا وظیفہ بنا دیا ہے یا اسے زندگی کا اصول بھی بنایا ہے؟ کیا خدا کی وحدانیت کا اقرار کرنے والا انسان اپنے اندر موجود چھوٹے چھوٹے خداؤں کو بھی پہچانتا ہے؟

ہماری سب سے بڑی کمزوری شاید یہی ہے کہ ہم نے خدا کو ماننے اور خدا کے حکم پر چلنے میں فرق ختم کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چند مخصوص اعمال ادا کر لینے سے ہماری ذمہ داری پوری ہو گئی، حالانکہ توحید انسان کے پورے وجود کا امتحان ہے۔ زبان اگر خدا کا نام لے اور ہاتھ ظلم میں شریک ہوں، آنکھیں ناانصافی دیکھ کر بند ہو جائیں، دل نفرت سے بھرے ہوں اور کردار میں دھوکہ شامل ہو تو پھر مسئلہ عبادت کی کمی نہیں، شعور کی کمی ہے۔آج ہمارے معاشرے میں مذہبی شناخت بہت مضبوط دکھائی دیتی ہے مگر اخلاقی بنیادیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ لوگ اپنی وابستگی ثابت کرنے کے لئے زیادہ پرجوش ہیں، مگر اپنے اعمال کا احتساب کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہم دوسروں کے عقائد پر گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں، مگر اپنے کردار کا جائزہ لینے سے گھبراتے ہیں۔ ہم نے دین کو دوسروں کے لئے میزان بنا لیا ہے اور اپنے لئے رعایت کا دروازہ کھول رکھا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسان اکثر خدا کے قریب جانے کے راستے میں بھی اپنی انا ساتھ لے جاتا ہے۔ وہ عبادت تو کرتا ہے مگر اس عبادت سے عاجزی پیدا نہیں ہوتی۔ وہ مذہب کی بات تو کرتا ہے مگر برداشت، محبت اور انصاف اس کی شخصیت کا حصہ نہیں بنتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے خدا کی رضا کو بھی اپنی پسند اور اپنی نفرتوں کے مطابق تقسیم کر لیا ہے۔توحید کا اصل پیغام انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے۔ جو شخص واقعی ایک خدا کو مانتا ہے، وہ مخلوق کو حقیر نہیں سمجھ سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سب اسی خالق کی تخلیق ہیں۔ وہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ محسوس کرتا ہے۔ وہ بھوک، جہالت، ظلم اور محرومی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے لئے عبادت صرف محراب میں کھڑا ہونا نہیں بلکہ زندگی کے میدان میں حق کا ساتھ دینا بھی ہے۔یہ ہماری فکری کمزوری ہے کہ ہم نے مذہبی لبادے کو اہم سمجھ لیا مگر اس کے کردار ساز اثرات کو نظر انداز کر دیا۔ ہم نے عبادت گاہوں کی وسعت پر توجہ دی مگر دلوں کی تنگی ختم نہ کر سکے۔ ہم نے حق کی آواز بلند کرنے کا دعویٰ کیا مگر اپنے اندر کے تعصب کی سرگوشیاں نہ سن سکیں۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں صرف دشمنوں کی وجہ سے زوال پذیر نہیں ہوتیں، وہ اپنے اندر پیدا ہونے والی منافقت سے بھی شکست کھاتی ہیں۔ جب الفاظ اور عمل کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں، جب اصول صرف تقریروں میں رہ جائیں اور مفادات فیصلوں پر غالب آ جائیں تو پھر معاشرے اندر سے کھوکھلے ہونے لگتے ہیں۔آج کا انسان ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ اس کے پاس معلومات بہت ہیں مگر حکمت کم ہے۔ اس کے پاس رابطے بہت ہیں مگر تعلق کم ہیں۔ اس کے پاس اظہار کے ذرائع بہت ہیں مگر سچ بولنے کا حوصلہ کم ہے۔ وہ دنیا کو فتح کرنے کی کوشش میں مصروف ہے مگر اپنے نفس کو فتح کرنے کا سفر بھول چکا ہے۔ حالانکہ اصل انقلاب باہر کی دنیا بدلنے سے پہلے اندر کی دنیا بدلنے سے آتا ہے۔خدا کی توحید انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کا سرچشمہ انسان نہیں، اس کا رب ہے۔ اسی لئے متقی انسان اقتدار ملنے پر مغرور نہیں ہوتا اور محرومی میں مایوس نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ عزت نہ دولت سے ملتی ہے، نہ عہدے سے، نہ شہرت سے۔۔۔عزت کردار سے پیدا ہوتی ہے۔

مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کے پیمانے بھی بدل لئے ہیں۔ عزت اس کے حصے میں آتی ہے جس کے پاس اختیار ہے، نہ کہ اس کے پاس جس کے پاس اصول ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرہ ظاہری چمک دمک میں آگے بڑھ رہا ہے مگر اندر سے بے اطمینانی کا شکار ہے۔اصل توحید انسان کو خود غرضی کے قید خانے سے نکالتی ہے۔ یہ اسے یاد دلاتی ہے کہ زندگی صرف اپنی خواہشات پوری کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ انسان اپنے کردار سے اس دنیا میں خدا کی رحمت کا مظہر بن سکتا ہے یا اپنی حرص سے تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ہمیں ایسے انسان چاہئیں جو خدا کا نام لینے کے ساتھ خدا کی صفات کا عکس بھی اپنی زندگی میں پیدا کریں۔ جو رحم کو طاقت، دیانت کو کامیابی اور خدمت کو عبادت سمجھیں۔ کیونکہ عبادت کا کمال یہ نہیں کہ انسان کتنا جھکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ جھکنے کے بعد کتنا بدلتا ہے۔کیونکہ ممکن ہے انسان دنیا کے سامنے دینداری کا لباس پہن لے، مگر خدا کے سامنے صرف اس کا کردار پیش ہو۔ وہاں نہ دعوے کام آئیں گے، نہ ظاہری نشانیاں۔وہاں صرف وہ دل قابلِ قدر ہوگا جس نے اپنے اندر کے بت توڑ کر حقیقتِ توحید کو پہچان لیا ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں