جوائنٹ فیملی کا زہر/ نادیہ زید

ایک خبر پڑھی کہ ساس اور بہو میں جھگڑا ہوا۔ بات ہاتھا پائی تک پہنچی۔ خبر کے مطابق ساس نے پہلے ایک ڈنڈا مارا، بہو نے جواب میں چار ڈنڈے مارے اور ساس صاحبہ جان سے چلی گئیں۔ شوہر نے بیوی کو معاف کرنے سے انکار کر دیا۔ خیر، اس پر حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے، ظاہر ہے اس نے اپنی ماں کھوئی ہے۔

لیکن خبر ختم ہونے کے بعد بھی ایک بات میرے ذہن سے نہیں نکل رہی تھی۔ لکھا تھا کہ ان کے پانچ بچے ہیں۔

ذہن میں آیا کہ یہ لڑائی یقیناً اس دن تو شروع نہیں ہوئی ہوگی جس دن یہ واقعہ رونما ہوا۔ کسی بھی گھر میں بات ڈنڈوں تک ایک دن میں نہیں پہنچتی۔ اس سے پہلے نہ جانے کتنے برسوں کی تلخیاں جمع ہوئی ہوں گی، کتنی باتیں ہوں گی جو کہی نہیں گئیں، کتنی کہی گئی ہوں گی اور واپس نہیں لی جا سکیں، کتنی صبحیں ایسی گزری ہوں گی جن میں گھر کے ہر فرد کو معلوم ہوتا ہوگا کہ آج بھی ماحول خراب رہے گا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے دلوں میں کس قدر نفرت جمع ہو چکی ہوگی۔

انہی دیواروں کے اندر، جہاں صبح شام دلوں میں نفرت پنپتی ہوگی اور زبانیں زہر اگلتی ہوں گی، پانچ بچے بھی بڑے ہو رہے تھے۔ ذرا سوچیے، وہ کس زہر آلود فضا میں سانس لیتے ہوں گے۔ بچوں کو تو یہ سمجھ بھی نہیں آتی کہ گھر میں قصور کس کا ہے، لیکن انہیں یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں سکون ہے یا نہیں۔ اور پھر ایک دن وہ جھگڑا، جو کبھی ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا تھا، ختم ہو گیا۔ اب ان بچوں نے صرف اپنی دادی نہیں کھوئی، غالب امکان یہی ہے کہ وہ اپنی ماں سے بھی کئی برسوں کے لیے محروم ہو جائیں گے۔

میں کافی دیر یہی سوچتی رہی کہ آخر ہم ساس اور بہو کے تعلق کی ابتدا ہی ایسی کیوں کرتے ہیں؟

عام طور پر دو بالغ انسان ملتے ہیں تو تعلق بننے میں وقت لگتا ہے۔ پہلے تعارف ہوتا ہے، پھر کبھی کبھار ملاقات، پھر کچھ مشترک یادیں بنتی ہیں، کچھ باتیں اچھی لگتی ہیں، کچھ بری، پھر آہستہ آہستہ انسان فیصلہ کرتا ہے کہ اس تعلق کو کتنا آگے لے کر جانا ہے۔ اگر طبیعت نہ ملے تو مناسب فاصلہ رکھ لیا جاتا ہے، اگر دل مل جائیں تو تعلق خود بخود گہرا ہوتا جاتا ہے۔ تقریباً ہر رشتہ اسی طرح بنتا ہے۔

ساس اور بہو کا تعلق البتہ ہمارے معاشرے کا شاید واحد تعلق ہے جس کی ابتدا اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ دو بالغ عورتیں، جنہوں نے نہ ایک دوسرے کو چنا، نہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزاری، نہ ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا، نہ ابھی ان کے درمیان وہ اعتماد پیدا ہوا، نہ مشترک یادیں بنیں، نہ وہ سمجھ بوجھ اور مشترک اقدار پیدا ہوئیں جو اکثر دوسرے رشتوں میں وقت کے ساتھ بنتی ہیں، انہیں پہلے دن سے ایک ہی گھر میں اس طرح رکھ دیا جاتا ہے کہ ان کے دائرہ اختیار ایک دوسرے پر چڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اکثر یہ غیر اعلانیہ طور پر طے ہوتا ہے کہ گھر میں فیصلہ کن اختیار ساس کا ہوگا۔ دوسری طرف بہو سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسی گھر کو اپنا گھر سمجھے، اس کی ذمہ داریاں نبھائے، اس سے محبت کرے اور اس سے وابستگی محسوس کرے۔ لیکن جس گھر کو اس کا اپنا کہا جاتا ہے، وہاں اسے اپنے فیصلوں کے لیے وہ جگہ نہیں ملتی جو کسی بھی بالغ انسان کو درکار ہوتی ہے۔ آخر جس جگہ پر اپنے فیصلوں کا اختیار ہی نہ ہو، وہ جگہ کسی کی اپنی کیسے ہو سکتی ہے؟ ہر بالغ انسان کو ایک ایسی جگہ درکار ہوتی ہے جہاں نا صرف اس کے فیصلوں کا
احترام ہو بلکہ اس کے اختیار کو بھی تسلیم کیا جاتا ہو۔ جس طرح ساس کا اپنے گھر میں ایک جائز دائرۂ اختیار ہونا فطری بات ہے، اسی طرح بہو کو بھی اپنے گھر میں وہی حق ملنا چاہیے۔

اسی وجہ سے نفسیات میں اس تعلق پر اتنی تحقیق ہوئی ہے۔ 2022ء میں Arizona State University کے محققین نے ساس اور بہو کے تعلق پر ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا۔ ان کا خلاصہ یہ تھا کہ لوگوں نے اپنی ساس کے ساتھ اپنی ماں کے مقابلے میں زیادہ تنازعات بیان کیے، جبکہ ماؤں نے بھی اپنی بیٹیوں کی نسبت اپنی بہوؤں کے ساتھ زیادہ اختلافات رپورٹ کیے۔ اس تحقیق کا مقصد کسی ایک فریق کو قصوروار ثابت کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ سمجھنا تھا کہ آخر اس رشتے میں کشیدگی نسبتاً زیادہ کیوں پیدا ہوتی ہے۔ مجھے اس تحقیق سے زیادہ اس کا سوال دلچسپ لگا، کیونکہ میری سمجھ میں اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ ہم اس تعلق سے ابتدا ہی میں وہ انڈرسٹینڈنگ، محبت اور کامن ویلیوز مانگتے ہیں جو دوسرے تعلق برسوں میں حاصل کرتے ہیں۔

خاندانی نفسیات کے ماہر Murray Bowen نے برسوں پہلے لکھا تھا کہ مضبوط خاندان صرف محبت سے نہیں بلکہ واضح حدود سے بنتے ہیں۔ ہر بالغ انسان کو اپنی جذباتی اور عملی خودمختاری درکار ہوتی ہے، اور جب خاندان کے اندر ان حدود کا احترام ختم ہونے لگے تو کشیدگی بڑھنے لگتی ہے۔ بعد میں Salvador Minuchin نے بھی مختلف انداز میں تقریباً یہی بات کہی کہ خاندان اس وقت زیادہ متوازن رہتے ہیں جب ہر تعلق کی اپنی جگہ اور اپنی حدود محفوظ رہیں۔

یہاں تک پہنچ کر میرا سوال ساس یا بہو سے نہیں رہتا۔ میرا سوال اس بندوبست سے ہے، بلکہ اس پورے جوائنٹ فیملی سسٹم سے ہے۔ ہر ایسے واقعے کے بعد ہم فوراً کردار کیوں ڈھونڈنے لگتے ہیں؟ بری ساس، بری بہو، برا شوہر۔ لیکن بہت کم لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ آخر ایسا ماحول بنا کیسے؟ اگر ایک نظام میں بار بار ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جہاں برسوں کی گھٹن، ناراضی اور بے بسی جمع ہوتی رہتی ہے، تو کیا ہمیں صرف لوگوں پر بات کرنی چاہیے یا اس نظام پر بھی سوال اٹھانا چاہیے جس میں یہ سب کچھ بار بار جنم لیتا ہے؟

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کچھ رشتے مناسب فاصلے کے ساتھ ہی خوبصورت رہتے ہیں۔ اور اس پوری کہانی میں، میرے نزدیک، سب وکٹمز ہیں۔ وہ بوڑھی ماں بھی، وہ بہو بھی، وہ شوہر بھی، اور وہ پانچ بچے بھی۔ ہاں، وہی پانچ بچے جن کا کسی نے سوچا ہی نہیں، اور قوی امکان ہے کہ آگے بھی نہ سوچا جائے۔ خدشہ یہی ہے کہ اس واقعے سے بھی ہم کوئی سبق نہیں سیکھیں گے۔ حسبِ معمول قصہ ختم ہوگا، کردار بدل جائیں گے، مگر نظام وہی رہے گا، اور ہم اسی نظام کو مثالی سمجھتے رہیں گے۔

بس افسوس ہے… اور بہت افسوس ہے۔

بشکریہ فیسبک وال

اپنا تبصرہ لکھیں